LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آزاد کشمیر: 9 جون کی ہڑتال کی کال، انٹرنیٹ معطل، معمولات زندگی متاثر آزاد جموں و کشمیر: کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے 72 کارکن گرفتار یلو لائن منصوبے میں 6ارب روپے کی مبینہ کرپشن، سندھ حکومت نے تحقیقات شروع کر دیں پنجاب اسمبلی میں ترقی، جدید کاری کیلئے 7 ارب 41 کروڑ کے ترقیاتی پیکیج کی تجویز نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ملک بھر میں شدید ہیٹ ویو کا الرٹ؛ درجہ حرارت 46 ڈگری تک جانے کی پیشگوئی، محکمہ موسمیات تنخواہوں میں 10 تا15 فیصد اضافے کی تجویز، حتمی فیصلہ وزیراعظم کریں گے وزیراعظم کی قیادت میں پاک چین معاشی تعاون نئی بلندیوں کی جانب گامزن ہے، ملک احمد خان گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات 2026؛ الیکشن کمیشن کی تیاریاں مکمل، پولنگ کا سامان پرزائیڈنگ آفیسرز کے حوالے کرنے کا عمل شروع امریکا کے ایرانی تنصیبات پر حملے، کویت اور بحرین میں جوابی میزائل داغ دیئے گئے ٹرمپ کی چیف آف سٹاف سوزی وائلز کا عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ ایرانی سپریم لیڈر نے 2 ہزار سے زائد قیدیوں کی سزا معاف کر دی امریکا نے کویت کو انسداد ڈرون، متعلقہ آلات کی ممکنہ فروخت کی منظوری دیدی بجٹ تاخیر اور معاشی بحران، حکومت پر دباؤ بڑھ گیا: اسد قیصر امریکی صدر ٹرمپ کی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی کی پیشگوئی

ایران جنگ سے پیدا ہونے والے معاشی بحران سے خبردار رہنا چاہیے: آئی ایم ایف

Web Desk

10 April 2026

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا نے ایران جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ممکنہ عالمی معاشی بحران کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اپنے حالیہ بیان میں انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اس تنازع کے باعث پیدا ہونے والے منفی سپلائی جھٹکے (Supply Shocks) عالمی معیشت پر شدید دباؤ ڈال سکتے ہیں، جس سے مہنگائی میں اضافے کا واضح خطرہ موجود ہے۔ جارجیوا نے خاص طور پر کم آمدنی والے اور تیل درآمد کرنے والے ممالک کو متنبہ کیا کہ وہ اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں، اس لیے انہیں اپنی مالیاتی پالیسیوں میں انتہائی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔

آئی ایم ایف کی سربراہ نے مرکزی بینکوں پر بھی زور دیا کہ وہ بدلتی ہوئی صورتحال اور مہنگائی کے خطرات پر کڑی نظر رکھیں تاکہ بروقت اقدامات کیے جا سکیں۔ انہوں نے حکومتوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے محدود وسائل کو دانشمندی اور ترجیحی بنیادوں پر استعمال کریں تاکہ معاشی دباؤ کو کم سے کم کیا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ آئی ایم ایف کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی منڈیوں میں توانائی کی قیمتوں اور سپلائی چین کے حوالے سے غیر یقینی کی صورتحال پائی جاتی ہے، جس کے براہِ راست اثرات ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں پر پڑ سکتے ہیں۔