LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
روس کی یوکرین کو تنازع کے حل کیلئے ٹھوس مذاکرات کی پیشکش جوابی کارروائی میں امریکی فوج کے ایم کیو نائن ڈرون کو نشانہ بنایا گیا: پاسداران انقلاب ایرانی پارلیمنٹ سپیکر کی شہریوں سے پٹرول کی کھپت کم کرنے کی اپیل بشارالاسد دور کے خفیہ جوہری سرگرمیوں سے متعلق اہم سوالات حل ہوگئے: آئی اے ای اے جرمنی کا لیپزگ ایئرپورٹ پر ڈرون حملے میں روس کے ملوث ہونے کا الزام روس کے یوکرین میں فضائی حملے، ایک بھارتی سمیت 12 افراد ہلاک، متعدد زخمی ایران کے جوابی حملے، اردن میں امریکی اڈے کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ امریکا کا ایران پر پھر حملہ، شادی کی تقریب پر بمباری، 4 افراد شہید، 30 سے زائد زخمی محفوظ ڈیجیٹل ماحول ہر بچے کا بنیادی حق، مؤثر قانون سازی وقت کی ضرورت ہے: سارہ احمد ایران پر حملے اردن میں ہمارے فوجی اڈے پر حملوں کا جواب ہیں: صدر ٹرمپ قومی کرکٹ ٹیم کے اعزاز میں پاکستان ہاؤس لندن میں عشائیہ، محسن نقوی کی بھی شرکت خیبرپختونخوا کے وسائل پر صوبے کا حق، بقایاجات کیلئے عدالت جائینگے: سہیل آفریدی پٹرول ایک روپے 8 پیسے، ڈیزل 51 پیسے فی لٹر مہنگا بانی پی ٹی آئی کو جیل میں تمام سہولیات دی جا رہی ہیں: عقیل ملک امریکا کا ایران میں پاسداران انقلاب کے ٹھکانوں پر حملہ، قشم اور آبنائے ہرمز میں دھماکے

خوشبوؤں کی شاعرہ پروین شاکر کو مداحوں سے بچھڑے 31 برس بیت گئے

Web Desk

26 December 2025

اردو ادب کی ممتاز شاعرہ پروین شاکر کو مداحوں سے بچھڑے 31 برس گزر گئے، مگر وہ اپنی شاعری کے ذریعے آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ محبت، خوشبو، پھول، ہوا اور تتلی جیسے خوبصورت استعارے ان کے اشعار کی پہچان ہیں۔

پروین شاکر 4 نومبر 1952ء کو کراچی کے ایک ادبی گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے نوعمری میں ہی ادبی سفر کا آغاز کیا۔ ابتدا میں نثر نگاری بھی کی، مگر شاعری نے انہیں اصل شناخت دی، جہاں غزل اور نظم دونوں میں ان کا منفرد انداز نمایاں رہا۔

ان کا پہلا مجموعۂ کلام “خوشبو” 1976ء میں شائع ہوا جس نے ادبی حلقوں میں تہلکہ مچا دیا اور انہیں “خوشبوؤں کی شاعرہ” کا خطاب ملا۔ ان کی دیگر معروف تصانیف میں صد برگ، خودکلامی، انکار، ماہِ تمام، کفِ آئینہ اور گوشۂ چشم شامل ہیں۔

اردو ادب میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں پروین شاکر کو آدم جی ادبی ایوارڈ اور 1990ء میں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی سے نوازا گیا۔

پروین شاکر 26 دسمبر 1994ء کو اسلام آباد میں ایک کار حادثے میں 42 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں، مگر ان کی شاعری آج بھی قارئین کو اپنی خوشبو سے مسحور کیے ہوئے ہے۔