LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا: میساچوسٹس کے تعلیمی اداروں میں ریچھ داخل، طلبہ کلاس رومز تک محدود رہے پاکستان ون ڈے کرکٹ میں 1000میچ کھیلنے والی تیسری ٹیم بن گئی وزیراعلیٰ نے ستھرا پنجاب ورکرز کیلئے 10ہزار فی کس انعام کا اعلان کیا ہے: مریم اورنگزیب پاکستان ایک مخلص دوست، ایران کے ساتھ اچھی ڈیل ہوگی: امریکی وزیر جنگ جیٹ فیول اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمتوں میں بڑی کمی، نوٹیفکیشن جاری آئی ایم ایف کا گاڑیوں اور سولر پینلز پر سیلز ٹیکس چھوٹ برقرار رکھنے سے انکار پاکستان کی شاندار کامیابی: مسلسل پانچویں سال بھی ایراسمس منڈس اسکالرشپ حاصل کرنے میں دنیا بھر میں پہلے نمبر پر برقرار امریکی صدر کے نام کی شمولیت غیر قانونی قرار: کینیڈی سینٹر بند کرنے کا ٹرمپ انتظامیہ کا فیصلہ امریکی عدالت نے معطل کر دیا حاجیوں کی وطن واپسی کے لیے سعودی عرب سے پروازوں کا آغاز کل ہوگا امریکا کا امیر ممالک کے دفاعی اخراجات کا مزید بوجھ اٹھانے سے انکار ملک بھر میں 74 لاکھ 70 ہزار جانور قربان کیے گئے، ٹینریز ایسوسی ایشن ٹیکس وصولی کے لیے ایف بی آر کے تمام دفاتر 30 مئی کو کھلے رہیں گے اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی واشنگٹن میں ملاقات، پاک امریکا تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق ابراہیمی معاہدے سے متعلق افواہیں بے بنیاد، فلسطین پر مؤقف میں کوئی لچک نہیں: اسحاق ڈار راولپنڈی: پاکستان اور آسٹریلیا آج پہلے ون ڈے میں آمنے سامنے

گوگل کے خلاف برطانیہ میں اربوں ڈالرز کا مقدمہ

Web Desk

9 May 2026

دنیا کی مشہور ٹیکنالوجی کمپنی گوگل کو برطانیہ میں ایک بار پھر بڑے قانونی چیلنج کا سامنا ہے، جہاں اس پر آن لائن اشتہارات کے شعبے میں اپنی اجارہ داری اور طاقت کا غلط فائدہ اٹھانے کا الزام لگایا گیا ہے۔ قانونی فرم ‘کے پی لا’ کی جانب سے دائر کیے گئے اس نئے مقدمے میں گوگل سے تقریباً 3 ارب پاؤنڈ (تقریباً 4 ارب ڈالر) ہرجانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

مقدمے میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ گوگل نے آن لائن ڈسپلے ایڈورٹائزنگ کی مارکیٹ میں اپنی مضبوط پوزیشن کا استعمال کرتے ہوئے اپنے اشتہاری نظام کو ترجیح دی، جس سے حریف کمپنیوں کے لیے مشکلات پیدا ہوئیں۔ یہ ایک اجتماعی قانونی کارروائی ہے، جس کا مطلب ہے کہ اکتوبر 2015 سے اب تک گوگل کی اشتہاری خدمات استعمال کرنے والے تمام برطانوی ادارے خود بخود اس مقدمے کا حصہ بن گئے ہیں۔

دوسری جانب گوگل نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ کمپنی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مشتہرین گوگل کے ٹولز کا انتخاب ان کی سادگی، کم قیمت اور بہترین نتائج کی وجہ سے کرتے ہیں، نہ کہ کسی دباؤ کے تحت۔ واضح رہے کہ یہ کارروائی ان عالمی تحقیقات کا سلسلہ ہے جو امریکہ اور یورپی یونین میں بھی گوگل کے اشتہاری کاروبار کے خلاف جاری ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بحث اب صرف گوگل کی طاقت تک محدود نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اثر و رسوخ اور صارفین کے حقوق کے درمیان توازن قائم کرنے کی عالمی مہم کا حصہ بن چکی ہے۔