LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
دنیا کے بڑے کنٹینر بردار جہازوں میں شامل ایم ایس سی مرجام کراچی پورٹ پہنچ گیا جاپان میں 7.1 شدت کا زلزلہ، سونامی کی وارننگ جاری پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی میں ترامیم منظور، پٹرولیم مصنوعات کے سٹریٹیجک ریزروز بڑھانے کی ہدایت کویت کے وزیر خارجہ آج 2 روزہ دورے پر پاکستان پہنچیں گے نیتن یاہو امریکا پہنچ گئے، ٹرمپ سے ملاقات میں ایران جنگ پر تبادلہ خیال متوقع عمران خان رہائی فورس کیس: آئینی عدالت کا فریقین کو جواب جمع کرانے کیلئے مہلت پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال بہتر، پانی کا بہاؤ معمول پر آگیا آزاد کشمیر الیکشن: ن لیگ نے 8 نشستیں جیت کر میدان مار لیا، پیپلزپارٹی 4 پرکامیاب عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر مثبت رجحان صدر مملکت اور وزیراعظم کا 2030 تک ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے عزم کا اعادہ محسن نقوی کی قطری ہم منصب سے ملاقات، سکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق انتخابی عمل کا پہلا مرحلہ آزادانہ اور شفافیت سے مکمل ہوا:چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر اقوام متحدہ کی مقبوضہ مغربی کنارے اسرائیلی بستیوں کے توسیعی منصوبے کی شدید مذمت میرپور نے شیر پر مہر لگا کر اعلان کر دیا ترقی ن لیگ سے جڑی ہے: مریم اورنگزیب

لیاری میں تعلیمی انقلاب: بی بی ایس یو ایل کے 21 اداروں کے ساتھ تاریخی معاہدے

Web Desk

17 December 2025

کراچی: لیاری کے لیے ایک نئے اور روشن دور کا آغاز اس وقت ہوا جب بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری (BBSUL) نے صحت، تعلیم اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں 21 معروف قومی اداروں کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں (MOUs) پر دستخط کیے۔ اس تاریخی تقریب کا مقصد تعلیمی اداروں اور صنعت کے درمیان فاصلے کو کم کرنا اور لیاری سے وابستہ منفی دقیانوسی تصورات کا خاتمہ کرنا ہے۔

تقریب میں حکومت سندھ کے ترجمان نادر گبول مہمانِ خصوصی تھے، جنہوں نے اس اقدام کو لیاری کے خلاف منفی پروپیگنڈے کے خلاف ایک مضبوط اور فیصلہ کن قدم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ آج لیاری تنازعات کے بجائے علم، اشتراک اور جدت کی وجہ سے خبروں میں ہے، اور یہ معاہدے اس بات کا ثبوت ہیں کہ لیاری کے نوجوان صحت، ٹیکنالوجی اور تعلیم کے میدان میں قیادت کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

ان معاہدوں کے تحت طلبہ کو انٹرنشپس، تحقیق کے مواقع اور پیشہ ورانہ تربیت تک رسائی حاصل ہوگی، جبکہ اساتذہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور نصاب کے معیار کو بھی بہتر بنایا جائے گا۔ شراکت داری کے اہم شعبوں میں صحتِ عامہ، جدید ٹیکنالوجی اور تعلیمی ترقی شامل ہیں۔

یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق یہ اسٹریٹجک تعاون نہ صرف طلبہ کے لیے روزگار اور کامیابی کے نئے مواقع پیدا کرے گا بلکہ لیاری کو ٹیلنٹ، استقامت اور صلاحیتوں کے مرکز کے طور پر بھی اجاگر کرے گا۔