LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسحاق ڈار کی لندن میں پاکستان نژاد برطانوی ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات پمز واقعہ: لاپرواہی ثابت ہوئی تو کسی کو نہیں چھوڑا جائے گا، وفاقی وزیر صحت پمز ہسپتال میں زیادہ بچوں کی اموات دم گھٹنے سے ہوئیں: طارق فضل چودھری سعودی کابینہ کا آبی گزرگاہوں کو کھلا اور محفوظ رکھنے کی ضرورت پر زور سیرتِ محمدیؐ کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنانا ہو گا، مریم نواز وزیراعظم کا پمز ہسپتال آتشزدگی کا نوٹس، واقعہ کی فوری تحقیقات کا حکم ملک بھر میں عید میلاد النبیﷺ مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منائی جا رہی ہے پنجاب اور شن جیانگ میں زراعت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق اسلام آباد کے پمز ہسپتال کے نرسری وارڈ میں آتشزدگی، 14 نومولود جاں بحق خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پوری انسانیت کیلیے رحمت بن کر تشریف لائے، محسن نقوی حضور نبی اکرم ﷺ کی آمد انسانیت کیلئے ہدایت کا ذریعہ ہے، گورنر پنجاب سیرت النبیﷺ پوری انسانیت کیلئے رحمت، عدل، امن کی ابدی روشنی ہے: بلاول بھٹو نیواڈا کا دریائے کولوراڈو کے پانی میں کٹوتی کے منصوبے کیخلاف ٹرمپ انتظامیہ پر مقدمہ دائر انڈونیشیا، ملائیشیا اور سنگاپور کا آبنائے ملاکا کو محفوظ اور کھلا رکھنے کے عزم کا اعادہ جنوبی سوڈان میں 2 امن فوجیوں کی ہلاکت، اقوام متحدہ کی شدید مذمت

ایف بی آر کے اعلیٰ افسر کا ویزا اسکینڈل بے نقاب

Web Desk

24 January 2026

اسلام آباد: ایف بی آر کے اعلیٰ افسر عتیق الرحمان پر الزام ہے کہ انہوں نے پرائیوٹ افراد کو سرکاری وفد کا حصہ ظاہر کر کے فرانس کے ویزے لگوانے میں معاونت کی اور اس کے عوض 53 لاکھ روپے وصول کیے۔

رپورٹس کے مطابق دو افراد، کامران اور عامر شہزاد، کے ویزے کے لیے ایف بی آر کا اعلیٰ افسر سرکاری ای میل کے ذریعے ایمبیسی کو سرکاری ملازم ظاہر کرتا رہا۔ پرائیوٹ افراد کو ای میل میں ایف بی آر کا ملازم ظاہر کیا گیا تاکہ ویزہ حاصل کرنے کا عمل آسان بنایا جا سکے۔

ایف آئی اے اینٹی کرپشن سیل نے اس اسکینڈل کے بعد ایف بی آر افسر سمیت دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔ کامران اور عامر شہزاد کو اسلام آباد ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا۔ مقدمے میں یہ بھی درج کیا گیا کہ ملزمان نے ایف بی آر افسر کو بینک کے ذریعے رقوم منتقل کیں۔

اس اسکینڈل نے سرکاری اداروں میں بدعنوانی اور سرکاری مراعات کے ناجائز استعمال پر سوالات بڑھا دیے ہیں، جبکہ تحقیقات جاری ہیں۔