LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
کسی بھی دورے کے دوران مارکیٹیں اور کاروبار بند نہ کئے جائیں، مریم نواز کی حکام کو ہدایت امریکی انتخابات کے نتائج نے امریکا کو تاریخ میں کئی قدم پیچھے دھکیل دیا: ٹرمپ مصر میں مسافر ٹرین حادثہ، متعدد بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، 64 افراد زخمی غزہ میں بارشوں سے 70 ہزار خیمے زیر آب، ساڑھے 3 لاکھ بے گھر افراد متاثر ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم

ٹیلی کام سیکٹر کا بڑا انضمام؛ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹیلی نار پاکستان کی یوفون میں شمولیت کی اسکیم منظور کر لی

Web Desk

14 July 2026

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹیلی کام سیکٹر میں ایک بڑے تاریخی فیصلے کے تحت ٹیلی نار پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ کے پاک ٹیلی کام موبائل لمیٹڈ (یوفون) میں انضمام (Merger) کی اسکیم کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ ہائیکورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو نے درخواست منظور کرتے ہوئے تحریری فیصلہ جاری کیا، جس کے مطابق ٹیلی نار کے تمام اثاثے، جائیدادیں، حقوق اور واجبات اب پاک ٹیلی کام موبائل لمیٹڈ کو منتقل ہو جائیں گے، جبکہ ٹیلی نار پاکستان بغیر کسی مزید کارروائی کے تحلیل شدہ تصور ہوگی۔ عدالتِ عالیہ نے واضح کیا کہ ایسے انتظامات کی اسکیموں میں عدالت کا اختیار محض نگران نوعیت کا ہوتا ہے اور کمپنیز ایکٹ 2017 کے تمام قانونی تقاضے پورے ہونے اور اسکیم کے منصفانہ، قانونی اور عوامی مفاد کے عین مطابق ہونے پر یہ منظوری دی گئی ہے۔ عدالت نے درخواست گزاروں کو فیصلے کی تصدیق شدہ کاپی رجسٹرار ایس ای سی پی (SECP) کے پاس جمع کرانے اور اسکیم کے نفاذ کے لیے تمام قانونی، ضابطہ جاتی اور مالی تقاضے پورے کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔