LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پمز میں سی ٹی کورونری اینجیوگرافی سہولت فعال نہ ہونے پر وزیراعظم کا نوٹس، انکوائری کمیٹی قائم مکہ باہمی دفاعی معاہدے سے پاکستان کی علاقائی اہمیت میں اضافہ، ایف پی آئی ایف ٹرمپ کا جنوبی کیرولائنا کی ریلی میں آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا اعلان بنگلہ دیش نے پاکستان، ترکیہ اور سعودیہ کے دفاعی معاہدے میں شمولیت کا اشارہ دیدیا پاکستان ریلوے کا ریونیو 115 ارب روپے سے تجاوز، روہڑی کراچی ٹریک کے لیے $2.5B کا معاہدہ طے سندھ میں 80 فیصد آبادی آلودہ پانی پینے پر مجبور ہے: مصطفیٰ کمال وفاقی حکومت نے راولپنڈی میں پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری دے دی بانی کی ہسپتال منتقلی کا معاملہ، سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست دائر محسن نقوی سے ملائیشین ہم منصب کی ملاقات، انسدادِ دہشت گردی کے خلاف تعاون بڑھانے پر اتفاق طالبان رجیم کیخلاف مسلح مزاحمت میں مزید شدت آگئی صدر زرداری سے ملائیشین وزیرِ داخلہ کی ملاقات، سکیورٹی و تجارتی تعاون بڑھانے پر اتفاق امریکی پابندیاں دنیا کو دوبارہ نوآبادیاتی دور میں دھکیل سکتی ہیں: اسماعیل بقائی نیٹو رکن ممالک میں آبنائے ہرمز میں آزادانہ آمدورفت کے تحفظ کے لیے تعاون پر غور دہشتگردی کے متاثرین کی بلا امتیاز حمایت ضروری ہے، پاکستانی مندوب آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت صرف 4 فیصد رہ گئی

کانگو میں ایبولا وائرس تیزی سے پھیلنے لگا، ہلاکتوں کی تعداد 131 ہوگئی

Web Desk

20 May 2026

وسطی افریقی ملک جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس انتہائی تیزی سے پھیلنے لگا ہے، جس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 131 تک پہنچ گئی ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ملک میں وائرس کی نئی لہر کے باعث گزشتہ چند دنوں کے دوران مزید 26 ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں، جس نے مقامی حکومت اور طبی اداروں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

مستقبل میں اس مہلک وائرس کے پھیلاؤ کے شدید خطرات اور ہلاکتوں میں مسلسل اضافے کے پیشِ نظر عالمی ادارہ صحت (WHO) نے ہنگامی اقدام اٹھاتے ہوئے صورتحال پر ‘عالمی ہیلتھ ایمرجنسی’ نافذ کر دی ہے۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ کانگو کے متاثرہ علاقوں میں بنیادی طبی سہولیات انتہائی محدود ہیں، جس کے باعث مریضوں میں وائرس کی بروقت شناخت اور ان کی آئسولیشن (تنہائی) میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور یہی وجہ اس کے تیزی سے پھیلنے کا سبب بن رہی ہے۔

دوسری جانب، اس خطرناک وبائی صورتحال کے پیشِ نظر دیگر ممالک نے بھی حفاظتی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے ملک اردن نے فوری طور پر جمہوریہ کانگو اور پڑوسی ملک یوگنڈا سے آنے والے مسافروں کے اپنے ملک میں داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ اردن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق، اس سخت سفری پابندی کا بنیادی مقصد اردن اور اس کے گردونواح کے خطے کو اس ہلاکت خیز وبا سے محفوظ رکھنا ہے