LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا نے حزب اللہ کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کر دیا افغانستان میں حراست میں لیے گئے اقوام متحدہ کے 2 اہلکار رہا ترکیہ، مصر اور قطر کی غزہ پر حالیہ اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کر دیا گیا روسی جوہری توانائی کارپوریشن کا ایران میں جوہری منصوبے جاری رکھنے کا اعلان صدر مملکت کا پاکستان میں قازقستان کے سفیر یرژان کستافن کی خدمات کا اعتراف امریکا کا ایران کیساتھ کاروبار کرنے والے ممالک کیخلاف بھی سخت اقدامات کا اعلان بی این پی کے سینئر رہنما مرزا فخر الاسلام بنگلادیش کے نئے صدر منتخب پٹرولیم لیوی کے خاتمے تک تحریک جاری رہے گی، اسلام آباد کیلئے کال دوں گا: حافظ نعیم الرحمان حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کردیا بلاول بھٹو سے پیپلز پارٹی رہنماؤں کی ملاقات، ملکی سیاسی صورتحال پر گفتگو بیرونی سرمایہ کاری لانے کا مشن، صوبائی وزیر چوہدری شافع کینیڈا پہنچ گئے بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی، فیصلے کیخلاف درخواست دوبارہ دائر کر رہے ہیں: رانا ثنا نور مقدم قتل کیس، مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت پر نظرثانی کی درخواست خارج، فیصلہ جاری عمران خان کو شفا انٹرنیشنل منتقل کرنے کی تیاری، بہن ڈاکٹر عظمیٰ اور ذاتی معالج کی نگرانی میں طبی معائنہ مکمل

بی این پی کے سینئر رہنما مرزا فخر الاسلام بنگلادیش کے نئے صدر منتخب

Web Desk

21 August 2026

بنگلادیشی ارکانِ پارلیمنٹ نے حکمران جماعت بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے سینئر رہنما مرزا فخر الاسلام عالمگیر کو ملک کا نیا صدر منتخب کر لیا ہے۔ اگرچہ صدارت کا عہدہ بڑی حد تک آئینی و رسمی ہے، تاہم وہ اب سربراہِ مملکت اور مسلح افواج کے کمانڈر انچیف کے فرائض انجام دیں گے، جبکہ انتظامی اختیارات بدستور وزیراعظم اور ان کی کابینہ کے پاس رہیں گے۔ 78 سالہ مرزا فخر الاسلام عالمگیر نے پارلیمانی ووٹنگ میں اپوزیشن اتحاد کے امیدوار ریٹائرڈ آرمی کرنل اولی احمد کو شکست دی۔

یہ صدارتی انتخاب سابق صدر محمد شہاب الدین کے گزشتہ ماہ خرابیِ صحت کی بنا پر قبل از وقت مستعفی ہونے کی وجہ سے عمل میں آیا۔ واضح رہے کہ سال 2024 میں شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کے بعد بی این پی رواں سال اقتدار میں آئی تھی۔ مرزا فخر الاسلام عالمگیر 2016 سے اپنی نامزدگی تک بی این پی کے سیکرٹری جنرل کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے اور حسینہ واجد کے دور میں اپوزیشن کی ایک توانا آواز بن کر سامنے آئے، جس کی پاداش میں انہیں متعدد بار جیل اور مقدمات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔