LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ملک کو انتشار سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کی، پی ٹی آئی وفد دہشت گردی پر نہیں مانا: امیر مقام و شیری رحمان پی ٹی آئی دہشت گردی پر تعاون سے انکاری، لانگ مارچ اسلام آباد داخل نہیں ہونے دیں گے: رانا ثناء اللہ کے پی حکومت نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہیں کرنا چاہتی، حد سے زیادہ انتظار نہیں ہو سکتا: طلال چوہدری حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات میں ڈیڈلاک برقرار، لانگ مارچ ملتوی نہیں ہوگا: بیرسٹر گوہر نیویارک: 72 گھنٹے کے گرینڈ آپریشن میں لاپتہ اور انسانی اسمگلنگ کا شکار 34 بچے بازیاب ایران اپنے لیے مشکل یا آسان راستہ اختیار کر سکتا ہے: ٹرمپ سہیل آفریدی نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کا روٹ میپ جاری کر دیا لانگ مارچ کا جواب ایمرجنسی یا گورنر راج نہیں ہونا چاہئے: بیرسٹر گوہر لانگ مارچ کو اسلام آباد میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا: رانا ثنا اللہ چھوٹے یونٹس سے لوگ اپنی مرضی سے انتظامی سربراہ منتخب کر سکیں گے، مصطفیٰ کمال سپین میں مہنگے گھروں کے خلاف احتجاج، ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کی طالبان رجیم کیخلاف 68 کارروائیاں،102 اہلکار ہلاک یوکرین کا حملوں کی صورت روسی آئل ریفائنریوں کو نشانہ بنانے کا عمل مزید تیز کرنے کا اعلان سعودی و یمنی افواج نے حوثیوں کیخلاف فوجی کارروائی کا منصوبہ بنا لیا مقبوضہ مغربی کنارے کا پورا علاقہ اسرائیل کا ہے، اتمار بن گویر

ایف بی آر کے اعلیٰ افسر کا ویزا اسکینڈل بے نقاب

Web Desk

24 January 2026

اسلام آباد: ایف بی آر کے اعلیٰ افسر عتیق الرحمان پر الزام ہے کہ انہوں نے پرائیوٹ افراد کو سرکاری وفد کا حصہ ظاہر کر کے فرانس کے ویزے لگوانے میں معاونت کی اور اس کے عوض 53 لاکھ روپے وصول کیے۔

رپورٹس کے مطابق دو افراد، کامران اور عامر شہزاد، کے ویزے کے لیے ایف بی آر کا اعلیٰ افسر سرکاری ای میل کے ذریعے ایمبیسی کو سرکاری ملازم ظاہر کرتا رہا۔ پرائیوٹ افراد کو ای میل میں ایف بی آر کا ملازم ظاہر کیا گیا تاکہ ویزہ حاصل کرنے کا عمل آسان بنایا جا سکے۔

ایف آئی اے اینٹی کرپشن سیل نے اس اسکینڈل کے بعد ایف بی آر افسر سمیت دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔ کامران اور عامر شہزاد کو اسلام آباد ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا۔ مقدمے میں یہ بھی درج کیا گیا کہ ملزمان نے ایف بی آر افسر کو بینک کے ذریعے رقوم منتقل کیں۔

اس اسکینڈل نے سرکاری اداروں میں بدعنوانی اور سرکاری مراعات کے ناجائز استعمال پر سوالات بڑھا دیے ہیں، جبکہ تحقیقات جاری ہیں۔