LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
حکومت اور اپوزیشن میں معقول دوریاں ہونی چاہئیں، مخالفت برائے مخالفت نہیں: مولانا فضل الرحمان وزیراعظم شہباز شریف نے گوگل کے پاکستان آفس کا افتتاح کر دیا سپریم کورٹ کا بانی کے علاج سے متعلق تحریری فیصلہ جاری، میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو ’نیا امریکی علاقہ‘ قرار دے دیا، ایران کا شدید ردعمل پاکستان سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، کاروبار کا منفی رجحان رہا پاکستان اور روس کے درمیان کلیدی شعبوں میں تعاون اور رابطے جاری رکھنے پر اتفاق سپریم کورٹ کا فیصلہ شاندار اور تاریخی، سیاسی بے چینی ختم ہوگی: شیخ رشید عدالتی حکم پر مکمل عمل، بانی کی صحت پر سیاست نہیں کریں گے: پی ٹی آئی اسرائیل اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو سبوتاژ کر رہا ہے: عباس عراقچی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی قوم نے 90 ہزار جانوں کی قربانیاں دیں، عطا تارڑ پیٹرول مزید مہنگا ہونے پر جماعت اسلامی کی کل ملک گیر ہڑتال کی دھمکی پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کیلئے حلقہ بندیاں مکمل، ریکارڈ الیکشن کمیشن کو ارسال سپریم کورٹ کا عمران خان کو شفا ہسپتال منتقل کرنے کا حکم وزیراعظم کی عازمینِ حج کو بہترین سہولیات کی فراہمی، مؤثر انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت ڈی جی آئی ایس پی آر کی سمر انٹرن شپ 2026 کے شرکا سے خصوصی نشست

خطے میں پائیدار امن صرف بیرونی مداخلت کے بغیر ہی ممکن ہے، عباس عراقچی

Web Desk

2 July 2026

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں پائیدار امن و استحکام کا قیام صرف اور صرف بیرونی یا غیر ملکی مداخلت کے بغیر ہی ممکن ہے۔

ایک خصوصی بیان میں ایرانی وزیر خارجہ نے بحرین میں منعقد ہونے والے امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے اعلیٰ سطح کے عسکری و سکیورٹی اجلاس پر کڑی تنقید کی۔ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ امریکی فوجی کمانڈ خطے کے ممالک کو سکیورٹی فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے اور وہ یہاں امن کے بجائے مزید بدامنی لائی ہے۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے مزید کہا کہ یہ غیر ملکی طاقتیں تو خود اپنا تحفظ کرنے کے قابل بھی نہیں ہیں۔

خیال رہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کی قیادت میں بحرین میں خطے کے اعلیٰ فوجی حکام کا ایک اہم سکیورٹی اجلاس منعقد ہوا، جس میں مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورتحال، علاقائی استحکام اور دفاعی تعاون کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس عسکری اجلاس میں امریکہ اور مشرقِ وسطیٰ کے 12 ممالک کے دفاعی حکام نے شرکت کی، جہاں بحری تجارتی راستوں کے تحفظ خصوصاً آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں بلا رکاوٹ تجارتی سرگرمیاں اور جہاز رانی جاری رکھنے کے لیے مشترکہ کوششیں تیز کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔