LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
بارش، آندھی اور طوفان کا خدشہ، پنجاب میں کا الرٹ جاری کردیا سال کے آغاز کے مقابلے میں پٹرول 145، ڈیزل 139 روپے مہنگا ہوا ملک کی معاشی ترقی کیلیے موثر اقدامات کی ضرورت، احسن اقبال کراچی، عمرہ زائرین اور بین الاقوامی مسافروں کی ویکسی نیشن شروع بغیر کھڑکیوں والا حیرت انگیز جدید مسافر طیارے کی تیاری پولیس نے تمام اراکین پارلیمنٹ کی سیکیورٹی واپس لے لی ہے، شفیع جان پیرس میں بچوں کے جنسی استحصال نیٹ ورک, بھارتی شہری کو 20 سال قید اسلام آباد؛ طالبہ کو فراڈ سے موت کے منہ میں پہنچانے والا ملزم گرفتار، مقدمہ بھی درج آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکراگیا؛ خوفناک آگ بھڑک اُٹھی مولانا فضل الرحمان کا وزیراعظم سے ملاقات کے بعد پی ٹی آئی سے رابطہ ریاض ایئرپورٹ پر حملے کے بعد ٹرمپ کا حوثیوں کے خلاف سعودی کارروائی میں شمولیت پر غور ریاض ایئرپورٹ حملہ، پروازیں منسوخ، کینیڈا سمیت متعدد ممالک کی سفری ہدایات امریکا میں فائرنگ کا ہولناک واقعہ، 9 افراد ہلاک، 2 بچے بھی شامل صوابی میں ہمارا پلان سن کر مخالفین کے ہوش اڑ جائیں گے، سہیل آفریدی کراچی؛ آٹے کی قیمت میں مزید اضافے کا خدشہ ہے، ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن

صارفین کا ڈیجیٹل ڈیٹا خاموشی سے بڑے پیمانے پر جمع کیے جانے کا انکشاف

Web Desk

14 September 2026

اسلام آباد: جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کے بے درغ استعمال کے دور میں عالمی پلیٹ فارمز اور اسمارٹ فون ایپلی کیشنز کی جانب سے صارفین کا ذاتی اور حساس ڈیٹا خاموشی سے بڑے پیمانے پر جمع کیے جانے کے سنگین انکشافات سامنے آئے ہیں۔

ایک حالیہ ٹیکنالوجی ویڈیو اور سائبر ماہرین کے مطابق، فیس بک، انسٹاگرام اور گوگل جیسے عالمی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز صارفین کے اسمارٹ فونز اور آن لائن سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ یہ ایپس براؤزنگ ہسٹری، جی پی ایس لوکیشن، کانٹیکٹس، میڈیا فائلز اور مائیکروفون تک رسائی حاصل کر کے ذاتی معلومات، لوکیشن ہسٹری اور سرچ پیٹرنز کو اپنے سرورز پر محفوظ کر رہی ہیں۔

ماہرینِ ٹیکنالوجی کا کہنا ہے کہ بیشتر ایپس انسٹالیشن کے وقت ”Accept“ یا ”Allow“ کے بٹن کے ذریعے صارفین سے مختلف قسم کی اختیاری اور لازمی اجازتیں (Permissions) حاصل کر لیتی ہیں۔ عام صارفین تکنیکی تفصیلات اور پرائیویسی پالیسی کا ادراک کیے بغیر ان تمام شرائط کو قبول کر لیتے ہیں، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایپس نہ صرف آن لائن بلکہ آف لائن سرگرمیوں، ڈیوائس پیٹرنز اور لوکیشن سگنلز کا مسلسل ڈیٹا اکٹھا کرتی رہتی ہیں۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس طویل مدتی ڈیٹا اور جدید الگورتھمز (Algorithms) کا تجزیہ کر کے کمپنیوں کی جانب سے صارفین کے سیاسی نظریات، مذہبی رجحانات، خریدارانہ رویوں اور انتہائی ذاتی ترجیحات کا درست اندازہ لگایا جاتا ہے۔

علاوہ ازیں، رپورٹ میں یہ تعجب خیز حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ دنیا بھر میں فیس بک جیسے پلیٹ فارمز کے ڈاؤن لوڈز کا حجم اربوں میں ہے، جبکہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے مجموعی صارفین کی تعداد اس سے کم ہے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ایک ہی صارف کا ڈیٹا متعدد ڈیوائسز اور اکاؤنٹس کے ذریعے ڈیجیٹل اسپیئرز میں کس حد تک پھیل چکا ہے۔ اس صورتحال نے جدید دنیا میں صارفین کے بنیادی پرائیویسی حقوق، ڈیٹا کے تحفظ اور ڈیجیٹل حقوق پر ایک بار پھر نوائے وقت کے لیے سوالات اٹھا دیے ہیں۔