LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آبنائے ہرمز کے قریب نئی کشیدگی، بندر عباس اور جزیرہ قشم کے قریب یکے بعد دیگرے دھماکے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر دو روزہ سرکاری دورے پر ترکیہ پہنچ گئے نئی گج ڈیم کی تعمیر مکمل ہونے تک عدالتی مداخلت پر پابندی اسلام نے 14 صدیاں قبل خواتین کو مساوات اور معاشی حقوق دیے: یوسف رضا گیلانی ٹانک میں پولیس کی بکتر بند گاڑی کے قریب دھماکا، 2 اہلکار شہید، متعدد زخمی او آئی سی کانفرنس، خواتین کی ترقی مسلم دنیا کی خوشحالی کی ضمانت ہے: اعظم نذیر وزیراعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر قطر پہنچ گئے، نواز شریف بھی ہمراہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز پر مشترکہ طریقہ کار میں امریکا رکاوٹ بن رہا ہے: اسماعیل بقائی ضلع دیامر میں سیلابی ریلوں سے تباہی، متعدد مکانات اور رابطہ پل بہہ گئے وفاقی آئینی عدالت کا تاریخی فیصلہ؛ نئی گج ڈیم کیس میں ہائی کورٹ کا حکم کالعدم یوکرینی صدر نے وزیراعظم یولیا کو عہدے سے ہٹا دیا، حکومت مستعفی وفاق اپنے نظام کی خامیوں کا بوجھ عوام پر ڈالنے کے بجائے انہیں دور کرے، سہیل آفریدی بنگلہ دیش میں بارشوں اور سیلاب سے تباہی، اموات کی تعداد 52 ہوگئی مریم نواز سے پرتگال کے سفیر کی ملاقات، تجارت، سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق آئینی عدالت کا پیرسوہاہ مونال ریسٹورنٹ گرانے کا فیصلہ کالعدم قرار

اسلام آباد کیلئے علیحدہ اسمبلی کے قیام کی سفارش، براہ راست انتخابات اور نیا انتظامی نظام تجویز

Web Desk

5 June 2026

وفاقی حکومت نے اسلام آباد کے انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات کے تحت الگ اسمبلی اور چیف ایگزیکٹو کے قیام کی سفارش پر غور شروع کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کی گئی رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ اسلام آباد کے لیے ایک علیحدہ قانون ساز اسمبلی قائم کی جائے جو براہ راست منتخب ارکان پر مشتمل ہو۔

کمیٹی کی سفارشات کے مطابق مجوزہ اسمبلی 20 سے 30 ارکان پر مشتمل ہوگی جبکہ اس کا اپنا سیکریٹریٹ بھی ہوگا۔ یہ اسمبلی وفاقی دارالحکومت سے متعلق قانون سازی کی ذمہ دار ہوگی۔

تجاویز میں مزید کہا گیا ہے کہ اسلام آباد کا انتظامی ڈھانچہ مکمل طور پر الگ ہوگا اور ایک چیف ایگزیکٹو اس نظام کی سربراہی کرے گا۔ شہر کے ترقیاتی ادارے سی ڈی اے سمیت تمام انتظامی معاملات بھی اسی اسمبلی کے تحت آئیں گے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی منظوری کے بعد اس منصوبے کو قانون سازی کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔