میئر کراچی کی ننھے ابراہیم کے واقعے پرمعافی ، ذمہ داری قبول کرلی، غفلت پر بڑی کارروائیاں
Web Desk
3 December 2025
کراچی میں ننھے ابراہیم کے دل خراش سانحے پر میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے واقعے کو ناقابلِ برداشت، افسوسناک اور انتہائی شرمناک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک باپ کی حیثیت سے اس درد کو شدت سے محسوس کرتے ہیں اور شہر کی پوری انتظامیہ سمیت خود کو بھی اس سانحے کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ میئر کراچی نے واضح کیا کہ وہ الزام تراشی نہیں کریں گے بلکہ مکمل ذمہ داری قبول کرتے ہیں، بطور میئر میں کامیاب نہیں ہو سکا، اس لیے ندامت کے ساتھ معافی چاہتا ہوں۔
انہوں نے بتایا کہ وہ مرحوم ابراہیم کے گھر گئے جہاں والد، دادا اور اہل خانہ سے ملاقات کی۔ میئر نے کہا کہ انہوں نے کسی پر الزام نہیں رکھا بلکہ اپنی طرف سے معافی مانگی، جبکہ بچے کے دادا نے شفقت کے ساتھ کہا کہ “جو عمر اللہ نے لکھی تھی وہ پوری ہوگئی”، اور درخواست کی کہ ایسے اقدامات کیے جائیں کہ آئندہ ایسا سانحہ دوبارہ نہ ہو۔
میئر کراچی نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ سندھ نے واقعے کے بعد فوری اجلاس بلا کر تحقیقات اور ابتدائی اقدامات کا حکم دیا۔ اس دوران کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے متعلقہ انجینئر، کے ایم سی کے سینئر ڈائریکٹر، ضلعی مختیار کار اور اسسٹنٹ کمشنر کو معطل کیا گیا، جبکہ ایس ایس پی ایسٹ اور متعلقہ ڈی ایس پی کی معطلی کی منظوری بھی دے دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ محض شروعات ہے، انکوائری مکمل ہونے پر مزید سخت کارروائی ہوگی تاکہ مثالی مثال قائم کی جاسکے۔
میئر نے بتایا کہ ریسکیو آپریشن کے دوران عوامی ہجوم نے کام میں شدید رکاوٹ ڈالی، متعدد لوگ مین ہول کے اردگرد کھڑے تھے جس سے مشینری حرکت نہ کر سکی۔ ڈمپر مشین بھی ہجوم کے باعث مؤثر طور پر استعمال نہ ہوسکی۔ انہوں نے ریسکیو آپریشنز کے لیے واضح ایس او پی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ شہر میں 2 لاکھ 45 ہزار مین ہول کورز موجود ہیں جن میں سے ایک سال میں 88 ہزار نئے کور لگائے گئے، لیکن لوہے اور فائبر کے کور چوری ہونے کا مسئلہ شدت اختیار کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تھانے دار جانتا ہے چوری کا سامان کہاں بکتا ہے، وزیر داخلہ نے یقین دلایا ہے کہ کباڑی مارکیٹوں کے خلاف ایکشن ہوگا۔
میئر نے کہا کہ 1334 ہیلپ لائن ایک سال سے فعال ہے لیکن اس مقام کے متعلق کوئی شکایت درج نہیں ہوئی تھی۔ یونین کونسل چیئرمینوں کا بجٹ 5 لاکھ سے بڑھا کر 12 لاکھ ماہانہ کردیا گیا ہے، جبکہ کے ایم سی اور ٹاؤنز کے پاس اربوں روپے کے وسائل موجود ہیں۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ جہاں بھی مین ہول کا ڈھکن غائب ہو فوری اطلاع دیں، تاکہ کسی اور بچے کی جان ضائع نہ ہو۔
متعلقہ عنوانات
ایشین چیمپئنز ٹرافی: پاک بھارت کشیدگی کے باعث پاکستان ہاکی فیڈریشن کا نیوٹرل وینیو کا بڑا مطالبہ
16 September 2026
عمران خان سے کل جیل میں رفقاء کی ملاقات، فہرست جیل حکام کو بھجوا دی گئی
16 September 2026
پیٹرولیم ڈیلرز کا حکومتی ریلیف سکیم پر اعتراض، سستا پیٹرول دینے سے انکار
16 September 2026
فیلڈ مارشل عاصم منیر سے امریکی وفد کی ملاقات، خطے کی صورتحال پر گفتگو
16 September 2026
سیاسی کشیدگی سے سب کا نقصان ہوگا، تھرڈ فورس آنے سے پہلے معاملات حل کیے جائیں: بیرسٹر گوہر
16 September 2026
وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت پی ایم اسپیشل ریلیف اسکیم کا جائزہ اجلاس، فیول سبسڈی کے لیے سہولت ڈیسک قائم کرنے کی ہدایت
16 September 2026
پاکستان کو پہلے پائیدار سویرن پانڈا بانڈ کے اجرا پر 2026 اے پی اے سی کلائمیٹ بانڈز ایوارڈ سے نواز دیا گیا
16 September 2026
حج پورٹل کے ذریعے 11 ہزار 600 پرائیویٹ عازمین کی بکنگ مکمل
16 September 2026