LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکہ ہی اسرائیل کا واحد طاقتور اتحادی نہیں، ’ایک چھوٹا سا ملک انڈیا‘ بھی ہے: نیتن یاہو ایران کا تہران کی فضائی حدود مکمل طور پر بند رکھنے کا اعلان ایران اور قطری حکام کی دوحہ میں بیٹھک، بحری تجارت بحال کرنے کا اعلان لبنان کے اکثریتی مسیحی قصبے رمیش کے میئر نے نیتن یاہو کا دعویٰ مسترد کردیا لبنانی مسیحی دیہات نے حزب اللہ سے تحفظ کیلئے اسرائیل سے الحاق کا اظہار کیا: نیتن یاہو کا دعویٰ سندھ طاس معاہدے پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، جنگ لڑنا پڑی تو لڑیں گے: بلاول بھٹو سانحہ بلدیہ تفصیلی فیصلہ جاری, سزائے موت پانے والے ملزمان رحمان بھولا اور زبیر چریا کو بری کر دیا سہیل آفریدی کی ضم اضلاع میں عوامی خدمات بہتر بنانے کیلئے تین ماہ کی مہلت نیویارک کے مشہور ساحلی علاقے کونی آئی لینڈ میں فائرنگ، 4 بچوں سمیت 8 افراد زخمی اسرائیل کی سفاکیت کم نہ ہوئی، ڈرون حملے میں مزید 2 فلسطینی شہید، متعدد زخمی یورپ میں شدید گرمی کی لہر برقرار، اموات 4 ہزار سے تجاوز کر گئیں اسرائیلی فوج کے سربراہ کا لبنان میں فیصلہ کن کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں، باقر قالیباف ٹرمپ نے کہا وٹکوف، جیرڈ کشنر دوبارہ ماسکو آنے کیلئے تیار ہیں: ترجمان کریملن صدر ٹرمپ انقرہ میں نیٹو ممالک کے اجلاس میں شرکت کریں گے، وائٹ ہاؤس

نیویارک: 38 ملین ڈالر میڈیکیڈ فراڈ کیس، پاکستانی نژاد کاروباری شخصیت سمیت 8 افراد گرفتار

Web Desk

19 June 2026

امریکی ریاست نیویارک کے شہر بروکلین میں وفاقی حکام نے ایک مبینہ بڑے مالیاتی اسکینڈل میں کارروائی کرتے ہوئے متعدد افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جن پر الزام ہے کہ وہ میڈیکیڈ کے تحت 38 ملین ڈالر سے زائد کی جعلی ادائیگیوں اور کِک بیک اسکیم میں ملوث رہے۔

گرفتار ہونے والوں میں پاکستانی نژاد معروف کاروباری شخصیت اور کمیونٹی بورڈ 13 کے رکن پرویز صدیقی سمیت سات دیگر افراد شامل ہیں۔

وفاقی الزامات کے مطابق یہ مبینہ اسکیم دو Adult Day Care مراکز اے پی این اے Adult Day Care اور آشیانہ سوشل Adult Day Care کے ذریعے 2019 سے دسمبر 2025 تک چلائی جاتی رہی۔

تحقیقات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بزرگ شہریوں کو ایسے مراکز میں رجسٹر کیا جاتا تھا جہاں وہ اکثر حاضر نہیں ہوتے تھے یا بالکل نہیں جاتے تھے، لیکن ان کے نام پر میڈیکیڈ سے باقاعدہ ادائیگیاں وصول کی جاتی رہیں۔

الزامات کے مطابق بعض افراد کو مراکز میں شامل ہونے کے بدلے نقد رقوم دی جاتی تھیں، جبکہ انہیں دیگر افراد کو بھی شامل کرنے پر کِک بیک فراہم کیا جاتا تھا۔

تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ جعلی حاضری شیٹس تیار کی گئیں، ریکارڈ میں رد و بدل کیا گیا اور فنڈز کو مختلف کمپنیوں کے ذریعے منتقل کر کے چھپانے کی کوشش کی گئی۔

ذرائع کے مطابق اس نیٹ ورک میں بعض مارکیٹرز مخصوص کمیونٹیز کے افراد کو ہدف بنا کر انہیں پروگرام میں شامل کرتے اور مالی فوائد حاصل کرتے تھے۔

وفاقی حکام نے اس کیس میں مزید تحقیقات جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ ملزمان کے خلاف عدالتی کارروائی ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔