LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
قطر میں سوگ کی فضا، سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ الثانی انتقال کر گئے امریکی حملوں کے ردعمل میں ایران کے خلیجی ممالک پر جوابی میزائل حملے، آبنائے ہرمز تاحکم ثانی بند ڈیرہ غازی خان: قبائلی علاقے میں 11 سالہ لڑکی مبینہ طور پر فروخت کر دی گئی امریکا میں تارکین وطن کے ’ورک پرمٹ‘ سے متعلق اہم خبر سامنے آگئی امریکی اہلکار عمان میں ایرانی حکام سے ذاتی حیثیت میں بات چیت میں شریک نہیں ہوں گے: روسی میڈیا امریکی صدر کی نائب صدر اور وزیرخارجہ کو عمان میں مذاکرات جاری رکھنے کی ہدایت ایران کے پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز بند کردی: خبرایجنسی ایران کے مختلف شہروں میں دھماکوں کی آوازیں امریکا نے ڈیل کے تحت کیےگئے وعدے پورے نہ کیے تو مفاہمتی یادداشت پر عمل ترک کردیں گے: ایران چین میں سمندری طوفان باوی کا دوسرا وار، لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور، پروازیں اور ٹرینیں معطل امریکی افواج نے حملوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا، ایران کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں بلوچستان میں تاریخی انتظامی اصلاحات، 4 نئے ڈویژن اور 5 نئے اضلاع قائم جوہری ہتھیار ختم کرنے ہیں تو آغاز امریکا اور اس کے اتحادیوں سے کریں؛ شمالی کوریا نائب وزیراعظم کا سعودی وزیر خارجہ سے رابطہ، امریکا-ایران کشیدگی میں اضافے پر اظہارتشویش وینزویلا زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد 4 ہزار 333 ہوگئی؛ 17 ہزار افراد بے گھر

انسانی اعضاء کی غیر قانونی پراسیسنگ فیکٹری پکڑی گئی، 3 چینی شہریوں سمیت 5 ملزم گرفتار

Web Desk

25 June 2026

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے وفاقی دارالحکومت میں انسانی اعضاء کی غیر قانونی پراسیسنگ اور انہیں بیرون ملک اسمگل کرنے والے ایک منظم بین الاقوامی گروہ کو گرفتار کرتے ہوئے ایک مبینہ غیر قانونی فیکٹری کا سراغ لگا لیا ہے۔ایف آئی اے کے مطابق، اسلام آباد کے پوش علاقے سیکٹر ایف-7 (F-7) میں واقع ایک گھر پر چھاپہ مارا گیا جہاں انسانی اعضاء، خصوصاً ہیومن پلیسینٹا (نال) کی غیر قانونی پراسیسنگ کے لیے باقاعدہ ایک مکمل پلانٹ قائم کیا گیا تھا۔ اس خفیہ فیکٹری میں انسانی حیاتیاتی مواد کو ایک مخصوص طریقہ کار کے تحت پراسیس اور خشک کیا جاتا تھا۔

حکام نے انکشاف کیا ہے کہ ملزمان اس پراسیس شدہ مواد کو “شی پلیسینٹا” (She Placenta) کے فرضی اور تجارتی نام سے بیرون ملک، بالخصوص ویتنام اسمگل کرتے تھے۔ ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ یہ سنگین اور حساس سرگرمی مکمل طور پر غیر قانونی طور پر انجام دی جا رہی تھی، جس کے تمام پہلوؤں کی باریک بینی سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ ایف آئی اے نے موقع سے 3چینی اور  2پاکستانی شہری ملزمان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔ ایف آئی اے نے فیکٹری سے پراسیسنگ کے جدید آلات، بھاری مشینری اور اسمگلنگ کے لیے تیار کی گئی مصنوعات کا بڑا ذخیرہ بھی قبضے میں لے لیا ہے۔

ایف آئی اے حکام کے مطابق، گرفتار ملزمان سے سخت تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے اور اس بات کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ اس نیٹ ورک کے ملکی اور بین الاقوامی روابط کہاں کہاں پھیلے ہوئے ہیں، انہیں پاکستان میں یہ مواد کون فراہم کر رہا تھا اور اس مکروہ دھندے میں مزید کون سے عناصر ملوث ہیں۔حکام نے واضح کیا کہ انسانی اعضاء اور حیاتیاتی مواد کی غیر قانونی پراسیسنگ و اسمگلنگ کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اور ملکی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔