LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مکہ دفاعی معاہدے میں مزید ممالک میں بھی شامل ہوں گے: ترک صدر کیلیفورنیا اسٹیٹ اسمبلی میں پاک امریکا تعلقات کو خراج تحسین کی تاریخی قرارداد منظور امریکی ریاست ٹیکساس میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 2 افراد ہلاک آسٹریا: روسی دفاعی صنعت کو سامان کی فراہمی پر 2 بیلا روسی شہریوں کو سزا سنا دی گئی امریکہ میں جعلی شادیوں کے ذریعے امیگریشن فراڈ کا بڑا سکینڈل بے نقاب کیرولین لیویٹ رواں ماہ کے آخر میں عہدہ چھوڑ دیں گی، ٹرمپ امریکا کی جانب سے جوہری ہتھیار استعمال کرنےکی کوشش پر ایران کی سخت ردعمل کی دھمکی عراق نے اکتوبر تک غیر ملکی فوجیوں کی موجودگی ختم کرنےکا عزم ظاہر کر دیا ایران نے پاکستان کو اسلامی دنیا کا عظیم اثاثہ قرار دے دیا ایرانی عدالت نے اسرائیلی اور امریکی مفادات کیلئےکام کرنےکے الزام میں خاتون صحافی کو 15 سال قید کی سزا سنادی انقرہ میں ٹرمپ کے طیارے پر حملے کی سازش کی اسرائیلی رپورٹ جعلی ہے، ترک حکام امریکا کے وفاقی بجٹ خسارے میں ریکارڈ اضافہ کانگریس رکنِ الہان عمر نے مینیسوٹا سے ڈیموکریٹک پرائمری جیت لی بجلی صارفین پر اگلے 3 ماہ کیلئے 23 ارب روپے کا بوجھ ڈالنے کی تیاری مکمل پیپلزپارٹی نے آزادکشمیر کے الیکشن کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی: طارق فضل چودھری

صوبوں کے حقوق اور اختیارات پر سمجھوتہ ناقابل قبول،مولانا فضل الرحمان

Web Desk

7 November 2025

جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم سے متعلق اہم مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک کوئی مسودہ سامنے نہیں آیا، اور مسودہ آنے پر ہی اس پر بات کریں گے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 26ویں ترمیم میں حکومت نے 35 شقوں سے دستبرداری اختیار کی تھی اور ان شقوں کو دوبارہ شامل کرنا قابل قبول نہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ترمیم میں کھینچ تان کے ذریعے دو تہائی اکثریت حاصل کی جا رہی ہے، جو نقصان دہ ہوگا۔
انہوں نے واضح کیا کہ صوبوں کے حقوق اور اختیارات میں کمی کسی صورت قبول نہیں، اور اگر ایسا ہوا تو وہ بھرپور مخالفت کریں گے۔ مولانا فضل الرحمان نے سود کے حوالے سے حکومت کی پیشرفت نہ ہونے اور دینی مدارس کی رجسٹریشن نہ ہونے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ مدارس کو وزارت تعلیم کے ماتحت کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے اور ضرورت پڑنے پر پیپلزپارٹی قیادت سے ملاقات بھی کی جائے گی تاکہ بلاول بھٹو کے موقف کو سمجھا جا سکے