LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
یورپ کی آبنائے ہرمز پر جہازوں سے ’رضاکارانہ‘ نیویگیشن فیس لینے کی تجویز دریائے سندھ پاکستان کی شہ رگ اور سندھ کی روح ہے، اس پر جارحیت ملک پر جارحیت ہوگی، مراد علی شاہ امریکا: نو دریافت شدہ قدیم باقیات امریکی تاریخ بدل سکتی ہیں امارات کے نائب صدر 77 ویں سالگرہ منانے اسکاٹ لینڈ میں اپنی دلکش اراضی میں پہنچ گئے ترکیہ اور مصر نے ہم جنس پرست سیاحوں کے جہاز کو داخل ہونے سے روکدیا گوادر پورٹ میں نئی تاریخ رقم، پہلی بار بین الاقوامی جہازوں کو ایندھن کی فراہمی ویتنام میں اسپیڈ بوٹ گہرے سمندر میں ڈوب گئی؛ 15 بھارتی سیاح ہلاک روس کو یوکرین میں جوہری ہتھیار استعمال کرنے سے چین نے روکا؛ صدر زیلنسکی امریکا نے اپنے دو طیارہ بردار بحری جہاز ایران کے قریب پہنچا دیے اشتہاری ملزم کی شادی میں شرکت پر پولیس کی دوڑیں لگ گئیں کراچی میں 3 بچوں سمیت 27 افغان مہاجرین گرفتار سندھ میں دہشت گردوں، جرائم پیشہ افراد اور سہولت کاروں کیخلاف کارروائیاں تیز کرنے کا فیصلہ امریکا نے متحدہ عرب امارات کیلیے تجارت کے دروازے کھول دیے علما کرام ڈیجیٹل کرنسی کے حوالے سے شرعی جائزہ لیں، بلال بن ثاقب کی مفتی تقی عثمانی سےملاقات میں اپیل بنگلا دیش میں سیلاب نے تباہی مچادی، 44 افراد جاں بحق، لاکھوں شہری محصور

ایف بی آر کے اعلیٰ افسر کا ویزا اسکینڈل بے نقاب

Web Desk

24 January 2026

اسلام آباد: ایف بی آر کے اعلیٰ افسر عتیق الرحمان پر الزام ہے کہ انہوں نے پرائیوٹ افراد کو سرکاری وفد کا حصہ ظاہر کر کے فرانس کے ویزے لگوانے میں معاونت کی اور اس کے عوض 53 لاکھ روپے وصول کیے۔

رپورٹس کے مطابق دو افراد، کامران اور عامر شہزاد، کے ویزے کے لیے ایف بی آر کا اعلیٰ افسر سرکاری ای میل کے ذریعے ایمبیسی کو سرکاری ملازم ظاہر کرتا رہا۔ پرائیوٹ افراد کو ای میل میں ایف بی آر کا ملازم ظاہر کیا گیا تاکہ ویزہ حاصل کرنے کا عمل آسان بنایا جا سکے۔

ایف آئی اے اینٹی کرپشن سیل نے اس اسکینڈل کے بعد ایف بی آر افسر سمیت دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔ کامران اور عامر شہزاد کو اسلام آباد ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا۔ مقدمے میں یہ بھی درج کیا گیا کہ ملزمان نے ایف بی آر افسر کو بینک کے ذریعے رقوم منتقل کیں۔

اس اسکینڈل نے سرکاری اداروں میں بدعنوانی اور سرکاری مراعات کے ناجائز استعمال پر سوالات بڑھا دیے ہیں، جبکہ تحقیقات جاری ہیں۔