LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
70 سالہ نورین نیازی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، عوام کو کاکروچ کی طرح ٹریٹ نہ کیا جائے: سلمان اکرم راجہ پاکستان میں ذہنی امراض کے شکار افراد کی تعداد 3 کروڑ 24 لاکھ سے تجاوز، ماہرینِ نفسیات کی شدید قلت کا انکشاف پیپلز پارٹی کے وفد کی اپوزیشن چیمبر آمد، قائدِ حزب اختلاف سینیٹ اور قومی اسمبلی سے اہم ملاقات سال 2026 کی تیسری ذیلی قومی پولیو مہم کا آغاز، 2 کروڑ 40 لاکھ بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال پرائیویٹ حج پیکجز کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش پاکستان مشرقِ وسطیٰ کشیدگی میں قابل تعریف کردار ادا کر رہا ہے: سنگاپور پیپلزپارٹی کی اپوزیشن کو انتخابی اصلاحات کمیٹی میں شمولیت کی دعوت آزاد کشمیر: گھر میں گیس سلنڈر دھماکے سے 3 خواتین سمیت 4 افراد جاں بحق پنجاب میں ای بزنس کا فروغ ترجیح، 4 لاکھ نوجوانوں کو ہنر مند بنا دیا: مریم نواز سپر ایل نینیو 10 ماہ میں نو لاکھ اضافی اموات کا سبب بن سکتا ہے: سائنس دان بجلی 2 روپے 56 پیسے مہنگی کرنے کی در خواست پر فیصلہ محفوظ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی محسن رضائی سے براہ راست ملاقات کی پیشکش ٹرمپ ایران کے ساتھ تنازع لامتناہی جنگ میں تبدیل نہیں ہونے دیں گے: جے ڈی وینس امت مسلمہ کو فرقہ واریت سے بچانے کیلئے علماء مشترکہ لائحہ عمل بنائیں: حافظ نعیم کرپٹو ایکسچینج بائنانس پر تاریخی سائبر حملہ، ہیکرز نے اربوں ڈالر کی کرنسی چرا لی

روئی کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، فی من نرخ 20 ہزار 500 روپے کی سطح پر پہنچ گئے

Web Desk

12 April 2026

ملک میں روئی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد فی من روئی کی قیمت بڑھ کر 20 ہزار 500 روپے تک پہنچ گئی ہے، جو گزشتہ دو برس کی بلند ترین سطح قرار دی جا رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق خلیجی خطے میں کشیدگی اور امریکا ایران مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہونے کے باعث روئی کی درآمدی سرگرمیاں بحال نہ ہو سکیں، جس کے نتیجے میں مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں تیزی دیکھنے میں آئی۔

چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق کے مطابق گزشتہ چھ ہفتوں کے دوران روئی کی قیمت میں تقریباً 4 ہزار روپے فی من اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ درآمدات کی معطلی، معیاری روئی کی محدود دستیابی اور پولیسٹر فائبر کی قیمتوں میں اضافے نے مارکیٹ پر دباؤ بڑھایا۔

انہوں نے بتایا کہ سندھ کے علاقوں ٹنڈو باگو اور ڈگری میں کپاس کے ایڈوانس سودے بھی بلند نرخوں پر طے پائے، جبکہ سانگھڑ میں ایک جننگ فیکٹری نے روئی کی 200 گانٹھوں کا سودا 21 ہزار 700 روپے فی من کے حساب سے کیا۔

احسان الحق کے مطابق قیمتوں میں اضافے کے باعث رواں سال کپاس کی کاشت میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، کیونکہ کسان بہتر نرخوں کی وجہ سے اس فصل کی جانب راغب ہو رہے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق کاٹن ایئر 2025-26 کے دوران پاکستان میں کپاس کی پیداوار 56 لاکھ گانٹھ رہی، جبکہ ایک امریکی زرعی ادارے نے اپنی حالیہ رپورٹ میں پیداوار کا تخمینہ بڑھا کر 72 لاکھ 21 ہزار گانٹھ کر دیا ہے۔