LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسحاق ڈار کا موریطانیہ کے وزیر خارجہ سے رابطہ، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال پاکستان کا مقبوضہ کشمیر سے متعلق امریکی بیان پر ناظم الامور کو ڈی مارش اقتصادی رابطہ کمیٹی نے چینی برآمد کرنے کی اجازت دے دی وزیراعظم سے پاکستان میں اقوام متحدہ کے ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر کی الوداعی ملاقات بلاول بھٹو کا پارلیمان کو فعال بنانے پر زور، اپوزیشن کو کمیٹیوں میں واپسی کی دعوت ایران کا متحدہ عرب امارات کا ٹینکر قبضے میں لینے کا دعویٰ غیر قانونی کال سینٹر چلانے پر 275 غیر ملکی گرفتار، 76 کو واپس بھیجنے کا فیصلہ بلاول بھٹو کی اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات، پارلیمانی امور، ملکی سیاست پر گفتگو عمران خان کو جیل مینوئل کے مطابق علاج کی سہولتیں ملتی رہیں گی:عطا تارڑ بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر ریٹیلر ایپ کا اجراء، چھوٹے دکانداروں کیلئے ٹیکس سکیم آسان بنا دی: وزیر خزانہ محسن نقوی کا پاسپورٹ آفس گارڈن ٹاؤن کا دورہ، شہریوں کی شکایات پر برہم اسحاق ڈار کا ترک وزیر خارجہ سے رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال پاکستان SCO اجلاس کی میزبانی کرے گا، اسحاق ڈار کا تیاریوں پر اظہارِ اطمینان جنگ کے دوران امریکا نے مذاکرات کی درخواست کی: ایرانی وزیر خارجہ

ٹیلی کام سیکٹر کا بڑا انضمام؛ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹیلی نار پاکستان کی یوفون میں شمولیت کی اسکیم منظور کر لی

Web Desk

14 July 2026

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹیلی کام سیکٹر میں ایک بڑے تاریخی فیصلے کے تحت ٹیلی نار پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ کے پاک ٹیلی کام موبائل لمیٹڈ (یوفون) میں انضمام (Merger) کی اسکیم کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ ہائیکورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو نے درخواست منظور کرتے ہوئے تحریری فیصلہ جاری کیا، جس کے مطابق ٹیلی نار کے تمام اثاثے، جائیدادیں، حقوق اور واجبات اب پاک ٹیلی کام موبائل لمیٹڈ کو منتقل ہو جائیں گے، جبکہ ٹیلی نار پاکستان بغیر کسی مزید کارروائی کے تحلیل شدہ تصور ہوگی۔ عدالتِ عالیہ نے واضح کیا کہ ایسے انتظامات کی اسکیموں میں عدالت کا اختیار محض نگران نوعیت کا ہوتا ہے اور کمپنیز ایکٹ 2017 کے تمام قانونی تقاضے پورے ہونے اور اسکیم کے منصفانہ، قانونی اور عوامی مفاد کے عین مطابق ہونے پر یہ منظوری دی گئی ہے۔ عدالت نے درخواست گزاروں کو فیصلے کی تصدیق شدہ کاپی رجسٹرار ایس ای سی پی (SECP) کے پاس جمع کرانے اور اسکیم کے نفاذ کے لیے تمام قانونی، ضابطہ جاتی اور مالی تقاضے پورے کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔