LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سلطان بمقابلہ شیطان، وسیم اکرم کی جمرات میں ان سوئنگ انداز سے رمی کی ویڈیو وائرل وزیراعظم کا فیلڈ مارشل  سمیت سروسز چیفس سے فون پر رابطہ، عیدکی مبارکباد، افواج کو خراجِ تحسین اسحاق ڈار کی انتونیو گوتریس سے ملاقات، عالمی امن و خطے کی صورتحال پر گفتگو لاکھوں حجاج کرام کی جمرہ کبریٰ کی رمی کے بعد قربانی، حج کے اہم ارکان مکمل وزیراعظم شہباز شریف کی اعلیٰ حکومتی اور سیاسی شخصیات سے رابطے، عید کی مبارکباد دی رواں سال حج کی ادائیگی کا نیا عالمی ریکارڈ قائم، 17 لاکھ سے زائد عازمین شریک پاکستان سمیت خلیجی ریاستوں، امریکا اور یورپ میں عیدالاضحیٰ جوش و خروش کے ساتھ منائی جارہی ہے پاک چین تعلقات نئی اسٹریٹجک بلندی پر: مشترکہ اعلامیے میں “چین پاکستان سکیورٹی پارٹنرشپ” کے قیام بڑی کامیابی توحید ہے، اللہ صبر کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے، خطبہ حج امریکا کو خطے میں مزید اڈے قائم کرنے کا موقع نہیں ملے گا: مجتبیٰ خامنہ ای پنجاب میں عید الاضحیٰ کی تعطیلات کے دوران شدید ہیٹ ویو کا خدشہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سرکاری دورے پر نیویارک پہنچ گئے مریم نواز کی اے آئی آئی بی کو ڈویلپمنٹ پراجیکٹ میں شراکت داری کی پیشکش پاکستان اور چین کا تزویراتی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق: مشترکہ اعلامیہ بھارت میں عیدالاضحیٰ پر نمازعید اور قربانی پر پابندی عائد

روئی کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، فی من نرخ 20 ہزار 500 روپے کی سطح پر پہنچ گئے

Web Desk

12 April 2026

ملک میں روئی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد فی من روئی کی قیمت بڑھ کر 20 ہزار 500 روپے تک پہنچ گئی ہے، جو گزشتہ دو برس کی بلند ترین سطح قرار دی جا رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق خلیجی خطے میں کشیدگی اور امریکا ایران مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہونے کے باعث روئی کی درآمدی سرگرمیاں بحال نہ ہو سکیں، جس کے نتیجے میں مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں تیزی دیکھنے میں آئی۔

چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق کے مطابق گزشتہ چھ ہفتوں کے دوران روئی کی قیمت میں تقریباً 4 ہزار روپے فی من اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ درآمدات کی معطلی، معیاری روئی کی محدود دستیابی اور پولیسٹر فائبر کی قیمتوں میں اضافے نے مارکیٹ پر دباؤ بڑھایا۔

انہوں نے بتایا کہ سندھ کے علاقوں ٹنڈو باگو اور ڈگری میں کپاس کے ایڈوانس سودے بھی بلند نرخوں پر طے پائے، جبکہ سانگھڑ میں ایک جننگ فیکٹری نے روئی کی 200 گانٹھوں کا سودا 21 ہزار 700 روپے فی من کے حساب سے کیا۔

احسان الحق کے مطابق قیمتوں میں اضافے کے باعث رواں سال کپاس کی کاشت میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، کیونکہ کسان بہتر نرخوں کی وجہ سے اس فصل کی جانب راغب ہو رہے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق کاٹن ایئر 2025-26 کے دوران پاکستان میں کپاس کی پیداوار 56 لاکھ گانٹھ رہی، جبکہ ایک امریکی زرعی ادارے نے اپنی حالیہ رپورٹ میں پیداوار کا تخمینہ بڑھا کر 72 لاکھ 21 ہزار گانٹھ کر دیا ہے۔