ایف بی آر کے اعلیٰ افسر کا ویزا اسکینڈل بے نقاب
Web Desk
24 January 2026
اسلام آباد: ایف بی آر کے اعلیٰ افسر عتیق الرحمان پر الزام ہے کہ انہوں نے پرائیوٹ افراد کو سرکاری وفد کا حصہ ظاہر کر کے فرانس کے ویزے لگوانے میں معاونت کی اور اس کے عوض 53 لاکھ روپے وصول کیے۔
رپورٹس کے مطابق دو افراد، کامران اور عامر شہزاد، کے ویزے کے لیے ایف بی آر کا اعلیٰ افسر سرکاری ای میل کے ذریعے ایمبیسی کو سرکاری ملازم ظاہر کرتا رہا۔ پرائیوٹ افراد کو ای میل میں ایف بی آر کا ملازم ظاہر کیا گیا تاکہ ویزہ حاصل کرنے کا عمل آسان بنایا جا سکے۔
ایف آئی اے اینٹی کرپشن سیل نے اس اسکینڈل کے بعد ایف بی آر افسر سمیت دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔ کامران اور عامر شہزاد کو اسلام آباد ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا۔ مقدمے میں یہ بھی درج کیا گیا کہ ملزمان نے ایف بی آر افسر کو بینک کے ذریعے رقوم منتقل کیں۔
اس اسکینڈل نے سرکاری اداروں میں بدعنوانی اور سرکاری مراعات کے ناجائز استعمال پر سوالات بڑھا دیے ہیں، جبکہ تحقیقات جاری ہیں۔
متعلقہ عنوانات
ملک کو انتشار سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کی، پی ٹی آئی وفد دہشت گردی پر نہیں مانا: امیر مقام و شیری رحمان
4 October 2026
پی ٹی آئی دہشت گردی پر تعاون سے انکاری، لانگ مارچ اسلام آباد داخل نہیں ہونے دیں گے: رانا ثناء اللہ
4 October 2026
کے پی حکومت نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہیں کرنا چاہتی، حد سے زیادہ انتظار نہیں ہو سکتا: طلال چوہدری
4 October 2026
حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات میں ڈیڈلاک برقرار، لانگ مارچ ملتوی نہیں ہوگا: بیرسٹر گوہر
4 October 2026
نیویارک: 72 گھنٹے کے گرینڈ آپریشن میں لاپتہ اور انسانی اسمگلنگ کا شکار 34 بچے بازیاب
4 October 2026
ایران اپنے لیے مشکل یا آسان راستہ اختیار کر سکتا ہے: ٹرمپ
4 October 2026
سہیل آفریدی نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کا روٹ میپ جاری کر دیا
4 October 2026
لانگ مارچ کا جواب ایمرجنسی یا گورنر راج نہیں ہونا چاہئے: بیرسٹر گوہر
4 October 2026