LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سفارتی حل کیلئے تیار، قومی خود مختاری کا دفاع کریں گے: ایرانی وزیر خارجہ ایران جنگ: امریکی وزیر جنگ کا مواخذہ کرنیکی قرارداد ایوان میں پیش اقوام متحدہ اجلاس: امریکی صدر کی خلیج تعاون کونسل رکن ممالک سے ملاقاتیں متوقع جنرل اسمبلی اجلاس: امریکا کا فلسطینی صدر اور حکام کو ویزے دینے سے انکار ایران کے جوابی حملے: امریکی فوجی اڈوں، طیاروں، دیگر نقصانات کی تصاویر سامنے آگئیں اماراتی وزیر خارجہ کی امریکی مشیر مسعد بولس سے ملاقات، سٹریٹجک تعلقات پر تبادلہ خیال صدر ٹرمپ کا امریکا میں شرح سود ایک فیصد یااس سے کم کرنے کا مطالبہ معرکہ حق میں عظیم فتح سے پاکستان کو دنیا میں نئی پہچان ملی: احسن اقبال امریکی فیڈرل ریزرو نے بنیادی شرح سود میں اضافہ کردیا غم انسان کی سوچ، فیصلہ کرنیکی صلاحیت اور یادداشت کو متاثر کرسکتا ہے: کنگ چارلس یورپی یونین کا دیگر ممالک سے ملکر اپنی سکیورٹی کونسل بنانے کا اعلان نیپال میں تباہ کن سیلاب، ہفتوں بعد بھی ہزاروں افراد لاپتہ، بیشتر لاشوں کی شناخت نہ ہوسکی سینیٹ قائمہ کمیٹی انسانی حقوق نے سانحہ پمز کی تحقیقاتی رپورٹ مسترد کردی بجلی کمپنیاں حکومتی اجازت سے بھی زائد لوڈشیڈنگ میں ملوث ہیں: اویس لغاری نئے صوبے بننے چاہئیں یہ ہمارا حق ہے: سعد خورشید کانجو

پٹرولیم لیوی پر حکومت اور جماعت اسلامی کے مذاکرات ختم، 20 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کا اعلان

Web Desk

17 September 2026

پنجاب ہاؤس میں حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان پٹرولیم لیوی کے خاتمے اور معاشی ریلیف کے حوالے سے مذاکرات کا چوتھا دور اختتام پذیر ہو گیا۔ مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے بتایا کہ جماعت اسلامی کا احتجاج ایک پرامن، آئینی اور جمہوری طریقہ ہے اور پٹرولیم لیوی کے خلاف ملک بھر میں 45 سے زائد مقامات پر دھرنے جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز کے معاملے پر بھی پہلے حکومت انکار کرتی رہی، لیکن جماعت اسلامی کے دلائل کے بعد معاہدوں کو ریوائز کیا گیا اور کل وزیر توانائی اویس لغاری نے بھی تسلیم کیا کہ جماعت اسلامی کا موقف درست تھا۔

لیاقت بلوچ نے اعلان کیا کہ تمام تر گفتگو کے باوجود جماعت اسلامی کی جانب سے 20 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کی کال حتمی ہے اور اس پر عملدرآمد ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بیڈ گورننس، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں مبینہ بدعنوانی اور حکومت کے غیر ضروری اخراجات بنیادی مسائل ہیں۔ جماعت اسلامی نے حکومت کے سامنے تجویز رکھی کہ پالیسی ریٹ میں تین فیصد کمی سے سیکڑوں ارب روپے کی بچت کی جا سکتی ہے، جبکہ صوبوں کو منتقل شدہ وزارتیں وفاق میں ختم ہونی چاہئیں۔ ان کے مطابق حکومتی وفد نے تسلیم کیا کہ کوئی بھی ریلیف دینے سے قبل مشاورت ضروری تھی اور فی الوقت حکومت نے مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے وقت مانگا ہے۔