LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
پسند کی شادی کیلئے لڑکی 100 فٹ بلند ٹاور پر چڑھ گئی خلا میں بڑھتے کچرے سے نمٹنے کے لئے منصوبے پر کام شروع سعودی عرب اور یونان کا محفوظ بحری راستوں، توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق بائیں بازو کے رہنما لوئس سلوا چوتھی بار برازیل کے صدر منتخب فرانس میں احتجاج کرنے والی تنظیموں نے 5 نومبر کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کر دیا لانا نصیبہ یو این سیکرٹری جنرل بننے کی کوشش میں گریٹر اسرائیل منصوبے کو آگے بڑھا رہی ہیں، قالیباف اسرائیلی الیکشن: مقبوضہ مغربی کنارے کی تمام زمینی گزر گاہیں بند، نقل و حرکت پر پابندی ایران اور اتحادی اسرائیلی انتخابات پر اثر انداز ہونے کیلئے حملے کر سکتے ہیں، نیتن یاہو سری لنکا کی بین الاقوامی پانیوں میں امدادی کارروائی، 40 ایرانی ملاحوں کو بچا لیا ایران نے امریکی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی کوششیں تیز کر دیں، ٹرمپ انتظامیہ سفارتکاری کیلئے تیار، جارحیت کا جواب دینے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں: اسماعیل بقائی سینئر ایرانی عہدیدار کی دوحہ سے ایک وفد تہران پہنچنے کی تصدیق سٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اہم اجلاس آج ہوگا انگلینڈ کے خلاف شاندار کامیابی، صدر اور وزیراعظم کی قومی کرکٹ ٹیم کو مبارکباد روس کے بین الاقوامی اقتصادی فورم 2026ء کے سفیر کے عہدے پر پاکستانی شخصیت کی تقرری

ڈرگ ڈیلر پنکی پر ڈرامہ بنانے کی مخالفت، حنا پرویز بٹ کی میڈیا انڈسٹری پر تنقید

Web Desk

6 June 2026

لاہور: پاکستان مسلم لیگ (ن) کی متحرک رہنما حنا پرویز بٹ نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک مروجہ بیان میں مبینہ طور پر ’پنکی‘ کی زندگی پر ڈرامہ سیریل بنانے کی خبروں کی سخت ترین الفاظ میں مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے منفی کرداروں کو اسکرین پر ہیرو بنا کر پیش کرنا ہمارے معاشرے کے لیے کسی صورت درست پیغام نہیں ہے۔

لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ پنکی کوئی ایسا رول ماڈل نہیں ہے جس کی زندگی کے مینوئل کو ڈرامے کی شکل میں پیش کیا جائے۔ انہوں نے اپنا واضع مؤقف اختیار کیا کہ منشیات فروشی یا دیگر سنگین جرائم سے وابستہ کرداروں کو ٹی وی اسکرین پر مثالی شخصیت کے طور پر دکھانا ایک شرمناک عمل ہے اور اس سے معاشرے میں غلط رجحانات کو فروغ مل سکتا ہے۔

میڈیا انڈسٹری اور تفریحی صنعت کے مینوئل پر بات کرتے ہوئے حنا پرویز بٹ کا کہنا تھا جرائم پیشہ عناصر کو عوام کے سامنے ہیرو یا قابلِ تقلید شخصیت بنا کر ہرگز پیش نہیں کیا جا سکتا۔میڈیا اور تفریحی صنعت کی یہ اولین مروجہ ذمہ داری ہے کہ وہ صرف ایسے کرداروں کو اجاگر کرے جو معاشرے میں مثبت کردار ادا کر رہے ہوں اور نوجوان نسل کے لیے بہترین مثال بن سکیں۔

حنا پرویز بٹ نے مزید کہا کہ ملک کی باوقار اور باکردار خواتین کی تذلیل کسی صورت قبول نہیں کی جا سکتی، جبکہ وہ خواتین جو مختلف شعبوں میں مثبت خدمات انجام دے رہی ہیں، انہیں نمایاں کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے اس بات پر گہرے افسوس کا اظہار کیا کہ محض ریٹنگز، ویورشپ اور مالی فوائد حاصل کرنے کے لیے منفی کرداروں کی تشہیر کرنا درست طرزِ عمل نہیں ہے۔ انہوں نے میڈیا انڈسٹری کے مالکان اور پروڈیوسرز پر زور دیا کہ وہ اپنی مروجہ ترجیحات پر فوری نظرثانی کریں اور ایسے مواد کی حوصلہ شکنی کریں جو جرائم پیشہ عناصر کو غیر ضروری اور سستی شہرت فراہم کرتا ہو۔

انہوں نے واضع مینوئل گائیڈ کے تحت مطالبہ کیا کہ جرائم سے وابستہ افراد کو رول ماڈل بنانے کے اس بڑھتے ہوئے خطرناک رجحان کو فوری طور پر روکا جائے اور پنکی پر ڈرامہ بنانے کی کسی بھی کوشش کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ ان کے بقول معاشرے کو مثبت اقدار اور تعمیری کرداروں کی ترویج کی ضرورت ہے، نہ کہ ایسے افراد کی تشہیر کی جو غلط سرگرمیوں سے منسلک رہے ہوں۔