LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سفارتی حل کیلئے تیار، قومی خود مختاری کا دفاع کریں گے: ایرانی وزیر خارجہ ایران جنگ: امریکی وزیر جنگ کا مواخذہ کرنیکی قرارداد ایوان میں پیش اقوام متحدہ اجلاس: امریکی صدر کی خلیج تعاون کونسل رکن ممالک سے ملاقاتیں متوقع جنرل اسمبلی اجلاس: امریکا کا فلسطینی صدر اور حکام کو ویزے دینے سے انکار ایران کے جوابی حملے: امریکی فوجی اڈوں، طیاروں، دیگر نقصانات کی تصاویر سامنے آگئیں اماراتی وزیر خارجہ کی امریکی مشیر مسعد بولس سے ملاقات، سٹریٹجک تعلقات پر تبادلہ خیال صدر ٹرمپ کا امریکا میں شرح سود ایک فیصد یااس سے کم کرنے کا مطالبہ معرکہ حق میں عظیم فتح سے پاکستان کو دنیا میں نئی پہچان ملی: احسن اقبال امریکی فیڈرل ریزرو نے بنیادی شرح سود میں اضافہ کردیا غم انسان کی سوچ، فیصلہ کرنیکی صلاحیت اور یادداشت کو متاثر کرسکتا ہے: کنگ چارلس یورپی یونین کا دیگر ممالک سے ملکر اپنی سکیورٹی کونسل بنانے کا اعلان نیپال میں تباہ کن سیلاب، ہفتوں بعد بھی ہزاروں افراد لاپتہ، بیشتر لاشوں کی شناخت نہ ہوسکی سینیٹ قائمہ کمیٹی انسانی حقوق نے سانحہ پمز کی تحقیقاتی رپورٹ مسترد کردی بجلی کمپنیاں حکومتی اجازت سے بھی زائد لوڈشیڈنگ میں ملوث ہیں: اویس لغاری نئے صوبے بننے چاہئیں یہ ہمارا حق ہے: سعد خورشید کانجو

پاکستان کا بھارتی بحری جہاز کی خصوصی اقتصادی زون میں خلاف ورزی پر شدید احتجاج

Web Desk

17 September 2026

پاکستان نے بھارتی بحری جہاز ‘آئی این ایس کولکتہ’ (INS Kolkata) کی جانب سے پاکستانی خصوصی اقتصادی زون (EEZ) کی خلاف ورزی اور پاک بحریہ کی جاری مشقوں کے علاقے میں داخل ہونے کی خطرناک کوششوں پر شدید احتجاج درج کرایا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق پاک بحریہ یکم ستمبر سے اپنے اقتصادی زون میں ‘سی اسپارک 26’ (Seaspark 26) مشقیں کر رہی تھی، جس کے دوران 7 ستمبر سے بھارتی بحری جہاز اور اس کے ہیلی کاپٹر نے مشقوں کے احاطے میں مسلسل مداخلت اور اشتعال انگیز سرگرمیاں جاری رکھیں۔ دفتر خارجہ نے ان اقدام کو معمول کی تعیناتی قرار دینے کے بھارتی مؤقف کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے 1991ء کے دوطرفہ معاہدے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

ترجمان کے مطابق 15 ستمبر کو ‘آئی این ایس کولکتہ’ نے انتہائی خطرناک انداز میں اپنا رخ تبدیل کیا جس کے باعث اس کی رگڑ پاکستانی بحری جہاز ‘پی این ایس حنین’ (PNS Hunain) سے ہوئی۔ پی این ایس حنین نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے تصادم سے بچنے کی ممکنہ کوشش کی، جبکہ واقعے کے بعد بھارتی جہاز تیز رفتاری سے فرار ہو گیا۔ دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ پاک بحریہ کے ذمہ دارانہ طرزِ عمل نے ایک سنگین بحران کو ٹالا۔ پاکستان نے بھارت کی جانب سے حقائق مسخ کرنے اور پاکستانی ناظم الامور کو طلب کر کے سفارتی سطح پر احتجاج کے عمل کو نامناسب قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ نئی دہلی خطے کے امن کو خطرے میں ڈالنے والے ایسے واقعات کے اعادے کو فوراً روکے۔