LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیرِ اعظم شہباز شریف 23 تا 25 مئی چین کا دورہ کریں گے آٹھ صفر کا معرکہ حق دشمن کبھی فراموش نہیں کر پائے گا: مریم نواز پاکستان اپنی خودمختاری پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا: ملک محمد احمد خان حکومت نے لیوی کی شرح بڑھا کر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ماضی میں پروپیگنڈا بہت کیا، ایک اینٹ بھی نہیں لگائی گئی: خواجہ آصف معرکہ حق کے حوالے سےترکیہ میں پاکستانی سفارتخانے کی خصوصی تقریب آئی ایم ایف نے پاکستان کیلئے اقتصادی جائزوں کی منظوری دے دی مہاجر پرندوں کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری ہے، مریم نواز شریف پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان منشیات کی روک تھام کیلئے معاہدہ او آئی سی کا فلسطینی علاقوں پر قبضے کے خاتمے، دو ریاستی حل کو آگے بڑھانے کا مطالبہ امریکہ، ایران مذاکرات آئندہ ہفتے اسلام آباد میں دوبارہ شروع ہوں گے: امریکی اخبار ایرانی وزیر خارجہ کا برطانوی ہم منصب سے رابطہ، خطے کی بڑھتی کشیدگی پر تبادلہ خیال برطانیہ بلدیاتی انتخابات: ریفارم یوکے 1400 سے زائد سیٹیوں کے ساتھ پہلے نمبر پر ایران نے آبنائے ہرمز میں ٹرانزٹ فیس لینے کیلئے بحری اتھارٹی قائم کردی ایرانی نیشنل سکیورٹی کمیشن نے امریکی صدر اور وزیر دفاع کو احمق قرار دیدیا

گوگل کے خلاف برطانیہ میں اربوں ڈالرز کا مقدمہ

Web Desk

9 May 2026

دنیا کی مشہور ٹیکنالوجی کمپنی گوگل کو برطانیہ میں ایک بار پھر بڑے قانونی چیلنج کا سامنا ہے، جہاں اس پر آن لائن اشتہارات کے شعبے میں اپنی اجارہ داری اور طاقت کا غلط فائدہ اٹھانے کا الزام لگایا گیا ہے۔ قانونی فرم ‘کے پی لا’ کی جانب سے دائر کیے گئے اس نئے مقدمے میں گوگل سے تقریباً 3 ارب پاؤنڈ (تقریباً 4 ارب ڈالر) ہرجانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

مقدمے میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ گوگل نے آن لائن ڈسپلے ایڈورٹائزنگ کی مارکیٹ میں اپنی مضبوط پوزیشن کا استعمال کرتے ہوئے اپنے اشتہاری نظام کو ترجیح دی، جس سے حریف کمپنیوں کے لیے مشکلات پیدا ہوئیں۔ یہ ایک اجتماعی قانونی کارروائی ہے، جس کا مطلب ہے کہ اکتوبر 2015 سے اب تک گوگل کی اشتہاری خدمات استعمال کرنے والے تمام برطانوی ادارے خود بخود اس مقدمے کا حصہ بن گئے ہیں۔

دوسری جانب گوگل نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ کمپنی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مشتہرین گوگل کے ٹولز کا انتخاب ان کی سادگی، کم قیمت اور بہترین نتائج کی وجہ سے کرتے ہیں، نہ کہ کسی دباؤ کے تحت۔ واضح رہے کہ یہ کارروائی ان عالمی تحقیقات کا سلسلہ ہے جو امریکہ اور یورپی یونین میں بھی گوگل کے اشتہاری کاروبار کے خلاف جاری ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بحث اب صرف گوگل کی طاقت تک محدود نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اثر و رسوخ اور صارفین کے حقوق کے درمیان توازن قائم کرنے کی عالمی مہم کا حصہ بن چکی ہے۔