LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ڈیڈ لاک برقرار، حکومت اور اپوزیشن میں جاری مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا آج سے لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان حکومت اپوزیشن مذاکرات کا نتیجہ جلد سامنے آئے گا: شوکت یوسف زئی وائٹ سی ایگل راستہ بھٹک کر سندھ آپہنچا، نایاب پرندے کی آنکھیں سی کر پر کاٹ دیے گئے حکومت اور پاکستان تحریکِ انصاف کے درمیان مذاکرات ناکام، پی ٹی آئی کا لانگ مارچ جاری رکھنے کا اعلان مذاکرات شروع ہونا بڑی کامیابی، سلسلہ ٹوٹنا نہیں چاہیے: فواد چودھری ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ سے سبق سیکھ کر شرائط قبول کریں: ایرانی پاسداران انقلاب اسلام آباد ایئرپورٹ پر ایک ہفتے میں دو بڑی کارروائیاں، 47 کلوگرام مشتبہ منشیات برآمد اسلام آباد میں رینجرز کی تعیناتی میں 15 اکتوبر تک توسیع گورنر راج یا ایمرجنسی سے پہلے سیاسی جماعتوں کو راستہ تلاش کرنا چاہیے: بلاول بھٹو کراچی کے لیے اضافی پانی کی فراہمی جلد شروع ہوجائے گی، مراد علی شاہ حکومتی وفد نے پی ٹی آئی پر دہشتگردی کے معاملے پر عدم تعاون کا الزام عائد کردیا ایک صوبے کو دہشت گردی سے جوڑنا ناعاقبت اندیشی ہے: علامہ ناصر عباس راجہ وزیراعظم شہباز شریف سے محسن نقوی کی ملاقات، سکیورٹی صورِتحال پر بات چیت حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات بے نتیجہ ختم، ڈیڈ لاک برقرار

ایلون مسک کا ’لونر سٹی‘ منصوبہ، مستقبل کے تحفظ کیلئے چاند پر شہر بسانے کا اعلان

Web Desk

11 February 2026

سپیس ایکس کے بانی اور دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے اعلان کیا ہے کہ ان کی کمپنی مریخ کی بجائے چاند پر ’خودکار ترقیاتی شہر‘ (Lunar City) قائم کرنے پر فوکس کرے گی۔ مسک کے مطابق چاند پر شہر کی تعمیر مریخ کے مقابلے میں تیز، قریب اور عملی ہے کیونکہ چاند کے مشن ہر 10 دن بعد بھیجے جا سکتے ہیں اور سفر صرف 2 دن کا ہوگا، جبکہ مریخ کے لیے ہر 26 ماہ بعد لانچ ممکن ہوتا ہے اور سفر میں 6 ماہ لگتے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ چاند پر منصوبہ میں AI، خودکار روبوٹس اور خلائی ڈیٹا سینٹرز استعمال ہوں گے، اور اس کا مقصد کم سے کم انسانی مداخلت کے ساتھ مضبوط بنیادی ڈھانچہ قائم کرنا ہے۔

مریخ پر شہر کی منصوبہ بندی ثانوی ترجیح کے طور پر برقرار رہے گی، اور عملی تیاری اگلے 5 سے 7 سال میں شروع ہو سکتی ہے۔ واضح رہے کہ امریکا بھی آرٹمیس پروگرام کے تحت 2028 تک چاند پر واپسی اور 2030 تک مستقل قمری اڈے کے قیام کا ہدف رکھتا ہے۔