LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
افغان سرحد کی بندش اور خلیجی تنازع سے 3 ارب ڈالر کی تجارت متاثر ہوئی: وزیر تجارت جام کمال نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا گندم ذخائر کا جائزہ اجلاس: 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم کی درآمد کا اعادہ، صوبوں کو فوری فراہمی کی ہدایت عالمی و مقامی سطح پر سونے چاندی کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس راحیل کامران شیخ نے استعفیٰ دے دیا پٹرولیم پرائسنگ کمیٹی کا اجلاس: جون 2027 تک پٹرول ڈی ریگولیٹ کرنے اور نئے طریقہ کار کی سفارشات پر اتفاق سانحہ 9 مئی کیسز: ڈاکٹر یاسمین راشد اور عمر سرفراز چیمہ کی درخواست ضمانت پر سماعت ملتوی مومنہ اقبال و ثاقب چڈھر کیس: نئے ڈیجیٹل شواہد پر دوبارہ نوٹس جاری، ازسرنو تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا وقت ختم، پی ٹی آئی رہنماؤں کی ملاقات نہ ہو سکی وزیراعظم نے ٹریڈ فیسلیٹیشن بورڈ کے قیام کی منظوری دے دی عمران سرور نیشنل بینک آف پاکستان کے نئے صدر مقرر افغانستان سے بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کی دراندازی ناکام، 15 ہلاک یسین ملک کا بھارتی عدلیہ پر اظہارِ عدم اعتماد، مقدمہ مزید لڑنے سے انکار انڈونیشیا میں حکومت کا مفت کھانا، تقریباً 800 افراد فوڈ پوائزننگ کا شکار پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ٹریڈنگ کا مثبت زون میں آغاز پاکستان نے یورو بانڈ کے ذریعے 3 ارب ڈالر حاصل کر لیے: وزیر خزانہ

بچوں کیخلاف جرائم کی روک تھام کیلئے سخت سزائیں کافی نہیں: خاقان شاہنواز

Web Desk

28 June 2026

پاکستانی اداکار و سوشل میڈیا انفلوئنسر خاقان شاہنواز نے ملک میں بچوں کے ساتھ پیش آنے والے جنسی زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور حالیہ منتہا کیس پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر ایک اہم اور نئی تزویراتی بحث چھیڑ دی ہے۔ انسٹاگرام پر جاری کردہ اپنی ایک خصوصی ویڈیو میں خاقان شاہنواز نے مروجہ عدالتی و انتظامی سزاؤں پر سوال اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایسے سنگین اور ہولناک جرائم کی مستقل روک تھام کے لیے محض سخت سزائیں سنانا یا پھانسی دینا کافی نہیں ہے۔ انہوں نے حالیہ منتہا کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکام نے ایک ملزم کے خلاف فوری تادیبی کارروائی کی اور مجرموں کو سخت ترین سزا دینے کا اعلان بھی کیا، لیکن اس کے باوجود کچھ ہی عرصے کے اندر کمسن بچوں کے ساتھ اسی نوعیت کے مزید افسوس ناک واقعات سامنے آ گئے، جس سے یہ بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا سخت سزائیں واقعی ایسے جرائم کی مؤثر روک تھام کر پا رہی ہیں یا نہیں؟

خاقان شاہنواز کا کہنا ہے کہ ریاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی توجہ صرف مجرموں کو سزا دینے تک ہی محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ ایسے بھیانک واقعات کی جڑوں میں موجود بنیادی وجوہات اور معاشرتی رویوں پر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کھل کر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا روایتی معاشرہ جنسی آگاہی، عوامی شعور اور بچوں کے تحفظ جیسے انتہائی حساس اور اہم موضوعات پر کھل کر بات کرنے سے ہمیشہ گریز کرتا ہے، حالانکہ ان مسائل پر مؤثر اور بروقت آگاہی ہی ایسے جرائم کے سدباب میں سب سے اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اداکار نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ ہمارے ہاں معاشرے میں وقتی یا فوری اقدامات اور پاپولسٹ فیصلوں کو تو بہت سراہا جاتا ہے، لیکن طویل مدتی، دیرپا اور مؤثر حل تلاش کرنے پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جاتی۔

انہوں نے مخلصانہ زور دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کے تحفظ کے لیے ملک گیر سطح پر باقاعدہ آگاہی مہمات چلانے کے ساتھ ساتھ تمام سرکاری و نجی سکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں بچوں کی عمر کے مطابق مناسب تعلیم، گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ کا شعور فراہم کرنا بھی اس قومی جامع حکمتِ عملی کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔ اپنے پیغام کے اختتام پر اداکار و انفلوئنسر نے واضح کیا کہ جب تک ہمارا پورا معاشرہ تعلیم، جدید آگاہی اور اجتماعی ذمے داری کے اصولوں کو اپناتے ہوئے حقیقی اور فکری تبدیلی کی جانب پیش رفت نہیں کرے گا، اس وقت تک معصوم بچوں کے ساتھ پیش آنے والے ایسے افسوس ناک اور انسانیت سوز واقعات کی روک تھام کسی صورت ممکن نہیں ہو سکے گی۔