LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
خطے کے پانیوں میں امریکی فوج کی نقل و حرکت، انکے فوجی ساز و سامان پر نظر ہے: ایران فارما سیوٹیکل صنعت کو عالمی سطح پر نمایاں کرنے کا منصوبہ پیش کر دیا: مصطفیٰ کمال خلائی سائنسدانوں کے استعفوں کے بعد مودی سرکار پریشان، رضاکارانہ ریٹائرمنٹ اور استعفوں پر پابندی لگادی پٹرولیم قیمتوں کی ڈی ریگولیشن مسترد، پٹرول پمپ مالکان کی ہڑتال کی دھمکی پاسدارانِ انقلاب کا قطر میں امریکی العدید ایئر بیس کو نشانہ بنانے کا دعویٰ عوام پر مہنگائی کا ایک اور بم: پٹرول 5 روپے 44 پیسے اور ڈیزل ریکارڈ 31 روپے 5 پیسے مہنگا ایرانی حملے میں بجلی اور ڈی سیلینیشن پلانٹ کو نقصان پہنچا: کویت امریکا نے غیرملکی طلبہ اور صحافیوں کے ویزا قوانین سخت کر دیے، قیام کی مدت مقرر پیٹرولیم مصنوعات:حکومتی اقدام کو “لوٹ مار” اور “ڈاکہ” قرار,حافظ نعیم الرحمان اوگرا روزانہ کی بنیاد پر پٹرولیم قیمتوں کا تعین کرے گی: وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری سے پورٹ قاسم کی ترقی کا نیا دور شروع ہوگا: معظم الیاس عام انتخابات 2026: آزاد کشمیر میں جدید رزلٹ مینجمنٹ سسٹم متعارف کرانے کی تیاری آزاد کشمیر عام انتخابات 27 جولائی کو، 45 حلقوں میں پولنگ ہوگی ان دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن آپریشن ناگزیر ہو چکا ہے: سردار تنویر الیاس کا شرپسندوں کے حملے کے بعد ویڈیو پیغام صدرآئی پی پی عبدالعلیم خان کی سردار تنویر الیاس کے انتخابی قافلے پر حملے کی سخت مذمت

انفلوئنزا اے کے کیسز میں تیزی سے اضافہ، کیسے بچا جائے

Web Desk

17 July 2026

بھارت کے بعض علاقوں، بالخصوص ممبئی میں کووڈ-19 کے نئے کیسز سامنے آنے کے ساتھ ساتھ انفلوئنزا اے (Influenza A) کے کیسز میں بھی غیر معمولی اور تیز رفتار اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ ممبئی کے ماہرینِ صحت، بشمول سرجن ڈاکٹر امیت تھاڈانی اور پلمونولوجسٹ ڈاکٹر مناس مینگر، کے مطابق اس بار انفلوئنزا اے کے کیسز وبائی صورتحال اختیار کرتے دکھائی دے رہے ہیں، جس کی بڑی وجوہات میں موسم کی تبدیلی، بار بار سفر، ہجوم والی بند جگہیں اور کمزور قوتِ مدافعت شامل ہیں۔ ڈاکٹر سمیر گارڈے نے واضح کیا کہ انفلوئنزا اے اور کووڈ-19 کی علامات (جیسے تیز بخار، جسم درد، گلے میں خراش، خشک کھانسی اور شدید تھکن) کافی حد تک مماثلت رکھتی ہیں، اس لیے صرف علامات کی بنیاد پر ان میں فرق کرنا آسان نہیں۔ ماہرین نے شہریوں، بالخصوص بزرگوں، حاملہ خواتین اور پہلے سے کسی بیماری میں مبتلا افراد کو ہجوم والے مقامات پر ماسک پہننے، باقاعدگی سے ہاتھ دھونے، بیمار ہونے پر قرنطینہ اختیار کرنے اور سالانہ فلو ویکسین لگوانے کی تاکید کی ہے۔