LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سفارتی حل کیلئے تیار، قومی خود مختاری کا دفاع کریں گے: ایرانی وزیر خارجہ ایران جنگ: امریکی وزیر جنگ کا مواخذہ کرنیکی قرارداد ایوان میں پیش اقوام متحدہ اجلاس: امریکی صدر کی خلیج تعاون کونسل رکن ممالک سے ملاقاتیں متوقع جنرل اسمبلی اجلاس: امریکا کا فلسطینی صدر اور حکام کو ویزے دینے سے انکار ایران کے جوابی حملے: امریکی فوجی اڈوں، طیاروں، دیگر نقصانات کی تصاویر سامنے آگئیں اماراتی وزیر خارجہ کی امریکی مشیر مسعد بولس سے ملاقات، سٹریٹجک تعلقات پر تبادلہ خیال صدر ٹرمپ کا امریکا میں شرح سود ایک فیصد یااس سے کم کرنے کا مطالبہ معرکہ حق میں عظیم فتح سے پاکستان کو دنیا میں نئی پہچان ملی: احسن اقبال امریکی فیڈرل ریزرو نے بنیادی شرح سود میں اضافہ کردیا غم انسان کی سوچ، فیصلہ کرنیکی صلاحیت اور یادداشت کو متاثر کرسکتا ہے: کنگ چارلس یورپی یونین کا دیگر ممالک سے ملکر اپنی سکیورٹی کونسل بنانے کا اعلان نیپال میں تباہ کن سیلاب، ہفتوں بعد بھی ہزاروں افراد لاپتہ، بیشتر لاشوں کی شناخت نہ ہوسکی سینیٹ قائمہ کمیٹی انسانی حقوق نے سانحہ پمز کی تحقیقاتی رپورٹ مسترد کردی بجلی کمپنیاں حکومتی اجازت سے بھی زائد لوڈشیڈنگ میں ملوث ہیں: اویس لغاری نئے صوبے بننے چاہئیں یہ ہمارا حق ہے: سعد خورشید کانجو

ایلون مسک کا اے آئی کے ممکنہ خطرات اور حفاظت پر کئی سال پہلے فکرمند ہونے کا انکشاف

Web Desk

17 September 2026

ٹیسلا اور سپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے انکشاف کیا ہے کہ وہ ایک دہائی سے بھی زائد عرصے سے مصنوعی ذہانت (AI) کے ممکنہ خطرات اور اس کے حفاظتی پہلوؤں کے بارے میں شدید فکرمند رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ کے ذریعے ایلون مسک نے بتایا کہ انہوں نے 2014ء میں شائع ہونے والی معروف مصنف نک بوسٹروم کی کتاب ‘سوپر انٹیلیجنس’ (Superintelligence) کی تیاری میں تعاون کیا تھا، جس پر مصنف نے کتاب کے پیش لفظ میں ان کا خصوصی شکریہ بھی ادا کیا تھا۔ مسک کا کہنا تھا کہ وہ اس کتاب کی اشاعت یعنی 2014ء سے بھی پہلے اے آئی سیفٹی کے خطرات پر غور کر رہے تھے۔

ایلون مسک نے اپنی 12 سال پرانی ایک پوسٹ کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دہانی کرائی کہ انہوں نے اس وقت بھی شہریوں کو بوسٹروم کی کتاب پڑھنے کا مشورہ دیا تھا اور انتباہ جاری کیا تھا کہ مصنوعی ذہانت کے معاملے میں انتہائی محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ ٹیکنالوجی ممکنہ طور پر ایٹمی ہتھیاروں سے بھی زیادہ مہلک اور خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ ایلون مسک کا یہ حالیہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ‘اینتھروپک’ کے سی ای او ڈاریو اموڈی نے بھی جدید اے آئی ماڈلز کی سست رفتار اور زیادہ محفوظ ترقی کے ساتھ ساتھ سخت ترین حفاظتی اقدامات نافذ کرنے کا زور دار مطالبہ کیا ہے۔