LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
انتخابات میں کامیابی یا شکست کو جمہوری روایت کے مطابق قبول کیا جانا چاہئے: اختیار ولی خان وزیراعلیٰ سندھ کا بارش سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو، نکاسی آب کے اقدامات تیز کرنے کا حکم عمان سے جاری مذاکرات حتمی مرحلے میں داخل ہوچکے: ایران کی تصدیق ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر تیار ہوگیا: اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ ایران سے مذاکرات آج دوپہر سے شروع ہوں گے، امریکی صدر یادداشت پر دستخط شوریٰ کونسل کی اجتماعی دانشمندی کا نتیجہ ہے، ایرانی صدر برطانیہ، بلغاریہ اور یوکرین کی ایران کو جنگ میں شامل نہ ہونے کی یقین دہانی قومی سلامتی کے دفاع کیلئے مکمل تیاری موجود ہے، ماجد ابن رضا سعودی، ایرانی، اردنی اور قطری وزرائے خارجہ کا رابطہ، قیامِ امن کے عزم کا اعادہ عمان سے مذاکرات: ایران نے موجودہ جنوبی بحری راستہ ناقابل قبول قرار دیدیا یونان میں جنگلاتی آگ بجھاتے 2 ہیلی کاپٹر ٹکرا گئے، عملے کے 2 افراد ہلاک راولپنڈی سے اڑھائی سالہ بچہ اغوا کر لیا گیا ملک کے سیاسی و معاشی بحرانوں کا حل صرف شفاف انتخابات ہیں: اسد قیصر آزاد کشمیر انتخابات کا دوسرا مرحلہ: ن لیگ 10 اور پی پی 2 نشست پر کامیاب سوات میں دہشتگردی ناقابل برداشت، حکومت شہریوں کا تحفظ یقینی بنائے: حافظ نعیم الرحمان

ڈرگ ڈیلر پنکی پر ڈرامہ بنانے کی مخالفت، حنا پرویز بٹ کی میڈیا انڈسٹری پر تنقید

Web Desk

6 June 2026

لاہور: پاکستان مسلم لیگ (ن) کی متحرک رہنما حنا پرویز بٹ نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک مروجہ بیان میں مبینہ طور پر ’پنکی‘ کی زندگی پر ڈرامہ سیریل بنانے کی خبروں کی سخت ترین الفاظ میں مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے منفی کرداروں کو اسکرین پر ہیرو بنا کر پیش کرنا ہمارے معاشرے کے لیے کسی صورت درست پیغام نہیں ہے۔

لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ پنکی کوئی ایسا رول ماڈل نہیں ہے جس کی زندگی کے مینوئل کو ڈرامے کی شکل میں پیش کیا جائے۔ انہوں نے اپنا واضع مؤقف اختیار کیا کہ منشیات فروشی یا دیگر سنگین جرائم سے وابستہ کرداروں کو ٹی وی اسکرین پر مثالی شخصیت کے طور پر دکھانا ایک شرمناک عمل ہے اور اس سے معاشرے میں غلط رجحانات کو فروغ مل سکتا ہے۔

میڈیا انڈسٹری اور تفریحی صنعت کے مینوئل پر بات کرتے ہوئے حنا پرویز بٹ کا کہنا تھا جرائم پیشہ عناصر کو عوام کے سامنے ہیرو یا قابلِ تقلید شخصیت بنا کر ہرگز پیش نہیں کیا جا سکتا۔میڈیا اور تفریحی صنعت کی یہ اولین مروجہ ذمہ داری ہے کہ وہ صرف ایسے کرداروں کو اجاگر کرے جو معاشرے میں مثبت کردار ادا کر رہے ہوں اور نوجوان نسل کے لیے بہترین مثال بن سکیں۔

حنا پرویز بٹ نے مزید کہا کہ ملک کی باوقار اور باکردار خواتین کی تذلیل کسی صورت قبول نہیں کی جا سکتی، جبکہ وہ خواتین جو مختلف شعبوں میں مثبت خدمات انجام دے رہی ہیں، انہیں نمایاں کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے اس بات پر گہرے افسوس کا اظہار کیا کہ محض ریٹنگز، ویورشپ اور مالی فوائد حاصل کرنے کے لیے منفی کرداروں کی تشہیر کرنا درست طرزِ عمل نہیں ہے۔ انہوں نے میڈیا انڈسٹری کے مالکان اور پروڈیوسرز پر زور دیا کہ وہ اپنی مروجہ ترجیحات پر فوری نظرثانی کریں اور ایسے مواد کی حوصلہ شکنی کریں جو جرائم پیشہ عناصر کو غیر ضروری اور سستی شہرت فراہم کرتا ہو۔

انہوں نے واضع مینوئل گائیڈ کے تحت مطالبہ کیا کہ جرائم سے وابستہ افراد کو رول ماڈل بنانے کے اس بڑھتے ہوئے خطرناک رجحان کو فوری طور پر روکا جائے اور پنکی پر ڈرامہ بنانے کی کسی بھی کوشش کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ ان کے بقول معاشرے کو مثبت اقدار اور تعمیری کرداروں کی ترویج کی ضرورت ہے، نہ کہ ایسے افراد کی تشہیر کی جو غلط سرگرمیوں سے منسلک رہے ہوں۔