پاکستان سندھ طاس معاہدے کے تحت دریائے چناب پر اپنے حقوق کی حفاظت کرے گا: دفتر خارجہ
Web Desk
4 June 2026
اسلام آباد: ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران اہم علاقائی و عالمی امور اور پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کے پانی کو کنٹرول کرنے کی کوششیں قطعاً قابلِ قبول نہیں ہیں اور نئی دہلی پانی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان نے نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کے دورہ امریکہ کے حوالے سے اہم پیش رفت سے آگاہ کیا۔ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اپنے حالیہ دورے کے دوران نیویارک اور واشنگٹن میں انتہائی اہم ملاقاتیں کیںاقوامِ متحدہ میں ملاقات: انہوں نے نیویارک میں اقوامِ متحدہ (UN) کے سیکرٹری جنرل سے خصوصی ملاقات کی۔وزرائے خارجہ سے روابط: نیویارک ہی میں انہوں نے دنیا کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے وزرائے خارجہ کے ساتھ کثیر الجہتی ملاقاتیں کیں۔امریکی وزیرِ خارجہ سے ملاقات: نائب وزیراعظم نے واشنگٹن ڈی سی میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سے ایک اہم ملاقات کی، جس کے دوران امریکی وزیرِ خارجہ نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری حالیہ تنازعے میں پاکستان کی جانب سے کی جانے والی مخلصانہ ثالثی (Mediation) کی کوششوں کا کھلے دل سے اعتراف کیا۔علاقائی سلامتی اور پانی کے دیرینہ مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے ترجمان طاہر اندرابی نے بھارت کو سخت پیغام دیا”پاکستان خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے مکمل پرعزم ہے، لیکن بھارت کی طرف سے پاکستان کے پانی کو کنٹرول کرنے کا اقدام کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت پانی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، جبکہ پاکستان اس غیر قانونی بھارتی اقدام پر مسلسل انتہائی تحمل کا مظاہرہ کر رہا ہے۔”
ترجمان نے سیکیورٹی فریم ورک کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ‘سندھ طاس معاہدے’ (Indus Waters Treaty) کے تحت اپنے مغربی دریاؤں کے پانی کا مکمل اور قانونی حقدار ہے۔ سندھ طاس معاہدے پر اس کی روح کے مطابق مکمل عملدرآمد ہونا چاہیے، کیونکہ بھارت کی جانب سے اس تاریخی معاہدے کی خلاف ورزی خطے کے امن اور استحکام کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوگی۔ پاکستان اپنے قومی مفادات کے تحفظ کا حق پوری طرح محفوظ رکھتا ہے۔کشمیر کے دیرینہ معاملے پر پاکستان کا مؤقف دہراتے ہوئے ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا کہ جموں و کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ ایک متنازعہ علاقہ ہے۔ اس وقت مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی افواج کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کے لیے پاکستان مسلسل عالمی برادری کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔
متعلقہ عنوانات
بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا وقت ختم، کسی پارٹی رہنما کو اجازت نہ ملی
4 June 2026
ٹرمپ کا بڑھتی کشیدگی کے باوجود ایران پر حملہ نہ کرنے کا فیصلہ
4 June 2026
جی بی الیکشن کو پنجاب اور اسلام آباد سے مینج کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے حسن مرتضی
4 June 2026
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے قومی اقتصادی کونسل (NEC) کا اہم اجلاس 8 جون کو طلب
4 June 2026
نہ وہ فنڈ ملے نہ وہ چیف جسٹس ملا”؛ مہمند ڈیم کے لیے فنڈز کی قلت پر سینیٹ اقتصادی امور کمیٹی میں واپڈا حکام کی بریفنگ،
4 June 2026
سربراہ مسلم لیگ ن نواز شریف نجی دورے پر جنیوا روانہ
4 June 2026
ہر ہائی کورٹ آزاد ، سپریم کورٹ یا وفاقی آئینی عدالت کے ماتحت نہیں: جسٹس عامر فاروق
4 June 2026
پی ٹی آئی کو انتخابی مہم سے روکنا پری پول دھاندلی ہے، بیرسٹر گوہر
4 June 2026