LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
صدر آصف علی زرداری سے محسن نقوی کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال آئینِ پاکستان کو نہ ماننے والوں سے کوئی بات نہیں ہوگی: فیصل کریم پولیس پر تشدد کا کیس: ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ پر فرد جرم کی تاریخ مقرر ہراسگی قانون کے تحت کارروائی کیلئے جنسی نوعیت کا عنصر ضروری ہے: آئینی عدالت 4 اکتوبر کا لانگ مارچ فی الحال حتمی ہے، مگر حالات کے مطابق فیصلے کا حق رکھتے ہیں: سینیٹر علی ظفر پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 1.2 ارب ڈالر قسط کیلئے مذاکرات کا آغاز حکومت کا یکساں گیس ٹیرف نافذ کرنے کا فیصلہ، آئی ایم ایف سے منظوری لی جائے گی ملک بھر کے صارفین کے لیے بجلی مزید مہنگی کرنے کی تیاری نیتن یاہو نے اماراتی صدر کی دعوت پر ابوظہبی کا دورہ کیا: اسرائیلی وزیراعظم دفتر حافظ نعیم سے منسوب لغو بات پھیلائی جا رہی ہے: لیاقت بلوچ قطر نے ہمارے مؤقف سے امریکا کو آگاہ کر دیا، اب جواب کا انتظار ہے: عراقچی پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ، کھلی فضا میں ڈرون اڑانے پر پابندی عائد سعودی عرب کی سلامتی پاکستان کیلئے ریڈ لائن ہے: مولانا طاہر اشرفی پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز سکیورٹی فورسز کے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں آپریشنز، 7 دہشت گرد جہنم واصل

ہراسگی قانون کے تحت کارروائی کیلئے جنسی نوعیت کا عنصر ضروری ہے: آئینی عدالت

Web Desk

29 September 2026

وفاقی آئینی عدالت نے اپنے ایک اہم تفصیلی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ ہراسگی کے قانون کے تحت کارروائی کے لیے جنسی نوعیت کا عنصر ہونا لازمی ہے، اور ہر نامناسب یا ناپسندیدہ رویہ جنسی ہراسگی کے زمرے میں نہیں آتا۔ اٹھارہ صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں عدالت نے واضح کیا کہ جنسی عنصر کے بغیر موصول ہونے والی شکایت ہراسگی ایکٹ کے تحت وفاقی محتسب کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی، البتہ متعلقہ ادارہ اس قسم کے نامناسب رویے پر اپنے سروس رولز کے ضوابط کے تحت اندرونی تادیبی کارروائی کا مجاز ہے۔ عدالت نے مزید کہا کہ ہراسگی قانون کا بنیادی مقصد کام کی جگہ پر مردوں اور خواتین کو جنسی ہراسگی سے تحفظ فراہم کرنا ہے، اور اس ایکٹ کا اطلاق عمومی نوعیت کی ہر شکایت پر نہیں کیا جا سکتا۔ یہ فیصلہ چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سنایا، جبکہ تفصیلی فیصلہ جسٹس علی باقر نجفی نے تحریر کیا۔ اس کیس کے پس منظر میں وفاقی محتسب نے دو بینک افسران کو ملازمت سے برطرف کرنے کی سزا سنائی تھی، جس کے خلاف صدرِ مملکت نے اپیل سنتے ہوئے برطرفی کی سزا کو تبدیل کرکے سرزنش (وارننگ) کی سزا میں بدل دیا تھا، تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ نے صدرِ مملکت کا حکم کالعدم قرار دے کر وفاقی محتسب کا فیصلہ بحال کر دیا تھا۔ وفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا 31 دسمبر 2024 کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے صدرِ مملکت کا حکم بحال کر دیا، ساتھ ہی یہ بھی طے کیا کہ صدرِ مملکت وفاقی محتسب کے فیصلے کے خلاف نمائندگی سننے کے مکمل مجاز ہیں جبکہ ہائی کورٹ صرف محدود آئینی بنیادوں پر ہی محتسب کے فیصلے میں مداخلت کر سکتی ہے۔