LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا، ایران مذاکرات کی بحالی کیلئے رابطے جاری ہیں: قطر امریکی وزارتِ خارجہ کا دنیا بھر میں امیگرینٹ ویزا انٹرویوز کا عمل عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان ٹرمپ کا ایران پر مکمل غلبے کا دعویٰ، بڑی فتح جلد حاصل کرنے کی امید ظاہر کردی پمز سانحہ: معصوم بچوں کی شہادت پر پوری کابینہ کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔علامہ راجہ ناصر عباس پمز ہسپتال آتشزدگی سانحہ: این آئی سی یو میں نیبولائزر پھٹنے سے آگ لگی، ابتدائی رپورٹ اسلام آباد میں نومولود بچوں کی ہلاکت انسانی تاریخ کا بدترین سانحہ ہے: بلاول بھٹو اسحاق ڈار کی لندن میں کامن ویلتھ سیکریٹری جنرل سے ملاقات ایرانی فوج مکمل طور پر چوکس، فضائی دفاعی صلاحیتیں مزید بہتر بنا رہے ہیں: علی رضا الہامی ایران جنگ: دبئی ایئرپورٹ پر مسافروں کی آمد میں ایک تہائی کمی نئی نسل کی کردار سازی سیرت النبی ﷺ کی تعلیمات کے مطابق کرنا ہوگی: وزیراعظم پمز واقعہ کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہو گی، خود کو احتساب کیلئے پیش کرتا ہوں: مصطفیٰ کمال پمز واقعے کے سی سی ٹی وی سمیت تمام شواہد محفوظ کر لیے گئے ہیں: طلال چوہدری ہسپتال واقعہ: حافظ نعیم نے حکومتی گڈ گورننس کے دعووں پر سوالات اٹھا دیے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر نئے امیگریشن کاؤنٹرز فعال اسحاق ڈار کی لندن میں پاکستان نژاد برطانوی ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات

بجلی، گیس کی غیر علانیہ لوڈشیڈنگ پر درخواست جھوٹی قرار، جرمانہ عائد

Web Desk

4 June 2026

لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے بجلی اور گیس کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے متعلق دائر کی گئی ایک آئینی درخواست کو جھوٹی، بے بنیاد، غیر مستند اور مبہم قرار دیتے ہوئے یکسر مسترد کر دیا ہے۔ عدالت نے متعلقہ قانونی فورمز سے رجوع کیے بغیر براہِ راست ہائیکورٹ آنے اور عدالتی وقت ضائع کرنے پر درخواست گزار تنظیم ’جوڈیشل ایکٹیوزم پینل‘ پر ایک لاکھ روپے کا بھاری جرمانہ بھی عائد کر دیا ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کے معزز جج جسٹس خالد اسحاق نے جوڈیشل ایکٹیوزم پینل کی جانب سے دائر کردہ اس پٹیشن پر 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کیا ہے۔ واضح رہے کہ درخواست گزار تنظیم کی طرف سے نامور قانون دان اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے عدالت کے سامنے اپنے دلائل پیش کیے تھے۔جسٹس خالد اسحاق نے اپنے تحریری فیصلے میں صراحت کی ہے کہ درخواست گزار نے توانائی بحران کے حوالے سے مفادِ عامہ (PIL) کے نام پر یہ آئینی درخواست دائر کی تھی۔ تاہم، عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ متبادل فورمز کی موجودگی: درخواست گزار کے پاس اپنی داد رسی کے لیے ‘نیپرا ایکٹ’ اور ‘اوگرا آرڈیننس’ کے تحت پہلے سے ہی متعلقہ قانونی فورمز موجود تھے، لیکن انہوں نے ان فورمز کو استعمال کیے بغیر قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے براہِ راست ہائیکورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔

ٹھوس شواہد کی کمی: درخواست گزار لوڈشیڈنگ، ٹیرف، لائن لاسز اور حکومتی پالیسی کے معاملات پر عدالت کے سامنے کوئی بھی ٹھوس شواہد یا مضبوط قانونی بنیاد پیش کرنے میں بری طرح ناکام رہا۔

عدالتی دائرہ اختیار کی حد: ہائیکورٹ کوئی ریگولیٹر یا اپیلیٹ فورم نہیں بن سکتی۔ توانائی بحران جیسے پیچیدہ اور تکنیکی و پالیسی معاملات مکمل طور پر ایگزیکٹو (حکومت) اور ریگولیٹری اداروں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، اور ان کا حل عدالتی احکامات سے نہیں بلکہ مؤثر پالیسی سازی سے ہی ممکن ہے۔تحریری فیصلے میں جسٹس خالد اسحاق نے مفادِ عامہ کی پٹیشنز کے حوالے سے گائیڈ لائنز دیتے ہوئے ریمارکس دیے کہ مفادِ عامہ کی درخواستیں ایک انتہائی اہم قانونی ہتھیار ہیں، جنہیں انتہائی احتیاط کے ساتھ صرف جائز مقاصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ مفادِ عامہ کے نام پر سستی شہرت کی خواہش یا بدنیتی کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ ہائیکورٹ کا فرض ہے کہ وہ ایسی غیر سنجیدہ درخواستوں کی سختی سے حوصلہ شکنی کرے تاکہ انصاف کا راستہ آلودہ ہونے سے بچایا جا سکے۔

عدالت نے مزید لکھا کہ ایسی درخواستوں کے لیے مستند اور قابلِ اعتماد حقائق کا ہونا لازمی ہے۔ قیاس آرائیوں، فرضی الزامات یا بدنیتی پر مبنی پٹیشنز کو قابلِ سماعت نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ توانائی جیسے نازک معاملے میں عدالتی مداخلت صرف اسی صورت میں مناسب ہو سکتی ہے جب بنیادی حقوق کی کوئی سنگین اور واضح خلاف ورزی ثابت کی جائے۔عدالتی فیصلے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ درخواست گزار نے پیٹیشن کے ساتھ ایک آفیشل سرٹیفکیٹ جمع کرایا تھا جس میں یہ جھوٹا دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ متبادل فورمز استعمال کر چکے ہیں، جو کہ بعد میں عدالت میں غلط ثابت ہوا۔

عدالتی وسائل اور قیمتی وقت کے ضیاع کی روک تھام کے لیے عدالت نے حکم دیا ہے کہ درخواست گزار ایک لاکھ روپے جرمانہ لاہور ہائیکورٹ بار کی ڈسپنسری میں جمع کرائے گا اور اس جرمانے کی اصل رسید 45 روز کے اندر ڈپٹی registrar جوڈیشل کے پاس جمع کرانا لازمی ہوگی۔تاہم، ہائیکورٹ نے درخواست گزار کو قانونی حق دیتے ہوئے جرمانے کے اس حکم کے خلاف اپیل دائر کرنے کے لیے 30 روز تک کا حکمِ امتناع (اسٹے آرڈر) بھی جاری کر دیا ہے تاکہ وہ چاہیں تو اس فیصلے کو چیلنج کر سکیں۔