LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
انتظامی یونٹس یا نئے صوبے لازم ہو چکے ہیں: فاروق ستار حوثیوں کا سعودی عرب کے ساحلی شہر ینبع میں آرامکو تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی کوشش، جمعۃ المبارک ’’یومِ مذمت‘‘ کے طور پر منانے کا اعلان پٹرولیم لیوی پر حکومت اور جماعت اسلامی کے مذاکرات ختم، 20 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کا اعلان ملک میں جاگیرداروں اور وڈیروں کا راج، غریبوں پر ٹیکسز بڑھا ر ہے: حافظ نعیم الرحمان پاکستان کا بھارتی بحری جہاز کی خصوصی اقتصادی زون میں خلاف ورزی پر شدید احتجاج سہیل آفریدی کو لاہور میں ڈرامہ کرنا تھا تو الحمرا ہال کھلوا دیتی: عظمیٰ بخاری امریکا اور حوثیوں کے درمیان عمان میں خفیہ ملاقات کا انکشاف ایلون مسک کا اے آئی کے ممکنہ خطرات اور حفاظت پر کئی سال پہلے فکرمند ہونے کا انکشاف نواز شریف نے ڈاکٹر نجیب نقی خان کو صدر آزاد کشمیر نامزد کر دیا آن لائن بیٹنگ انکوائری: قومی کرکٹر محمد رضوان نے NCCIA کے نوٹسز کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا امریکی ایوان نمائندگان نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد منظور کر لی پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں تین مرتبہ بہتری آئی: وزیر خزانہ کا دعویٰ پٹرول 6 روپے 88 پیسے اور ڈیزل 5 روپے 62 پیسے فی لٹر مہنگا گوتریس کی عالمی کشیدگی پر تشویش، حوثیوں اور سعودی عرب کو مذاکرات کی اپیل

امریکی ایوان نمائندگان نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد منظور کر لی

Web Desk

17 September 2026

امریکی ایوان نمائندگان (House of Representatives) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے خلاف جنگی اختیارات کو محدود کرنے کے لیے ایک اہم قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کر لی ہے۔ اس قرارداد میں صدر سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف جاری غیر معینہ عسکری کارروائیوں کا خاتمہ کریں اور امریکی فوجیوں کی واپسی کے عمل کا آغاز کریں۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ تیسرا موقع ہے کہ ایوان نمائندگان نے صدر کے عسکری اختیارات کو قانونی دائرہ کار میں لانے کی کوشش کی ہے۔ اس بار ڈیموکریٹس کے ساتھ ساتھ بعض ریپبلکن ارکان نے بھی انتظامیہ کی پالیسیوں سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔

نومبر کے وسط مدتی (Midterm) انتخابات سے چند ہفتے قبل سامنے آنے والی اس پیش رفت کو ڈیموکریٹس کی جانب سے ایران جنگ کے خلاف اب تک کی سب سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اگرچہ ایوان سے یہ قرارداد منظور ہو چکی ہے، تاہم اسے باقاعدہ قانون کا درجہ حاصل کرنے کے لیے سینیٹ کی منظوری اور ممکنہ صدارتی ویٹو سے نمٹنے جیسے دشوار آئینی مراحل سے گزرنا ہوگا۔ یہ سیاسی کھینچ تان ایک ایسے وقت میں تیز ہوئی ہے جب جنگ کی معاشی اور مالی لاگت امریکی سیاست کا مرکزی موضوع بنی ہوئی ہے۔ ‘کانگریشنل بجٹ آفس’ (CBO) کے اعداد و شمار کے مطابق اگست 2026ء تک اس جنگ پر امریکہ کے تقریباً 38 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں اور آنے والے دنوں میں ان اخراجات میں مزید غیر معمولی اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔