LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اقوام متحدہ کی مقبوضہ مغربی کنارے اسرائیلی بستیوں کے توسیعی منصوبے کی شدید مذمت انتخابی عمل کا پہلا مرحلہ آزادانہ اور شفافیت سے مکمل ہوا:چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر شہباز شریف سے چینی سفیر کی ملاقات، سٹریٹجک شراکت داری مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ مراکش نے 650 میل طویل ساحلی شاہراہ کو ٹرمپ کے نام سے منسوب کردیا تیل تنصیبات پر حملے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حق رکھتے ہیں: سعودی عرب حملے عارضی طور پر روکے، مذاکرات ناکام ہوئے تو فوجی کارروائی ہوگی: ٹرمپ دوبارہ اقتدار میں آیا تو قطر کو دشمن ریاست قرار دوں گا: نفتالی بینیٹ حوثیوں کا سعودی خام تیل کے ٹرانسپورٹ انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ ٹرمپ سے ملاقات کے ایجنڈے میں ایران سرفہرست ہوگا، نیتن یاہو غزہ پر تشویش کے باوجود جرمنی کی اسرائیل کو اسلحہ برآمدات میں اضافہ یوکرین نے ایران کی دھمکیاں مسترد کر دیں، روسی جارحیت میں براہِ راست شمولیت کا الزام ایران میں فرانسیسی سفیر کی طلبی، اندرونی معاملات میں مداخلت پر شدید احتجاج سیئٹل فوڈ فیسٹیول میں فائرنگ، ہلاکتیں 3 ہو گئیں، 4 افراد زخمی روس کو ہتھیار دے کر ایران پہلے ہی جنگ میں شامل ہو چکا ہے: زیلنسکی یوکرین بالآخر اپنے مغربی علاقے کھو دے گا: صدر پوتن کا دعویٰ

صوبوں کے حقوق اور اختیارات پر سمجھوتہ ناقابل قبول،مولانا فضل الرحمان

Web Desk

7 November 2025

جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم سے متعلق اہم مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک کوئی مسودہ سامنے نہیں آیا، اور مسودہ آنے پر ہی اس پر بات کریں گے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 26ویں ترمیم میں حکومت نے 35 شقوں سے دستبرداری اختیار کی تھی اور ان شقوں کو دوبارہ شامل کرنا قابل قبول نہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ترمیم میں کھینچ تان کے ذریعے دو تہائی اکثریت حاصل کی جا رہی ہے، جو نقصان دہ ہوگا۔
انہوں نے واضح کیا کہ صوبوں کے حقوق اور اختیارات میں کمی کسی صورت قبول نہیں، اور اگر ایسا ہوا تو وہ بھرپور مخالفت کریں گے۔ مولانا فضل الرحمان نے سود کے حوالے سے حکومت کی پیشرفت نہ ہونے اور دینی مدارس کی رجسٹریشن نہ ہونے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ مدارس کو وزارت تعلیم کے ماتحت کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے اور ضرورت پڑنے پر پیپلزپارٹی قیادت سے ملاقات بھی کی جائے گی تاکہ بلاول بھٹو کے موقف کو سمجھا جا سکے