LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سفارتی حل کیلئے تیار، قومی خود مختاری کا دفاع کریں گے: ایرانی وزیر خارجہ ایران جنگ: امریکی وزیر جنگ کا مواخذہ کرنیکی قرارداد ایوان میں پیش اقوام متحدہ اجلاس: امریکی صدر کی خلیج تعاون کونسل رکن ممالک سے ملاقاتیں متوقع جنرل اسمبلی اجلاس: امریکا کا فلسطینی صدر اور حکام کو ویزے دینے سے انکار ایران کے جوابی حملے: امریکی فوجی اڈوں، طیاروں، دیگر نقصانات کی تصاویر سامنے آگئیں اماراتی وزیر خارجہ کی امریکی مشیر مسعد بولس سے ملاقات، سٹریٹجک تعلقات پر تبادلہ خیال صدر ٹرمپ کا امریکا میں شرح سود ایک فیصد یااس سے کم کرنے کا مطالبہ معرکہ حق میں عظیم فتح سے پاکستان کو دنیا میں نئی پہچان ملی: احسن اقبال امریکی فیڈرل ریزرو نے بنیادی شرح سود میں اضافہ کردیا غم انسان کی سوچ، فیصلہ کرنیکی صلاحیت اور یادداشت کو متاثر کرسکتا ہے: کنگ چارلس یورپی یونین کا دیگر ممالک سے ملکر اپنی سکیورٹی کونسل بنانے کا اعلان نیپال میں تباہ کن سیلاب، ہفتوں بعد بھی ہزاروں افراد لاپتہ، بیشتر لاشوں کی شناخت نہ ہوسکی سینیٹ قائمہ کمیٹی انسانی حقوق نے سانحہ پمز کی تحقیقاتی رپورٹ مسترد کردی بجلی کمپنیاں حکومتی اجازت سے بھی زائد لوڈشیڈنگ میں ملوث ہیں: اویس لغاری نئے صوبے بننے چاہئیں یہ ہمارا حق ہے: سعد خورشید کانجو

سویڈن میں بائیں بازو کی اپوزیشن نے حکمران اتحاد کو شکست دیدی

Web Desk

17 September 2026

سویڈن کے سنسنی خیز پارلیمانی انتخابات میں بائیں بازو کی اپوزیشن نے حکمران دائیں بازو کے اتحاد کو انتہائی باریک فرق سے شکست دے دی ہے۔ 99 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد میگڈالینا اینڈرسن (Magdalena Andersson) کی قیادت میں اپوزیشن اتحاد 349 کے ایوان میں 175 نشستیں حاصل کر کے پہلی پوزیشن پر آ گیا ہے، جس سے ملک میں حکومت کی تبدیلی کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔

دوسری جانب موجودہ وزیراعظم الف کرسٹرسن (Ulf Kristersson) کی قیادت میں قائم دائیں بازو کا حکمران اتحاد صرف 174 نشستیں حاصل کر سکا ہے اور اپوزیشن سے محض ایک نشست پیچھے رہ گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق دونوں بڑے سیاسی بلاکس کے درمیان مجموعی طور پر صرف 26 ہزار 169 ووٹوں کا معمولی فرق ریکارڈ کیا گیا ہے۔ حکومتی اتحاد میں روایتی دائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ ساتھ سخت گیر موقف رکھنے والی پارٹی ‘سویڈن ڈیموکریٹس’ بھی شامل تھی۔ حتمی سرکاری نتائج کے بعد اپوزیشن کی جانب سے نئی حکومت کی تشکیل کے لیے باقاعدہ عمل کا آغاز کیا جائے گا۔