بچوں کیخلاف جرائم کی روک تھام کیلئے سخت سزائیں کافی نہیں: خاقان شاہنواز
Web Desk
28 June 2026
پاکستانی اداکار و سوشل میڈیا انفلوئنسر خاقان شاہنواز نے ملک میں بچوں کے ساتھ پیش آنے والے جنسی زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور حالیہ منتہا کیس پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر ایک اہم اور نئی تزویراتی بحث چھیڑ دی ہے۔ انسٹاگرام پر جاری کردہ اپنی ایک خصوصی ویڈیو میں خاقان شاہنواز نے مروجہ عدالتی و انتظامی سزاؤں پر سوال اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایسے سنگین اور ہولناک جرائم کی مستقل روک تھام کے لیے محض سخت سزائیں سنانا یا پھانسی دینا کافی نہیں ہے۔ انہوں نے حالیہ منتہا کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکام نے ایک ملزم کے خلاف فوری تادیبی کارروائی کی اور مجرموں کو سخت ترین سزا دینے کا اعلان بھی کیا، لیکن اس کے باوجود کچھ ہی عرصے کے اندر کمسن بچوں کے ساتھ اسی نوعیت کے مزید افسوس ناک واقعات سامنے آ گئے، جس سے یہ بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا سخت سزائیں واقعی ایسے جرائم کی مؤثر روک تھام کر پا رہی ہیں یا نہیں؟
خاقان شاہنواز کا کہنا ہے کہ ریاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی توجہ صرف مجرموں کو سزا دینے تک ہی محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ ایسے بھیانک واقعات کی جڑوں میں موجود بنیادی وجوہات اور معاشرتی رویوں پر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کھل کر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا روایتی معاشرہ جنسی آگاہی، عوامی شعور اور بچوں کے تحفظ جیسے انتہائی حساس اور اہم موضوعات پر کھل کر بات کرنے سے ہمیشہ گریز کرتا ہے، حالانکہ ان مسائل پر مؤثر اور بروقت آگاہی ہی ایسے جرائم کے سدباب میں سب سے اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اداکار نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ ہمارے ہاں معاشرے میں وقتی یا فوری اقدامات اور پاپولسٹ فیصلوں کو تو بہت سراہا جاتا ہے، لیکن طویل مدتی، دیرپا اور مؤثر حل تلاش کرنے پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جاتی۔
انہوں نے مخلصانہ زور دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کے تحفظ کے لیے ملک گیر سطح پر باقاعدہ آگاہی مہمات چلانے کے ساتھ ساتھ تمام سرکاری و نجی سکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں بچوں کی عمر کے مطابق مناسب تعلیم، گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ کا شعور فراہم کرنا بھی اس قومی جامع حکمتِ عملی کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔ اپنے پیغام کے اختتام پر اداکار و انفلوئنسر نے واضح کیا کہ جب تک ہمارا پورا معاشرہ تعلیم، جدید آگاہی اور اجتماعی ذمے داری کے اصولوں کو اپناتے ہوئے حقیقی اور فکری تبدیلی کی جانب پیش رفت نہیں کرے گا، اس وقت تک معصوم بچوں کے ساتھ پیش آنے والے ایسے افسوس ناک اور انسانیت سوز واقعات کی روک تھام کسی صورت ممکن نہیں ہو سکے گی۔
متعلقہ عنوانات
لڑکیوں کو اپنی تعلیم، خودمختاری کے حصول کیلیے مضبوط ہونا چاہیے، کومل عزیز
28 June 2026
معروف شیف راحت علی انتقال کر گئیں
28 June 2026
درفشاں سلیم کی تصاویر نے لوگوں کی توجہ حاصل کرلی
27 June 2026
بھارتی فلم انڈسٹری کے لیجنڈری فلم ساز 73 برس کی عمر میں انتقال کرگئے
27 June 2026
دعا لیپا کی پرتگال میں ممنوعہ کتابوں کی مستقل لائبریری قائم
27 June 2026
قانونی نوٹس ملنے کے بعد مذہبی اسکالر ناصر مدنی نے مومنہ اقبال سے معافی مانگ لی
27 June 2026
روینہ ٹنڈن اور اکشے کمار کی 22 سال بعد بڑے پردے پر واپسی
27 June 2026
بھارتی اداکارہ کریشی تھاپنڈا کے گھر سے تاجر کی لاش برآمد
27 June 2026