LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسٹیٹ بینک اور بینکنگ انڈسٹری کا اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ‘پاسبان ریمیٹنس ریوارڈز اسکیم’ کا اجراء میر رضا کے اہلخانہ کی سینئر پولیس افسران کو طلب کرنے کی درخواست مسترد بحرالکاہل میں بننے والا طوفان، نولو کیٹیگری 1 کے سمندری طوفان میں تبدیل این ڈی ایم اے کا 25 سے 30 ستمبر تک ملک کے بالائی علاقوں میں شدید بارشوں اور سیلاب کا الرٹ جاری سعودیہ پر حوثی حملوں کے بعد سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے اعلیٰ فوجی حکام کا ہنگامی اجلاس طلب عباس عراقچی کی روسی وزیر خارجہ سے ملاقات، تنازع کے سفارتی حل پر زور پی ٹی آئی آج یا کل اسلام آباد مارچ ختم کرنے کا اعلان کردے گی: فیصل کریم کنڈی موسمیاتی اہداف کے ثمرات عوام اور مقامی کمیونٹیز تک پہنچنے چاہیے، وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی بحرینی ہم منصب سے ملاقات، دوطرفہ تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق چمن سیکٹر پر افغان جارحیت اور دراندازی کی کوشش ناکام، متعدد طالبان ہلاک جنگ ختم کرنے کا فیصلہ امریکا کو کرنا ہے، ایران لڑائی جاری نہیں رکھنا چاہتا: پزشکیان وزیراعظم شہباز شریف کی نیویارک میں امریکی کاروباری کونسلز کے وفود سے ملاقات امریکا نے شام کو 36 چوری شدہ نوادرات واپس کر دیے اقوام متحدہ کا عالمی امن کیلئے پاکستان کی خدمات اور قربانیوں کا اعتراف یہ آخری کوشش ہوگی اور پی ٹی آئی پھر کبھی اسلام آباد کا رخ نہیں کرے گی: خواجہ آصف

خوشبوؤں کی شاعرہ پروین شاکر کو مداحوں سے بچھڑے 31 برس بیت گئے

Web Desk

26 December 2025

اردو ادب کی ممتاز شاعرہ پروین شاکر کو مداحوں سے بچھڑے 31 برس گزر گئے، مگر وہ اپنی شاعری کے ذریعے آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ محبت، خوشبو، پھول، ہوا اور تتلی جیسے خوبصورت استعارے ان کے اشعار کی پہچان ہیں۔

پروین شاکر 4 نومبر 1952ء کو کراچی کے ایک ادبی گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے نوعمری میں ہی ادبی سفر کا آغاز کیا۔ ابتدا میں نثر نگاری بھی کی، مگر شاعری نے انہیں اصل شناخت دی، جہاں غزل اور نظم دونوں میں ان کا منفرد انداز نمایاں رہا۔

ان کا پہلا مجموعۂ کلام “خوشبو” 1976ء میں شائع ہوا جس نے ادبی حلقوں میں تہلکہ مچا دیا اور انہیں “خوشبوؤں کی شاعرہ” کا خطاب ملا۔ ان کی دیگر معروف تصانیف میں صد برگ، خودکلامی، انکار، ماہِ تمام، کفِ آئینہ اور گوشۂ چشم شامل ہیں۔

اردو ادب میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں پروین شاکر کو آدم جی ادبی ایوارڈ اور 1990ء میں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی سے نوازا گیا۔

پروین شاکر 26 دسمبر 1994ء کو اسلام آباد میں ایک کار حادثے میں 42 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں، مگر ان کی شاعری آج بھی قارئین کو اپنی خوشبو سے مسحور کیے ہوئے ہے۔