LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں تیزی آ گئی: امریکی حکام کا دعویٰ بلوچستان کے اضلاع ژوب اور چمن میں 4.8 شدت زلزلے کے جھٹکے ایران کے حوالے سے صورتحال بہتر، امریکا کا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول ہے: ٹرمپ چین کا بھارت کے غیر قانونی قائم کردہ ’’اروناچل پردیش‘‘ کو تسلیم کرنے سے انکار سہ فریقی سکیورٹی معاہدہ آسٹریلیا کو مزید غیر محفوظ بنا دے گا: سابق وزیراعظم میلکم ٹرن طالبان کے اقتدار پر قبضے کے بعد 24 لاکھ افغان لڑکیاں ثانوی تعلیم سے محروم اتنے بڑے ہاتھ نہیں بانی کے اکاؤنٹ سے اپنے لئے ٹویٹس کروں: مشعال یوسفزئی محسن نقوی کی ایرانی صدر سے ملاقات، باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال ایران کو خطرہ ہوا تو عالمی انفراسٹرکچر خطرے میں پڑ سکتا ہے، پاسداران انقلاب روس کا یوکرینی شہر زاپوریژیا میں سٹیل پلانٹ پر حملہ، 7 ملازم ہلاک یمنی حوثیوں کا فوجی سازو سامان لیجانے والے سعودی جہاز پر حملے کا دعویٰ علاقائی کشیدگی پر قابو پانے کیلئے کوششیں جاری رہیں گی: سعودی کابینہ پاکستان کا غزہ کی صورتحال پر اظہار تشویش، فلسطینیوں کو فوری تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ باب المندب کے قریب کارگو جہاز پر حملہ، جاں بحق افراد کی تعداد 6 ہوگئی امریکا اور ایران میں امن سمجھوتے یا مفاہمت کے امکانات بڑھ گئے ہیں، خواجہ آصف

سہ فریقی سکیورٹی معاہدہ آسٹریلیا کو مزید غیر محفوظ بنا دے گا: سابق وزیراعظم میلکم ٹرن

Web Desk

12 August 2026

آسٹریلیا کے سابق وزیراعظم میلکم ٹرن بُل نے خبردار کیا ہے کہ اگر ملک نے اپنی موجودہ دفاعی پالیسی تبدیل نہ کی تو آسٹریلیا مزید غیر محفوظ، کمزور اور اپنے فیصلے خود کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو جائے گا۔ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق سڈنی میں نیو ساؤتھ ویلز پارلیمنٹ ہاؤس میں برطانیہ اور امریکا کے ساتھ طے پانے والے سہ فریقی دفاعی معاہدے (AUKUS) پر بحث کے دوران خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ اس شراکت داری نے آسٹریلیا کو امریکا کا مزید محتاج بنا دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ معاہدے کے تحت مجوزہ جوہری آبدوزوں کا ملنا آسٹریلیا کے ہاتھ میں نہیں بلکہ امریکا اور برطانیہ کے فیصلوں پر منحصر ہے، جو کہ آسٹریلوی خودمختاری کی بہت بڑی قربانی ہے۔ اس موقع پر سماعت کے مقام کے باہر شہریوں کی جانب سے معاہدے کے خلاف شدید احتجاج بھی کیا گیا، جبکہ پبلک انکوائری کمیٹی آسٹریلیا کی خودمختاری، سیکورٹی اور جوہری فضلے کی تلفی کے اثرات کا جائزہ لے کر اکتوبر تک اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔