LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
شہباز شریف اور نوازشریف کی امیر قطر سے ملاقات، سابق امیر قطر کے انتقال پر تعزیت خواتین کے لیے ’اپنا روزگار پروگرام‘ میرا خواب ہے: مریم نواز آبنائے ہرمز کے قریب نئی کشیدگی، بندر عباس اور جزیرہ قشم کے قریب یکے بعد دیگرے دھماکے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر دو روزہ سرکاری دورے پر ترکیہ پہنچ گئے نئی گج ڈیم کی تعمیر مکمل ہونے تک عدالتی مداخلت پر پابندی اسلام نے 14 صدیاں قبل خواتین کو مساوات اور معاشی حقوق دیے: یوسف رضا گیلانی ٹانک میں پولیس کی بکتر بند گاڑی کے قریب دھماکا، 2 اہلکار شہید، متعدد زخمی او آئی سی کانفرنس، خواتین کی ترقی مسلم دنیا کی خوشحالی کی ضمانت ہے: اعظم نذیر وزیراعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر قطر پہنچ گئے، نواز شریف بھی ہمراہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز پر مشترکہ طریقہ کار میں امریکا رکاوٹ بن رہا ہے: اسماعیل بقائی ضلع دیامر میں سیلابی ریلوں سے تباہی، متعدد مکانات اور رابطہ پل بہہ گئے وفاقی آئینی عدالت کا تاریخی فیصلہ؛ نئی گج ڈیم کیس میں ہائی کورٹ کا حکم کالعدم یوکرینی صدر نے وزیراعظم یولیا کو عہدے سے ہٹا دیا، حکومت مستعفی وفاق اپنے نظام کی خامیوں کا بوجھ عوام پر ڈالنے کے بجائے انہیں دور کرے، سہیل آفریدی بنگلہ دیش میں بارشوں اور سیلاب سے تباہی، اموات کی تعداد 52 ہوگئی

وفاقی حکومت نے ‘سول سرونٹس رولز 2026’ نافذ ، غیر ملکی شہریت چھپانے پر ملازمت ختم کرنے کی منظوری

Web Desk

2 June 2026

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے سول سرونٹس (سرکاری ملازمین) کی غیر ملکی اور دہری شہریت کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے نئے اور سخت ترین قواعد و ضوابط نافذ کر دیے ہیں۔

حکومت کی جانب سے باقاعدہ طور پر “سول سرونٹس (ڈسکلوزر اینڈ ریگولیشن آف فارن نیشنلٹی) رولز 2026” کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ ان نئے قوانین کا بنیادی مقصد سرکاری محکموں میں شفافیت لانا اور اعلیٰ عہدوں پر فائز افسران کی غیر ملکی وابستگیوں کو قانونی دائرہ کار میں لانا ہے۔

نئے نافذ العمل قواعد کے تحت اب کسی بھی سرکاری افسر کے لیے اپنی غیر ملکی شہریت کو مخفی رکھنا ممکن نہیں رہے گا تمام سول سرونٹس قانونی طور پر اس بات کے پابند ہوں گے کہ وہ اپنی، اپنی شریکِ حیات (بیوی/شوہر) اور اپنے زیرِ کفالت بچوں کی غیر ملکی شہریت کی تمام تر تفصیلات حکومت کو فراہم کریں۔سرکاری افسران اپنے غیر ملکی پاسپورٹ سمیت دیگر تمام غیر ملکی وابستگیوں اور دستاویزات سے متعلق مکمل اور مستند تفصیلات فراہم کرنے کے پابند ہوں گے۔ نئے رولز کے مطابق، اب کوئی بھی سول سرونٹ حکومت کی باقاعدہ اور پیشگی اجازت کے بغیر کسی بھی دوسرے ملک کی غیر ملکی شہریت حاصل نہیں کر سکے گا۔

وفاقی حکومت نے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے افسران کے خلاف سخت ترین تادیبی اور قانونی کارروائی کا انتباہ جاری کیا ہے:

“اگر کوئی بھی سرکاری افسر اپنی یا اپنے اہلخانہ کی غیر ملکی شہریت کو حکومت کے سامنے ظاہر نہیں کرتا، تو اس کے خلاف فوری طور پر سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ نئے رولز کے تحت غیر ملکی شہریت یا پاسپورٹ کو چھپانا سنگین ’’مس کنڈکٹ‘‘ (Misconduct) تصور ہوگا، جبکہ غلط معلومات دینے یا حقائق پوشیدہ رکھنے والے افسران کو نوکری سے بھی برطرف (ملازمت ختم) کیا جا سکے گا۔”

ذرائع کے مطابق، اس نوٹیفکیشن کے اجراء کے بعد اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے تمام وفاقی و صوبائی ملازمین کو اپنی شہریت کا ڈیٹا جمع کرانے کے لیے باقاعدہ ڈیڈ لائن بھی جلد جاری کیے جانے کا امکان ہے۔