LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم کو عوامی ہال میں چینی ہم منصب کا پرتپاک استقبالیہ، گارڈ آف آنر پیش پاکستانی نژاد برطانوی باکسر حمزہ شیراز عالمی چیمپئن بن گئے سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، انڈیکس ایک لاکھ 71 ہزار پوائنٹس کی حد پر بحال عوامی ٹرانسپورٹ میں اوورچارجنگ، اوورلوڈنگ کیخلاف سخت کارروائی کا حکم امریکا،ایران معاہدے کو حتمی شکل دینے میں چند دن لگ سکتے ہیں: امریکی میڈیا سوات ایکسپریس وے پر وین کی بس کو ٹکر، 11 افراد جاں بحق، 7 زخمی امریکہ ایران معاہدے پر غیر یقینی صورتحال، عالمی تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ایرانی و عمانی سفارتکاروں کا رابطہ، سفارتی رابطوں کی اہمیت کا اعادہ امریکی صدر اور انکی انتظامیہ کو ایران کی پالیسی بارے شدید تنقید کا سامنا بیرسٹر گوہر اور سہیل آفریدی نے محسن نقوی سے ملاقات خاندان کو اعتماد میں لیے بغیر کی:علیمہ خان  شکیرا کے فیفا ورلڈ کپ 2026 گانے کی ویڈیو جاری، میسی اور امباپے سمیت عالمی ستارے شامل پاکستان اور چینی کمپنیوں کے درمیان 7 ارب ڈالر سے زائد کے معاہدوں پر دستخط ایران کی کوئٹہ دھماکے کی شدید مذمت، دہشت گردی کے خلاف مشترکہ تعاون پر زور 8ذوالحج: مناسک حج کا آغاز، 20 لاکھ سے زائد عازمین منیٰ پہنچنے لگے بلوچستان حملہ پوری قوم کے دل پر وار ہے: نواز شریف

صوبوں کے حقوق اور اختیارات پر سمجھوتہ ناقابل قبول،مولانا فضل الرحمان

Web Desk

7 November 2025

جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم سے متعلق اہم مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک کوئی مسودہ سامنے نہیں آیا، اور مسودہ آنے پر ہی اس پر بات کریں گے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 26ویں ترمیم میں حکومت نے 35 شقوں سے دستبرداری اختیار کی تھی اور ان شقوں کو دوبارہ شامل کرنا قابل قبول نہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ترمیم میں کھینچ تان کے ذریعے دو تہائی اکثریت حاصل کی جا رہی ہے، جو نقصان دہ ہوگا۔
انہوں نے واضح کیا کہ صوبوں کے حقوق اور اختیارات میں کمی کسی صورت قبول نہیں، اور اگر ایسا ہوا تو وہ بھرپور مخالفت کریں گے۔ مولانا فضل الرحمان نے سود کے حوالے سے حکومت کی پیشرفت نہ ہونے اور دینی مدارس کی رجسٹریشن نہ ہونے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ مدارس کو وزارت تعلیم کے ماتحت کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے اور ضرورت پڑنے پر پیپلزپارٹی قیادت سے ملاقات بھی کی جائے گی تاکہ بلاول بھٹو کے موقف کو سمجھا جا سکے