LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان سفارتی محاذ پر اہم کامیابیاں حاصل کر رہا ہے، رانا قاسم نون پنجاب کابینہ نے 5850 ارب روپے کے بجٹ کی منظوری دے دی اتحاد بین المسلمین پنجاب کمیٹی کا محرم میں امن وامان، بین المسالک ہم آہنگی پر اتفاق سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہمارا 2 رکنی بنچ ہی کافی ہے: وفاقی آئینی عدالت وزیراعظم کی گلگت میں شمسی توانائی منصوبہ جلد ازجلد مکمل کرنے کی ہدایت ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز کا سوڈان میں خوراک کے بدلے جنسی زیادتی کا اعتراف توانائی بحران برقرار، سپلائی چین کا تعطل ختم ہونے میں وقت لگے گا: آئی ایم ایف محسن نقوی کی حافظ نعیم الرحمان سے ملاقات، خطے کی موجودہ صورتحال پر گفتگو امریکی عزم کو جانچنے کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے: ایرانی صدر ایرانی فوج کا معاہدے پر عملدرآمد کے دوران پہلے سے زیادہ چوکس رہنے کا اعلان پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر زبردست تیزی حزب اللہ کا بھی ایران امریکا مفاہمتی یادداشت کا خیرمقدم کیلیفورنیا میں واقع ایڈورڈز اڈے پر امریکی فضائیہ کا بی-52 بمبار طیارہ تباہ ایران شرائط پوری کرے تو 300 ارب ڈالر کے تعمیراتی فنڈز مل سکتے ہیں: جے ڈی وینس ایران سے اچھے تعلقات کی امید، آبنائے ہرمز جمعہ تک مکمل کھول دی جائیگی: ٹرمپ

آئی ایم ایف رپورٹ حکومت کے لیے چارج شیٹ، مزمل اسلم کا سخت ردعمل

Web Desk

20 November 2025

پشاور : خیبرپختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کی پاکستان پر 186 صفحات پر مشتمل کرپشن رپورٹ حکومت کے لیے ایک واضح چارج شیٹ ہے، اور حکومت کبھی یہ رپورٹ عوام کے سامنے نہ لاتی اگر آئی ایم ایف اگلی قسط جاری نہ کرنے کی شرط نہ لگاتی۔

مزمل اسلم نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ آئی ایم ایف نے یہ رپورٹ جولائی میں حکومت کو فراہم کی تھی، مگر حکومت نے اسے نومبر میں رات کے اندھیرے میں شائع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی کی حکومت ہوتی تو یہ رپورٹ دن کے وقت عوام کے سامنے پیش کی جاتی۔

مشیر خزانہ نے بتایا کہ رپورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں اور ججز کی تعیناتی کے عمل پر خدشات بیان کیے گئے ہیں۔ رپورٹ کی تاخیر اس لیے بھی ہوئی تاکہ ستائیس ویں آئینی ترمیم کو پاس کیا جا سکے۔

مزمل اسلم نے کہا کہ حکومت اس رپورٹ پر کیوں خاموش ہے، عوام کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ رپورٹ میں کتنی حقیقت ہے اور کتنی نہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے پچھلے دو سال میں کرپشن کے 5,300 ارب روپے ریکور کیے، مگر آئی ایم ایف کے مطابق یہ بھی کرپشن کا صرف ایک حصہ ہے۔

مزمل اسلم نے مزید کہا کہ پاکستان میں موجود بے ضابطگیاں “ایلیٹ کیپچر” کی وجہ سے 6.5 فیصد جی ڈی پی کے برابر ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت اس شرح نمو میں اضافہ اپنے وسائل سے کر سکتی تھی۔ انہوں نے وفاق کی فنڈز کے استعمال پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ وسائل ضائع ہو رہے ہیں جبکہ فنڈز ٹھیک طریقے سے استعمال نہیں ہو رہے۔

مشیر خزانہ نے سابقہ حکومت کے اسکینڈلز کی طرف بھی اشارہ کیا اور کہا کہ پچھلے دو سال میں سامنے آنے والی کرپشن 5,300 ارب روپے کی رپورٹ کیسے نظرانداز کی جا سکتی ہے، جب کہ موجودہ اسکینڈلز جیسے گندم، پاور، ایل این جی، شوگر اور پنجاب میں آڈٹ جنرل کی رپورٹ میں اربوں روپے کی بدعنوانیاں سامنے آئی ہیں۔

مزمل اسلم نے زور دیا کہ حکومت کو شفافیت کے اصولوں کے مطابق رپورٹ عوام کے سامنے پیش کرنی چاہیے تاکہ عوام اعتماد محسوس کریں۔