LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
تیل کی عالمی قیمتیں جلد تیزی سے نیچے آجائیں گی، امریکی وزیرخزانہ بھارتی ریاست اترپردیشن میں بارش اورطوفان سے تباہی، 100سے زائد افرادہلاک امریکی سینیٹ، جنگ کے معاملے پر ٹرمپ کے اختیارات محدودکرنے کی قراردادایک ووٹ سے ناکام سپریم جوڈیشل کونسل، اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے خلاف شکایات نمٹادی گئیں وزیراعظم کی زیرِ صدارت ہنگامی اجلاس؛ ‘نیشنل پاپولیشن کونسل’ کے قیام کا فیصلہ، شہباز شریف خود سربراہی کریں گے آرمی راکٹ فورس کا مقامی تیار کردہ فتح 4 کروز میزائل کا کامیاب تجربہ ایران امریکہ ممکنہ مذاکرات کے تناظر میں پاکستان مسلسل فعال ہے: دفتر خارجہ پاک افواج نے دشمن کو عبرتناک سبق سکھایا، وزیراعظم شہباز شریف ڈی جی آئی ایس پی آر کی شفاء تعمیر ملت یونیورسٹی میں خصوصی نشست وزارتِ خزانہ کی مالیاتی رپورٹ؛ 9 ماہ میں بجٹ خسارہ 856 ارب روپے، دفاع پر 1690 ارب خرچ سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ؛ سابق وفاقی وزیر انور سیف اللہ خان کی 24 سال پرانی سزا کالعدم، بریت بحال چینی صدر کے ساتھ گفتگو بہت اچھی رہی: ٹرمپ گلگت بلتستان انتخابات 2026 کیلئے امیدواروں کی حتمی فہرست جاری پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز چینی صدر شی کا ٹرمپ کو تائیوان تنازع پر انتباہ، حریف کے بجائے شراکت دار بننے کا مشورہ

ایلون مسک کا ’لونر سٹی‘ منصوبہ، مستقبل کے تحفظ کیلئے چاند پر شہر بسانے کا اعلان

Web Desk

11 February 2026

سپیس ایکس کے بانی اور دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے اعلان کیا ہے کہ ان کی کمپنی مریخ کی بجائے چاند پر ’خودکار ترقیاتی شہر‘ (Lunar City) قائم کرنے پر فوکس کرے گی۔ مسک کے مطابق چاند پر شہر کی تعمیر مریخ کے مقابلے میں تیز، قریب اور عملی ہے کیونکہ چاند کے مشن ہر 10 دن بعد بھیجے جا سکتے ہیں اور سفر صرف 2 دن کا ہوگا، جبکہ مریخ کے لیے ہر 26 ماہ بعد لانچ ممکن ہوتا ہے اور سفر میں 6 ماہ لگتے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ چاند پر منصوبہ میں AI، خودکار روبوٹس اور خلائی ڈیٹا سینٹرز استعمال ہوں گے، اور اس کا مقصد کم سے کم انسانی مداخلت کے ساتھ مضبوط بنیادی ڈھانچہ قائم کرنا ہے۔

مریخ پر شہر کی منصوبہ بندی ثانوی ترجیح کے طور پر برقرار رہے گی، اور عملی تیاری اگلے 5 سے 7 سال میں شروع ہو سکتی ہے۔ واضح رہے کہ امریکا بھی آرٹمیس پروگرام کے تحت 2028 تک چاند پر واپسی اور 2030 تک مستقل قمری اڈے کے قیام کا ہدف رکھتا ہے۔