LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
انتظامی یونٹس میں اضافہ پاکستان کے استحکام کے لیے ضروری ہے: خالد مقبول صدیقی امریکا شرائط مانے تو چھٹے روز آبنائے ہرمز کھلے گا، ساتویں روز مذاکرات ہونگے: ایران خیبر پختونخوا کی معدنیات عوام کی ہیں اور رہیں گی: طارق فضل چودھری اسحاق ڈار کا ایرانی اور مصری وزرائے خارجہ سے رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال خیبرپختونخوا کے عوام نے انتشاری ٹولے کو مسترد کردیا: امیر مقام مہر داد اخلاقی ایران کے نئے وزیر دفاع منتخب خواجہ آصف نے یوروکریٹس کی بیرونِ ملک ہجرت بارے سوالات اٹھا دیے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو متنازع نہ بنایا جائے: بلاول بھٹو مالدیپ کے صدر 20 اکتوبر کو پاکستان آئیں گے، کئی معاہدے و مفاہمتی یادداشتیں متوقع امریکا کا ایران سے جوہری پروگرام دوبارہ شروع نہ کرنے کی قابلِ تصدیق ضمانت کا مطالبہ پنجاب میں لیب ٹاپ اور اسکالرشپ سکیم فیز ٹو کا آغاز کر دیا: عظمیٰ بخاری دانش سکول امیر اور غریب کے درمیان فرق ختم کرنے کی کوشش ہے: شہباز شریف وزیراعظم نے اسلام آباد میں دانش سکول کاافتتاح کردیا نجران میں ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، سعودی اتحادی فوج کے 2 ارکان جاں بحق مغربی کنارے میں اسرائیلی قبضہ گیروں کا یورپی سفارت کاروں پر حملہ

ایلون مسک کا اے آئی کے ممکنہ خطرات اور حفاظت پر کئی سال پہلے فکرمند ہونے کا انکشاف

Web Desk

17 September 2026

ٹیسلا اور سپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے انکشاف کیا ہے کہ وہ ایک دہائی سے بھی زائد عرصے سے مصنوعی ذہانت (AI) کے ممکنہ خطرات اور اس کے حفاظتی پہلوؤں کے بارے میں شدید فکرمند رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ کے ذریعے ایلون مسک نے بتایا کہ انہوں نے 2014ء میں شائع ہونے والی معروف مصنف نک بوسٹروم کی کتاب ‘سوپر انٹیلیجنس’ (Superintelligence) کی تیاری میں تعاون کیا تھا، جس پر مصنف نے کتاب کے پیش لفظ میں ان کا خصوصی شکریہ بھی ادا کیا تھا۔ مسک کا کہنا تھا کہ وہ اس کتاب کی اشاعت یعنی 2014ء سے بھی پہلے اے آئی سیفٹی کے خطرات پر غور کر رہے تھے۔

ایلون مسک نے اپنی 12 سال پرانی ایک پوسٹ کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دہانی کرائی کہ انہوں نے اس وقت بھی شہریوں کو بوسٹروم کی کتاب پڑھنے کا مشورہ دیا تھا اور انتباہ جاری کیا تھا کہ مصنوعی ذہانت کے معاملے میں انتہائی محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ ٹیکنالوجی ممکنہ طور پر ایٹمی ہتھیاروں سے بھی زیادہ مہلک اور خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ ایلون مسک کا یہ حالیہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ‘اینتھروپک’ کے سی ای او ڈاریو اموڈی نے بھی جدید اے آئی ماڈلز کی سست رفتار اور زیادہ محفوظ ترقی کے ساتھ ساتھ سخت ترین حفاظتی اقدامات نافذ کرنے کا زور دار مطالبہ کیا ہے۔