LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وفاقی وزیرِ خزانہ کا بڑا اقدام؛ اسٹیٹ بینک کی سربراہی میں ‘ایس ایم ای فنانس ٹاسک فورس’ قائم چین: 325 ملین ڈالرز رشوت لینے پر سرکاری عہدیدار کو سزائے موت کراچی میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام، بی ایل اے کے 2 دہشت گرد گرفتار حکومت پیٹرول پر لیوی کا بھتہ وصول کر رہی ہے، قیمت 225 روپے ہونی چاہیے؛ حافظ نعیم الرحمن ملکی برآمدات میں اضافے کے لیے ایس ایم ایز کو قرضوں کی فراہمی آسان بنائی جائے؛ وزیرِ اعظم معیشت مضبوط استحکام کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے، جی ڈی پی 3.7 فیصد ریکارڈ؛ وزیرِ خزانہ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان کے باعث ریکارڈ ٹوٹنے کا سلسلہ برقرار اقوام متحدہ کا ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ زیارت میں دہشت گردوں کا پولیس چوکی پر حملہ، 9 اہلکار شہید یو اے ای میں ‘ویزا آن ارائیول’ کی شرائط تبدیل، کیا اب آپ اہل ہیں؟ انسانی سمگلنگ کیخلاف 59 ممالک میں عالمی کریک ڈاؤن، ایک ہزار سے زائد ملزم گرفتار اسرائیل کا امریکا سے ترکیہ کو ایف 35 جنگی طیارے اور پرزے فروخت نہ کرنے کا مطالبہ دہشتگردی کا مقابلہ جاری، ریاست کی رٹ ہر صورت قائم ہوگی: سرفراز بگٹی این ڈی ایم اے کا دریاؤں میں طغیانی اور مقامی سیلاب کا الرٹ جاری امریکہ میں شدید بارشوں کی تباہ کاری، نیو جرسی میں ہول سیل اسٹور کی چھت گر گئی، نیویارک سمیت کئی علاقوں میں طوفانی سیلاب کی وارننگ

امریکا نے مذاکرات کے دوران ہمیشہ پیٹھ میں چھراگھونپنے جیسے اقدامات کیے، ایرانی صدر

Web Desk

7 May 2026

ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگوہوئی۔ایرانی صدر نےامریکا پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن نے مذاکرات کے دوران ایران کے خلاف جارحانہ اقدامات کرکے پیٹھ میں چھرا گھونپنے جیسا رویہ اختیار کیا۔

ایرانی صدارتی دفتر کے مطابق صدر پزشکیان نے میکرون کو بتایا کہ امریکی رویے نے سفارتکاری کے عمل کو مذاکرات سے ہٹا کر دھمکیوں، دباؤ اور پابندیوں کی طرف موڑ دیا ہے، جس کے باعث تہران اب واشنگٹن پر اعتماد نہیں کرسکتا۔

صدر پزشکیان نے کہا کہ ایران نے امریکا کے ساتھ دو مرتبہ مذاکرات کیے، مگر دونوں مواقع پر بات چیت کے ساتھ ساتھ ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں بھی جاری رہیں۔ ان کے مطابق ایسا طرزعمل دراصل پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہے۔

ایرانی صدر نے واضح کیا کہ کسی بھی مؤثر مذاکرات کے لیے ضروری ہے کہ جنگ مکمل طور پر بند ہو اور ایران کو اس بات کی ضمانت دی جائے کہ مستقبل میں دوبارہ جارحانہ کارروائیاں نہیں ہوں گی۔

انہوں نے متحدہ عرب امارات پر حملوں کے الزامات کی بھی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران کوئی فوجی کارروائی کرتا ہے تو اس کی مسلح افواج کھل کر اس کا اعلان کرتی ہیں۔

آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے صدر پزشکیان نے کہا کہ ایران طویل عرصے سے اس اہم بحری گزرگاہ کی سلامتی کا محافظ رہا ہے، تاہم امریکی بحری ناکہ بندی اور دیگر اقدامات نے خطے کے استحکام کو متاثر کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے سے متعلق کسی بھی مذاکرات کے لیے امریکا کی جانب سے عائد بحری ناکہ بندی ختم کرنا ضروری ہوگا۔

ایرانی صدارتی بیان کے مطابق فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے بھی جنگ بندی کے فریم ورک کی حمایت کا اظہار کیا اور کہا کہ امریکا کی بحری ناکہ بندی اور لبنان پر اسرائیلی حملے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں ہیں۔