LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاک چین تعلقات نئی اسٹریٹجک بلندی پر: مشترکہ اعلامیے میں “چین پاکستان سکیورٹی پارٹنرشپ” کے قیام بڑی کامیابی توحید ہے، اللہ صبر کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے، خطبہ حج امریکا کو خطے میں مزید اڈے قائم کرنے کا موقع نہیں ملے گا: مجتبیٰ خامنہ ای پنجاب میں عید الاضحیٰ کی تعطیلات کے دوران شدید ہیٹ ویو کا خدشہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سرکاری دورے پر نیویارک پہنچ گئے مریم نواز کی اے آئی آئی بی کو ڈویلپمنٹ پراجیکٹ میں شراکت داری کی پیشکش پاکستان اور چین کا تزویراتی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق: مشترکہ اعلامیہ بھارت میں عیدالاضحیٰ پر نمازعید اور قربانی پر پابندی عائد ایران کے ساتھ معاہدہ اب بھی ممکن، قطر میں بات ہوئی ہے: امریکی وزیر خارجہ چین دنیا کیلئے قابل تقلید ماڈل، معاشی طاقت میں کوئی ثانی نہیں: وزیراعظم وزیر داخلہ محسن نقوی کا منیٰ میں پاکستانی حجاج کرام کے کیمپس کا دورہ وزیراعظم کی چینی وفود سے ملاقاتیں، اقتصادی تعاون کو وسعت دینے کا عزم لبیک اللھم لبیک! حج کا رکن اعظم ’’وقوف عرفہ‘‘ آج ادا کیا جائے گا ملک بھر میں بوہری برادری آج عیدالاضحیٰ مذہبی جوش وخروش سے منا رہی ہے ایران میں صدر مسعود پزشکیان کی ہدایت پر انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کا فیصلہ

آئی ایم ایف رپورٹ حکومت کے لیے چارج شیٹ، مزمل اسلم کا سخت ردعمل

Web Desk

20 November 2025

پشاور : خیبرپختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کی پاکستان پر 186 صفحات پر مشتمل کرپشن رپورٹ حکومت کے لیے ایک واضح چارج شیٹ ہے، اور حکومت کبھی یہ رپورٹ عوام کے سامنے نہ لاتی اگر آئی ایم ایف اگلی قسط جاری نہ کرنے کی شرط نہ لگاتی۔

مزمل اسلم نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ آئی ایم ایف نے یہ رپورٹ جولائی میں حکومت کو فراہم کی تھی، مگر حکومت نے اسے نومبر میں رات کے اندھیرے میں شائع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی کی حکومت ہوتی تو یہ رپورٹ دن کے وقت عوام کے سامنے پیش کی جاتی۔

مشیر خزانہ نے بتایا کہ رپورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں اور ججز کی تعیناتی کے عمل پر خدشات بیان کیے گئے ہیں۔ رپورٹ کی تاخیر اس لیے بھی ہوئی تاکہ ستائیس ویں آئینی ترمیم کو پاس کیا جا سکے۔

مزمل اسلم نے کہا کہ حکومت اس رپورٹ پر کیوں خاموش ہے، عوام کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ رپورٹ میں کتنی حقیقت ہے اور کتنی نہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے پچھلے دو سال میں کرپشن کے 5,300 ارب روپے ریکور کیے، مگر آئی ایم ایف کے مطابق یہ بھی کرپشن کا صرف ایک حصہ ہے۔

مزمل اسلم نے مزید کہا کہ پاکستان میں موجود بے ضابطگیاں “ایلیٹ کیپچر” کی وجہ سے 6.5 فیصد جی ڈی پی کے برابر ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت اس شرح نمو میں اضافہ اپنے وسائل سے کر سکتی تھی۔ انہوں نے وفاق کی فنڈز کے استعمال پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ وسائل ضائع ہو رہے ہیں جبکہ فنڈز ٹھیک طریقے سے استعمال نہیں ہو رہے۔

مشیر خزانہ نے سابقہ حکومت کے اسکینڈلز کی طرف بھی اشارہ کیا اور کہا کہ پچھلے دو سال میں سامنے آنے والی کرپشن 5,300 ارب روپے کی رپورٹ کیسے نظرانداز کی جا سکتی ہے، جب کہ موجودہ اسکینڈلز جیسے گندم، پاور، ایل این جی، شوگر اور پنجاب میں آڈٹ جنرل کی رپورٹ میں اربوں روپے کی بدعنوانیاں سامنے آئی ہیں۔

مزمل اسلم نے زور دیا کہ حکومت کو شفافیت کے اصولوں کے مطابق رپورٹ عوام کے سامنے پیش کرنی چاہیے تاکہ عوام اعتماد محسوس کریں۔