LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ نے کہا وٹکوف، جیرڈ کشنر دوبارہ ماسکو آنے کیلئے تیار ہیں: ترجمان کریملن صدر ٹرمپ انقرہ میں نیٹو ممالک کے اجلاس میں شرکت کریں گے، وائٹ ہاؤس اوپیک پلس ممالک کا اگست کیلئے تیل کی پیداوار بڑھانے کا فیصلہ امریکی نیوی نے بحیرہ عرب میں لاپتہ اہلکار کی تلاش روک دی گروپ کیپٹن کو شہید کرنے والا ملزم سعد 9 گھنٹوں میں گرفتار کر لیا: آئی جی اسلام آباد وفاقی وزیر احسن اقبال کا دورہ امریکہ: ہیلتھ کیئر اور معاشی ترقی کے لیے سمندر پار پاکستانیوں کو شراکت داری کی دعوت، ٹیلی میڈیسن ماڈل کی تجویز فلسطینی علاقوں پر قبضہ ختم ہونے تک اسرائیل سے تعلقات بحال نہیں ہو سکتے، مصر یمنی فورسز اور حوثیوں کے درمیان جھڑپوں میں 65 اموات کی تصدیق شہید رہبراعلیٰ کے خون کا بدلہ ضرور لیں گے، مشیر ایرانی سپریم لیڈر پشاور: چینی باشندوں کی حفاظت کےلئے فول پروف نظام قائم امریکی صدر کی روسی ہم منصب کو یوکرین جنگ کے حل میں مدد کی پیشکش وعدہ کرتا ہوں شہید امام کے مشن کو جاری رکھوں گا: مسعود پزشکیان ایران اور قطر کے درمیان بحری تجارت 5 ماہ بعد بحال مؤثر سفارتکاری اور امن سے پاکستان کا عالمی تشخص مضبوط ہوا: فیصل کریم کنڈی اسرائیل کو خطے کو دوبارہ جنگ کی آگ میں دھکیلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی: صدر اردوان

میئر کراچی کی ننھے ابراہیم کے واقعے پرمعافی ، ذمہ داری قبول کرلی،  غفلت پر بڑی کارروائیاں

Web Desk

3 December 2025

کراچی میں ننھے ابراہیم کے دل خراش سانحے پر میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے واقعے کو ناقابلِ برداشت، افسوسناک اور انتہائی شرمناک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک باپ کی حیثیت سے اس درد کو شدت سے محسوس کرتے ہیں اور شہر کی پوری انتظامیہ سمیت خود کو بھی اس سانحے کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ میئر کراچی نے واضح کیا کہ وہ الزام تراشی نہیں کریں گے بلکہ مکمل ذمہ داری قبول کرتے ہیں، بطور میئر میں کامیاب نہیں ہو سکا، اس لیے ندامت کے ساتھ معافی چاہتا ہوں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ مرحوم ابراہیم کے گھر گئے جہاں والد، دادا اور اہل خانہ سے ملاقات کی۔ میئر نے کہا کہ انہوں نے کسی پر الزام نہیں رکھا بلکہ اپنی طرف سے معافی مانگی، جبکہ بچے کے دادا نے شفقت کے ساتھ کہا کہ “جو عمر اللہ نے لکھی تھی وہ پوری ہوگئی”، اور درخواست کی کہ ایسے اقدامات کیے جائیں کہ آئندہ ایسا سانحہ دوبارہ نہ ہو۔

میئر کراچی نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ سندھ نے واقعے کے بعد فوری اجلاس بلا کر تحقیقات اور ابتدائی اقدامات کا حکم دیا۔ اس دوران کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے متعلقہ انجینئر، کے ایم سی کے سینئر ڈائریکٹر، ضلعی مختیار کار اور اسسٹنٹ کمشنر کو معطل کیا گیا، جبکہ ایس ایس پی ایسٹ اور متعلقہ ڈی ایس پی کی معطلی کی منظوری بھی دے دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ محض شروعات ہے، انکوائری مکمل ہونے پر مزید سخت کارروائی ہوگی تاکہ مثالی مثال قائم کی جاسکے۔

میئر نے بتایا کہ ریسکیو آپریشن کے دوران عوامی ہجوم نے کام میں شدید رکاوٹ ڈالی، متعدد لوگ مین ہول کے اردگرد کھڑے تھے جس سے مشینری حرکت نہ کر سکی۔ ڈمپر مشین بھی ہجوم کے باعث مؤثر طور پر استعمال نہ ہوسکی۔ انہوں نے ریسکیو آپریشنز کے لیے واضح ایس او پی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ شہر میں 2 لاکھ 45 ہزار مین ہول کورز موجود ہیں جن میں سے ایک سال میں 88 ہزار نئے کور لگائے گئے، لیکن لوہے اور فائبر کے کور چوری ہونے کا مسئلہ شدت اختیار کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تھانے دار جانتا ہے چوری کا سامان کہاں بکتا ہے، وزیر داخلہ نے یقین دلایا ہے کہ کباڑی مارکیٹوں کے خلاف ایکشن ہوگا۔

میئر نے کہا کہ 1334 ہیلپ لائن ایک سال سے فعال ہے لیکن اس مقام کے متعلق کوئی شکایت درج نہیں ہوئی تھی۔ یونین کونسل چیئرمینوں کا بجٹ 5 لاکھ سے بڑھا کر 12 لاکھ ماہانہ کردیا گیا ہے، جبکہ کے ایم سی اور ٹاؤنز کے پاس اربوں روپے کے وسائل موجود ہیں۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ جہاں بھی مین ہول کا ڈھکن غائب ہو فوری اطلاع دیں، تاکہ کسی اور بچے کی جان ضائع نہ ہو۔