LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیویارک میں سینٹر 360 کا آغاز، شہریوں کے لیے شہر کے دلکش مناظر مفت دستیاب اسلام آباد کیلئے علیحدہ اسمبلی کے قیام کی سفارش، براہ راست انتخابات اور نیا انتظامی نظام تجویز پاکستان ٹرمپ انتظامیہ کا اہم شراکت دار، علاقائی عدم استحکام چیلنج ہے: امریکی میڈیا پُرامن دنیا کی جانب بڑھنے کے لیے سرحدوں کی حفاظت ضروری ہے: محسن نقوی وزیر اعظم نے کمرشل کورٹس کے قیام کیلئے 8 رکنی کمیٹی تشکیل دیدی فرینکفرٹ ایئرپورٹ پر بڑا حادثہ؛ مسافروں کی بورڈنگ کے دوران برانڈ نیو بوئنگ طیارے کا نوز گیئر گر گیا وزیر داخلہ محسن نقوی کی ایرانی ہم منصب سکندر مومنی سے اہم ملاقات پاکستانی معیشت کے لیے بڑی کامیابی؛ مئی 2026 میں تجارتی خسارے میں 39 فیصد کی نمایاں کمی، سکیورٹی فورسز کا بلوچستان کے ضلع پنجگور میں آپریشن،6 خارجی ہلاک آئندہ مالی سال کا بجٹ 290 روپے فی ڈالر ریٹ پر بنے گا، وزارت خزانہ ثاقب چدھڑ پر مومنہ کو ہراساں کرنے کا مقدمہ درج، عبوری ضمانت منظور سپریم جوڈیشل کونسل، پالیسی ساز کمیٹی اور عدالتی کمیشن کے اجلاس طلب گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے لیے انتخابی مہم کا آج آخری روز پاک چین دوستی 75 برس بعد بھی اعتماد اور شراکت داری کی مضبوط مثال قرار ایران سے افزودہ یورینیم معاہدہ کیے بغیر بھی حاصل کیا جا سکتا ہے: ٹرمپ

اسلام آباد کیلئے علیحدہ اسمبلی کے قیام کی سفارش، براہ راست انتخابات اور نیا انتظامی نظام تجویز

Web Desk

5 June 2026

وفاقی حکومت نے اسلام آباد کے انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات کے تحت الگ اسمبلی اور چیف ایگزیکٹو کے قیام کی سفارش پر غور شروع کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کی گئی رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ اسلام آباد کے لیے ایک علیحدہ قانون ساز اسمبلی قائم کی جائے جو براہ راست منتخب ارکان پر مشتمل ہو۔

کمیٹی کی سفارشات کے مطابق مجوزہ اسمبلی 20 سے 30 ارکان پر مشتمل ہوگی جبکہ اس کا اپنا سیکریٹریٹ بھی ہوگا۔ یہ اسمبلی وفاقی دارالحکومت سے متعلق قانون سازی کی ذمہ دار ہوگی۔

تجاویز میں مزید کہا گیا ہے کہ اسلام آباد کا انتظامی ڈھانچہ مکمل طور پر الگ ہوگا اور ایک چیف ایگزیکٹو اس نظام کی سربراہی کرے گا۔ شہر کے ترقیاتی ادارے سی ڈی اے سمیت تمام انتظامی معاملات بھی اسی اسمبلی کے تحت آئیں گے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی منظوری کے بعد اس منصوبے کو قانون سازی کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔