LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
یمنی فوج کی 736 کارروائیاں، حوثیوں کے 307 کمانڈر اور جنگجو ہلاک سعودی عرب کے صنعا پر فضائی حملے، 11 حوثی باغی ہلاک سعودی عرب میں حوثیوں کے داغے گئے 2 بیلسٹک میزائلز فضا میں ہی تباہ سرگودھا: گرفتار ٹیچر کے موبائل سے درجن سے زائد کمسن بچوں کی نازیبا ویڈیوز برآمد لاڑکانہ: پیٹرول پمپ میں خوفناک آتشزدگی، آئل ٹینکر سمیت متعدد گاڑیاں جل کر راکھ روس، یوکرین کا انسانی امداد اور شہریوں کے انخلا کیلئے کارروائیاں روکنے کا فیصلہ صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا دورۂ جرمنی مکمل، وطن واپسی کے لیے روانہ سہیل آفریدی دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتے رہے، شواہد موجود ہیں: عقیل ملک متحدہ عرب امارات نے اقوام متحدہ کی سربراہی کیلئے لانا نسیبہ کو نامزد کر دیا پب جی گیم سے متاثر ہو کر بینک ڈکیتی کے ملزم کی درخواست ضمانت خارج میر رضا کیس میں اہم پیش رفت، ڈی آئی جی ویسٹ جے آئی ٹی کے سربراہ مقرر اسحاق ڈار کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی کا اجلاس، گندم مہنگی کرنے کے رجحان پر اظہارِ تشویش ملتان میں مبینہ زیادتی و رابری کا ڈراپ سین، وقوعہ منصوبہ بندی کے تحت رچایا گیا کشمیر پاکستان کی شہ رگ، دونوں لازم و ملزوم ہیں: صدر آزاد کشمیر ساہیوال میں بھی ای چالان سسٹم کا آغاز، ٹریفک خلاف ورزیوں کی نگرانی شروع

صارفین کا ڈیجیٹل ڈیٹا خاموشی سے بڑے پیمانے پر جمع کیے جانے کا انکشاف

Web Desk

14 September 2026

اسلام آباد: جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کے بے درغ استعمال کے دور میں عالمی پلیٹ فارمز اور اسمارٹ فون ایپلی کیشنز کی جانب سے صارفین کا ذاتی اور حساس ڈیٹا خاموشی سے بڑے پیمانے پر جمع کیے جانے کے سنگین انکشافات سامنے آئے ہیں۔

ایک حالیہ ٹیکنالوجی ویڈیو اور سائبر ماہرین کے مطابق، فیس بک، انسٹاگرام اور گوگل جیسے عالمی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز صارفین کے اسمارٹ فونز اور آن لائن سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ یہ ایپس براؤزنگ ہسٹری، جی پی ایس لوکیشن، کانٹیکٹس، میڈیا فائلز اور مائیکروفون تک رسائی حاصل کر کے ذاتی معلومات، لوکیشن ہسٹری اور سرچ پیٹرنز کو اپنے سرورز پر محفوظ کر رہی ہیں۔

ماہرینِ ٹیکنالوجی کا کہنا ہے کہ بیشتر ایپس انسٹالیشن کے وقت ”Accept“ یا ”Allow“ کے بٹن کے ذریعے صارفین سے مختلف قسم کی اختیاری اور لازمی اجازتیں (Permissions) حاصل کر لیتی ہیں۔ عام صارفین تکنیکی تفصیلات اور پرائیویسی پالیسی کا ادراک کیے بغیر ان تمام شرائط کو قبول کر لیتے ہیں، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایپس نہ صرف آن لائن بلکہ آف لائن سرگرمیوں، ڈیوائس پیٹرنز اور لوکیشن سگنلز کا مسلسل ڈیٹا اکٹھا کرتی رہتی ہیں۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس طویل مدتی ڈیٹا اور جدید الگورتھمز (Algorithms) کا تجزیہ کر کے کمپنیوں کی جانب سے صارفین کے سیاسی نظریات، مذہبی رجحانات، خریدارانہ رویوں اور انتہائی ذاتی ترجیحات کا درست اندازہ لگایا جاتا ہے۔

علاوہ ازیں، رپورٹ میں یہ تعجب خیز حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ دنیا بھر میں فیس بک جیسے پلیٹ فارمز کے ڈاؤن لوڈز کا حجم اربوں میں ہے، جبکہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے مجموعی صارفین کی تعداد اس سے کم ہے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ایک ہی صارف کا ڈیٹا متعدد ڈیوائسز اور اکاؤنٹس کے ذریعے ڈیجیٹل اسپیئرز میں کس حد تک پھیل چکا ہے۔ اس صورتحال نے جدید دنیا میں صارفین کے بنیادی پرائیویسی حقوق، ڈیٹا کے تحفظ اور ڈیجیٹل حقوق پر ایک بار پھر نوائے وقت کے لیے سوالات اٹھا دیے ہیں۔