LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی فوج ہماری توقع سے کہیں زیادہ کمزور نکلی: مشیر ایرانی کمانڈر کا بڑا دعویٰ اسحاق ڈار کی حوثیوں کے حملے میں 3 پاکستانیوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق مکہ معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے، باب المندب میں تجارتی جہاز پر حوثی حملہ قابلِ مذمت: ترجمان دفتر خارجہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی ایرانی قیادت سے اہم ملاقات، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا خصوصی پیغام پہنچا دیا نوجوان پاکستان کا انمول سرمایہ اور روشن مستقبل کے معمار ہیں: صدر، وزیراعظم ٹرمپ نے امریکا کو ایک غیر ضروری اور خطرناک جنگ میں جھونک دیا: چک شومر آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں تیزی آ گئی: امریکی حکام کا دعویٰ بلوچستان کے اضلاع ژوب اور چمن میں 4.8 شدت زلزلے کے جھٹکے ایران کے حوالے سے صورتحال بہتر، امریکا کا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول ہے: ٹرمپ چین کا بھارت کے غیر قانونی قائم کردہ ’’اروناچل پردیش‘‘ کو تسلیم کرنے سے انکار سہ فریقی سکیورٹی معاہدہ آسٹریلیا کو مزید غیر محفوظ بنا دے گا: سابق وزیراعظم میلکم ٹرن طالبان کے اقتدار پر قبضے کے بعد 24 لاکھ افغان لڑکیاں ثانوی تعلیم سے محروم اتنے بڑے ہاتھ نہیں بانی کے اکاؤنٹ سے اپنے لئے ٹویٹس کروں: مشعال یوسفزئی محسن نقوی کی ایرانی صدر سے ملاقات، باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال ایران کو خطرہ ہوا تو عالمی انفراسٹرکچر خطرے میں پڑ سکتا ہے، پاسداران انقلاب

ٹرمپ نے امریکا کو ایک غیر ضروری اور خطرناک جنگ میں جھونک دیا: چک شومر

Web Desk

12 August 2026

امریکی سینیٹر چک شومر نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک بار پھر شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ نے امریکہ کو ایک غیر ضروری اور انتہائی خطرناک جنگ میں جھونک کر امریکی فوجیوں کی جانوں کو سنگین خطرے میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کانگریس اپنے آئینی اختیارات کا دوبارہ استعمال کرتے ہوئے اس جنگ کے فوری خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کرے اور ٹرمپ انتظامیہ ایرانی دھمکیوں کے معاملے پر سینیٹ کو فوری طور پر بریفنگ فراہم کرے۔

چک شومر نے مطالبہ کیا کہ ٹرمپ کو ترکیہ سے نکالنے کے لیے کیے گئے غیر معمولی اقدامات سے متعلق کانگریس کو مکمل طور پر آگاہ کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے موقف اپنایا کہ امریکی اہلکاروں کو لاحق خطرات اور ملک کو درپیش کسی بھی ممکنہ خطرے کے بارے میں کانگریس کی آگاهی انتہائی ضروری ہے، اور اس طرح کے حساس و سنگین معاملے پر کانگریس کو اندھیرے میں رکھ کر میڈیا رپورٹس پر چھوڑنا کسی صورت بھی قابلِ قبول نہیں ہے۔