LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
خواتین کے لیے ’اپنا روزگار پروگرام‘ میرا خواب ہے: مریم نواز آبنائے ہرمز کے قریب نئی کشیدگی، بندر عباس اور جزیرہ قشم کے قریب یکے بعد دیگرے دھماکے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر دو روزہ سرکاری دورے پر ترکیہ پہنچ گئے نئی گج ڈیم کی تعمیر مکمل ہونے تک عدالتی مداخلت پر پابندی اسلام نے 14 صدیاں قبل خواتین کو مساوات اور معاشی حقوق دیے: یوسف رضا گیلانی ٹانک میں پولیس کی بکتر بند گاڑی کے قریب دھماکا، 2 اہلکار شہید، متعدد زخمی او آئی سی کانفرنس، خواتین کی ترقی مسلم دنیا کی خوشحالی کی ضمانت ہے: اعظم نذیر وزیراعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر قطر پہنچ گئے، نواز شریف بھی ہمراہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز پر مشترکہ طریقہ کار میں امریکا رکاوٹ بن رہا ہے: اسماعیل بقائی ضلع دیامر میں سیلابی ریلوں سے تباہی، متعدد مکانات اور رابطہ پل بہہ گئے وفاقی آئینی عدالت کا تاریخی فیصلہ؛ نئی گج ڈیم کیس میں ہائی کورٹ کا حکم کالعدم یوکرینی صدر نے وزیراعظم یولیا کو عہدے سے ہٹا دیا، حکومت مستعفی وفاق اپنے نظام کی خامیوں کا بوجھ عوام پر ڈالنے کے بجائے انہیں دور کرے، سہیل آفریدی بنگلہ دیش میں بارشوں اور سیلاب سے تباہی، اموات کی تعداد 52 ہوگئی مریم نواز سے پرتگال کے سفیر کی ملاقات، تجارت، سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق

بجلی، گیس کی غیر علانیہ لوڈشیڈنگ پر درخواست جھوٹی قرار، جرمانہ عائد

Web Desk

4 June 2026

لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے بجلی اور گیس کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے متعلق دائر کی گئی ایک آئینی درخواست کو جھوٹی، بے بنیاد، غیر مستند اور مبہم قرار دیتے ہوئے یکسر مسترد کر دیا ہے۔ عدالت نے متعلقہ قانونی فورمز سے رجوع کیے بغیر براہِ راست ہائیکورٹ آنے اور عدالتی وقت ضائع کرنے پر درخواست گزار تنظیم ’جوڈیشل ایکٹیوزم پینل‘ پر ایک لاکھ روپے کا بھاری جرمانہ بھی عائد کر دیا ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کے معزز جج جسٹس خالد اسحاق نے جوڈیشل ایکٹیوزم پینل کی جانب سے دائر کردہ اس پٹیشن پر 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کیا ہے۔ واضح رہے کہ درخواست گزار تنظیم کی طرف سے نامور قانون دان اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے عدالت کے سامنے اپنے دلائل پیش کیے تھے۔جسٹس خالد اسحاق نے اپنے تحریری فیصلے میں صراحت کی ہے کہ درخواست گزار نے توانائی بحران کے حوالے سے مفادِ عامہ (PIL) کے نام پر یہ آئینی درخواست دائر کی تھی۔ تاہم، عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ متبادل فورمز کی موجودگی: درخواست گزار کے پاس اپنی داد رسی کے لیے ‘نیپرا ایکٹ’ اور ‘اوگرا آرڈیننس’ کے تحت پہلے سے ہی متعلقہ قانونی فورمز موجود تھے، لیکن انہوں نے ان فورمز کو استعمال کیے بغیر قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے براہِ راست ہائیکورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔

ٹھوس شواہد کی کمی: درخواست گزار لوڈشیڈنگ، ٹیرف، لائن لاسز اور حکومتی پالیسی کے معاملات پر عدالت کے سامنے کوئی بھی ٹھوس شواہد یا مضبوط قانونی بنیاد پیش کرنے میں بری طرح ناکام رہا۔

عدالتی دائرہ اختیار کی حد: ہائیکورٹ کوئی ریگولیٹر یا اپیلیٹ فورم نہیں بن سکتی۔ توانائی بحران جیسے پیچیدہ اور تکنیکی و پالیسی معاملات مکمل طور پر ایگزیکٹو (حکومت) اور ریگولیٹری اداروں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، اور ان کا حل عدالتی احکامات سے نہیں بلکہ مؤثر پالیسی سازی سے ہی ممکن ہے۔تحریری فیصلے میں جسٹس خالد اسحاق نے مفادِ عامہ کی پٹیشنز کے حوالے سے گائیڈ لائنز دیتے ہوئے ریمارکس دیے کہ مفادِ عامہ کی درخواستیں ایک انتہائی اہم قانونی ہتھیار ہیں، جنہیں انتہائی احتیاط کے ساتھ صرف جائز مقاصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ مفادِ عامہ کے نام پر سستی شہرت کی خواہش یا بدنیتی کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ ہائیکورٹ کا فرض ہے کہ وہ ایسی غیر سنجیدہ درخواستوں کی سختی سے حوصلہ شکنی کرے تاکہ انصاف کا راستہ آلودہ ہونے سے بچایا جا سکے۔

عدالت نے مزید لکھا کہ ایسی درخواستوں کے لیے مستند اور قابلِ اعتماد حقائق کا ہونا لازمی ہے۔ قیاس آرائیوں، فرضی الزامات یا بدنیتی پر مبنی پٹیشنز کو قابلِ سماعت نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ توانائی جیسے نازک معاملے میں عدالتی مداخلت صرف اسی صورت میں مناسب ہو سکتی ہے جب بنیادی حقوق کی کوئی سنگین اور واضح خلاف ورزی ثابت کی جائے۔عدالتی فیصلے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ درخواست گزار نے پیٹیشن کے ساتھ ایک آفیشل سرٹیفکیٹ جمع کرایا تھا جس میں یہ جھوٹا دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ متبادل فورمز استعمال کر چکے ہیں، جو کہ بعد میں عدالت میں غلط ثابت ہوا۔

عدالتی وسائل اور قیمتی وقت کے ضیاع کی روک تھام کے لیے عدالت نے حکم دیا ہے کہ درخواست گزار ایک لاکھ روپے جرمانہ لاہور ہائیکورٹ بار کی ڈسپنسری میں جمع کرائے گا اور اس جرمانے کی اصل رسید 45 روز کے اندر ڈپٹی registrar جوڈیشل کے پاس جمع کرانا لازمی ہوگی۔تاہم، ہائیکورٹ نے درخواست گزار کو قانونی حق دیتے ہوئے جرمانے کے اس حکم کے خلاف اپیل دائر کرنے کے لیے 30 روز تک کا حکمِ امتناع (اسٹے آرڈر) بھی جاری کر دیا ہے تاکہ وہ چاہیں تو اس فیصلے کو چیلنج کر سکیں۔