LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
برطانوی محکمہ ٹرانسپورٹ کی ٹیم کا سیکیورٹی آڈٹ کیلئے اسلام آباد ایئرپورٹ کا اہم دورہ آبنائے ہرمز پر لڑائی کے باعث شیڈول امریکا ایران مذاکرات معطل آزاد کشمیر کا مسئلہ جذبات نہیں، عقل و دانش سے حل کیا جائے: مولانا فضل الرحمان مشرق وسطیٰ صورتحال، فریقین کو جنگ بندی معاہدے کی مکمل پاسداری کرنی چاہیے، نائب وزیراعظم حافظ نعیم کی راجہ ناصر سے ملاقات، آزاد کشمیر کا مسئلہ افہام و تفہیم سے حل کرنے پر روز ایران نے لبنان سے اسرائیلی انخلا کی واضح ٹائم لائن مانگ لی یورپ میں شدید گرمی کی لہر کے دوران 1300 سے زائد اضافی اموات ریکارڈ: عالمی ادارۂ صحت فرانس میں اسکائی ڈائیونگ طیارہ گر کر تباہ، 11 افراد ہلاک ایرانی سپریم لیڈر کا امریکی و اسرائیلی حملوں پر قانونی کارروائی کا حکم آبنائے ہرمز کے اطراف اب بھی جھڑپیں، جنگ ختم ہونی چاہئے: ایران، عراق اسحاق ڈار کا بحرینی ہم منصب سے رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ایرانی حملے، بحرین کا سلامتی کونسل سے ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ ایران کا امریکہ کی کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کا اعلان کراچی میں رینجرز کیمپ پر حملہ، 3 جوان شہید ضرورت پڑی تو فوجی کارروائی مکمل کی جائیگی: ٹرمپ کی ایک بار پھر ایران کیخلاف مزید سخت فوجی کارروائی کی وارننگ

آزاد کشمیر کا مسئلہ جذبات نہیں، عقل و دانش سے حل کیا جائے: مولانا فضل الرحمان

Web Desk

28 June 2026

وفاقی دارالحکومت میں جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کے درمیان اہم ملاقات ہوئی ہے، جس میں آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال اور مسئلہ کشمیر کے مستقل حل کے لیے حکمت عملی پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔

ملاقات کے بعد حافظ نعیم الرحمان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وہ امیر جماعت اسلامی کی آمد پر ان کے شکر گزار ہیں۔ مسئلہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں سب سے پہلے حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعل ملک نے ان سے رابطہ کیا تھا، جبکہ یاسین ملک نے اپنی پوری زندگی کشمیر کی آزادی کے عظیم مقصد کے لیے وقف کر رکھی ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے اس بات پر زور دیا کہ کشمیریوں نے ہمیشہ اپنی ہر تحریک پاکستان کے پرچم تلے چلائی ہے اور ان کے شہداء کے جنازے بھی پاکستانی پرچم میں لپٹے ہوتے ہیں، اس لیے کشمیر کے حساس معاملے پر جذبات کے بجائے دانشمندانہ اور دور اندیش حکمت عملی اختیار کی جائے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ ماضی میں کشمیر کی قیادت کا ایک بڑا وفد ان سے ملا تھا، جس نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا خط بھی پیش کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے تعاون پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کچھ وقت مانگا تھا اور کشمیری قیادت کو دھرنا ملتوی کرنے کا مشورہ دیا تھا، تاہم دھرنا برقرار رکھا گیا لیکن اس کے بعد کوئی اگلا قدم نہیں اٹھایا گیا۔ مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ وہ اس معاملے پر قومی اسمبلی کے فلور پر بھی آواز اٹھا چکے ہیں، جبکہ حکومت بھی اس وقت اس معاملے پر گہری مشاورت میں مصروف ہے، اس لیے ہمیں حکومت کے حتمی فیصلوں کا انتظار کرنا چاہیے۔

سربراہ جے یو آئی (ف) نے عالمی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کے خلاف ایک جارح ملک کے طور پر قرارداد پیش کی ہے، جو کہ سراسر مضحکہ خیز ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ عالمی سطح پر بھارت کے اس منفی پروپیگنڈے کا سفارتی محاذ پر مؤثر اور دندان شکن جواب دیا جانا چاہیے۔