LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
محمد بن سلمان کی سینٹکام سربراہ سے ملاقات، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال صدر مملکت نے انڈونیشین بحریہ کے سربراہ کو نشان امتیاز سے نواز دیا پبلک چارج قانون میں توسیع پر ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف عدالت سے رجوع: نیویارک سٹی کی قیادت میں امریکی شہروں کا مقدمہ دائر برطانیہ سے علیحدگی کی مہم تیز، سکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ کا آزادی کا مطالبہ پی ٹی آئی کے 24 اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ: کم آمدن طبقے کے لیے 75 ارب روپے کے فیول ریلیف پیکیج متحدہ نے کمیٹی میں تمام شقوں کی حمایت کی، اسمبلی میں مکر گئی: شرجیل میمن لاہور آمد: وزیراعلیٰ کے پی کے سہیل آفریدی کا دو موریا پل پر خطاب، پنجاب پولیس کی سیکیورٹی لینے سے انکار اور حکومت فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے انڈونیشین بحریہ کے سربراہ کی ملاقات ڈیجیٹل معیشت پاکستان کے ترقیاتی ایجنڈے کا مرکز ہے: احسن اقبال سندھ بلدیاتی ترمیمی ایکٹ: سپیشل کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش، ایم کیو ایم کا احتجاج پوٹھوہار اور بالائی خیبر پختونخوا میں 17 ستمبر تک شدید بارش کا الرٹ ملک میں فاشزم اور معاشی بحران عروج پر، 27 ستمبر کو عوام کے حقوق اور آئین کی بحالی کے لیے نکلیں گے: راجہ ناصر عباس عدالتیں اور پارلیمنٹ سیاسی معاملات میں مداخلت بند کریں، مسائل کا سیاسی حل نکالا جائے: بیرسٹر گوہر علي خان اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا مانیٹری پالیسی کا اعلان: شرحِ سود 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

صارفین کا ڈیجیٹل ڈیٹا خاموشی سے بڑے پیمانے پر جمع کیے جانے کا انکشاف

Web Desk

14 September 2026

اسلام آباد: جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کے بے درغ استعمال کے دور میں عالمی پلیٹ فارمز اور اسمارٹ فون ایپلی کیشنز کی جانب سے صارفین کا ذاتی اور حساس ڈیٹا خاموشی سے بڑے پیمانے پر جمع کیے جانے کے سنگین انکشافات سامنے آئے ہیں۔

ایک حالیہ ٹیکنالوجی ویڈیو اور سائبر ماہرین کے مطابق، فیس بک، انسٹاگرام اور گوگل جیسے عالمی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز صارفین کے اسمارٹ فونز اور آن لائن سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ یہ ایپس براؤزنگ ہسٹری، جی پی ایس لوکیشن، کانٹیکٹس، میڈیا فائلز اور مائیکروفون تک رسائی حاصل کر کے ذاتی معلومات، لوکیشن ہسٹری اور سرچ پیٹرنز کو اپنے سرورز پر محفوظ کر رہی ہیں۔

ماہرینِ ٹیکنالوجی کا کہنا ہے کہ بیشتر ایپس انسٹالیشن کے وقت ”Accept“ یا ”Allow“ کے بٹن کے ذریعے صارفین سے مختلف قسم کی اختیاری اور لازمی اجازتیں (Permissions) حاصل کر لیتی ہیں۔ عام صارفین تکنیکی تفصیلات اور پرائیویسی پالیسی کا ادراک کیے بغیر ان تمام شرائط کو قبول کر لیتے ہیں، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایپس نہ صرف آن لائن بلکہ آف لائن سرگرمیوں، ڈیوائس پیٹرنز اور لوکیشن سگنلز کا مسلسل ڈیٹا اکٹھا کرتی رہتی ہیں۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس طویل مدتی ڈیٹا اور جدید الگورتھمز (Algorithms) کا تجزیہ کر کے کمپنیوں کی جانب سے صارفین کے سیاسی نظریات، مذہبی رجحانات، خریدارانہ رویوں اور انتہائی ذاتی ترجیحات کا درست اندازہ لگایا جاتا ہے۔

علاوہ ازیں، رپورٹ میں یہ تعجب خیز حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ دنیا بھر میں فیس بک جیسے پلیٹ فارمز کے ڈاؤن لوڈز کا حجم اربوں میں ہے، جبکہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے مجموعی صارفین کی تعداد اس سے کم ہے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ایک ہی صارف کا ڈیٹا متعدد ڈیوائسز اور اکاؤنٹس کے ذریعے ڈیجیٹل اسپیئرز میں کس حد تک پھیل چکا ہے۔ اس صورتحال نے جدید دنیا میں صارفین کے بنیادی پرائیویسی حقوق، ڈیٹا کے تحفظ اور ڈیجیٹل حقوق پر ایک بار پھر نوائے وقت کے لیے سوالات اٹھا دیے ہیں۔