LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر ریٹیلر ایپ کا اجراء، چھوٹے دکانداروں کیلئے ٹیکس سکیم آسان بنا دی: وزیر خزانہ محسن نقوی کا پاسپورٹ آفس گارڈن ٹاؤن کا دورہ، شہریوں کی شکایات پر برہم اسحاق ڈار کا ترک وزیر خارجہ سے رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال پاکستان SCO اجلاس کی میزبانی کرے گا، اسحاق ڈار کا تیاریوں پر اظہارِ اطمینان جنگ کے دوران امریکا نے مذاکرات کی درخواست کی: ایرانی وزیر خارجہ بلوچستان سے جلد دہشت گردی کا جڑ سے خاتمہ ہوجائے گا: صدر زرداری نواز شریف اور مریم نواز سے سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کی الوداعی ملاقات پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز ڈونلڈ ٹرمپ کا کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد نئے ٹیرف روکنے کا اعلان ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے امریکا کے سامنے مطالبات رکھ دیئے ہاکی ورلڈ کپ: پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں آج مدمقابل ہونگی دوبارہ فوجی ایکشن سے سفارتکاری کا وقت آگیا، دباؤ بڑھا کر امریکا رعایتیں حاصل نہیں کر سکتا: ایران ایران اور امریکا کے درمیان جنگ میں آبنائے ہرمز پر کنٹرول اہم ترین محاذ بن گیا: میڈیا رپورٹ خلیج فارس میں امریکی تسلط کے بعد کا نظام ابھر رہا ہے، محسن رضائی

آبنائے ہرمز کے اطراف اب بھی جھڑپیں، جنگ ختم ہونی چاہئے: ایران، عراق

Web Desk

28 June 2026

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تزویراتی دورہِ بغداد کے موقع پر اپنے عراقی ہم منصب فواد حسین کے ساتھ ایک اہم مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ لبنان سے اسرائیل کا فوری انخلا اور اس کے وحشیانہ حملے روکنا مروجہ مفاہمتی یادداشت (MoU) کے تحت براہِ راست امریکہ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے پاک و ہند اور خطے کے سفارتی منظرنامے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی اور انتہائی گہرے تعلقات قائم ہیں، اور عراقی حکومت نے ایران پر ماضی میں کیے جانے والے امریکی و اسرائیلی حملوں کی ہمیشہ شدید اور غیر مبہم الفاظ میں مذمت کی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے تہران اور بغداد کے مابین سٹریٹجک شراکت داری کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے بتایا کہ عراقی ہم منصب کے ساتھ خطے کے امن و امان اور موجودہ سیکورٹی امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی ہے۔ انہوں نے عراق پہنچنے پر شاندار اور والہانہ استقبال پر بغداد انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا اور واضح کیا کہ جنوبی ساحلی پٹی پر حالیہ امریکی حملے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کی مکمل بحالی اور تجارتی سرگرمیوں میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ موجودہ پیچیدہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں ان کا دورہِ عراق غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے؛ انہوں نے عراق کی نئی حکومت کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ آبنائے ہرمز پر ہمارا مکمل دفاعی کنٹرول قائم ہے اور اسرائیل کو لبنان کے تمام مقبوضہ علاقوں سے اب فی الفور نکل جانا چاہیے۔

پریس کانفرنس کے دوران ایرانی وزیر خارجہ نے ایک اہم اور بڑے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ عراق کے دو اہم شہروں میں سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسومات کو انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ ترتیب دیا جائے گا۔ انہوں نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عالمی معاہدوں اور ایم او یو کی رو سے یہ اب واشنگٹن کی ذمہ داری ہے کہ وہ تل ابیب کو لگام دے اور اسرائیل کو لبنان پر جاری مہم جوئی سے روکے۔

دوسری جانب، عراقی وزیر خارجہ فواد حسین نے علاقائی صورتحال کی سنگینی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کے اطراف اب بھی وقفے وقفے سے تزویراتی جھڑپیں ہو رہی ہیں، اور اس حساس ترین بین الاقوامی بحری راستے کی بندش سے عراقی تیل کی عالمی سپلائی بری طرح رک گئی تھی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ جاری جنگ پوری دنیا کی معیشت اور توانائی کے شعبے کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے، اس لیے اس جنگ کو اب ہر صورت ختم ہونا چاہیے۔

فواد حسین نے خطے کے تمام برادر ممالک پر زور دیا کہ مغربی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کو محفوظ رکھنے کے لیے سب کو مل کر ایک پیج پر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ ایرانی ہم منصب سے باہمی دلچسپی کے متعدد تزویراتی امور پر مثبت گفتگو ہوئی ہے، جس میں عالمی تجارت کے تحفظ کے لیے آبنائے ہرمز کو مستقل کھلا رکھنے کی اہمیت پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔ عراقی وزیر خارجہ نے اپنے دیرینہ موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ عراق نے ایران پر ہونے والی کسی بھی امریکی و اسرائیلی جارحیت کی ہمیشہ اصولی مخالفت کی ہے، اور ہم خطے میں مجموعی سکیورٹی کو بڑھانے کے لیے ایران کے ساتھ سٹریٹجک تعاون جاری رکھیں گے کیونکہ اس جنگ کا تسلسل پورے خطے کی تباہی کا سبب بنے گا۔