LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم سے آذربائیجان کے سفیر کی الوداعی ملاقات، خضر فرہادوف کی خدمات کو سراہا قطری ایل این جی جہاز نے آبنائے ہرمز عبور کر لی، آج پاکستانی حدود میں داخل ہوگا محسن نقوی کی زیر صدارت اجلاس، پی ایس ایل سیزن کی تیاریوں پر گفتگو دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب غزہ جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کیلئے قاہرہ میں جلد اہم اجلاس متوقع پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تیزی، ایک لاکھ 76 ہزار پوائنٹس کی حد بحال قائداعظم محمد علی جناح کی بہن فاطمہ جناح کی آج سالگرہ منائی جا رہی ہے ایران کی قشم جزیرے پر امریکی حملے کی شدید مذمت کوئٹہ کے نواحی علاقے میں کوئلے کی کان میں دھماکا، 32 کان کن جاں بحق پاسداران انقلاب کا کویت میں امریکا کی علی السالم ایئربیس پر حملے کا دعویٰ علیم خان صرف بیان نہ دیں، استعفیٰ دے کر اپوزیشن بینچوں پر بیٹھیں: سوشل میڈیا صارفین کا شدید ردِعمل امریکا نے چین، بھارت، روس اور ایران کے اداروں پر نئی پابندیاں لگا دیں سینٹ کام نے ایران کے امریکی طیارے تباہ کرنے کے دعوے مسترد کر دیئے ہمارے مخالفین آپس میں کسی بات پر متفق نہیں، ہماری سیاست صرف ترقی ہے: احسن اقبال بھارت کی موجودہ قیادت نفرت کی سیاست سے اپنے ہی ملک کو نقصان پہنچا رہی ہے: سفیر فیصل نیاز ترمذی

ٹی وی چینلز سے اشتہاراتی آمدن پر 5 فیصد محصول کے پیمرا نوٹسز کے خلاف کیس، فیصلہ محفوظ

Web Desk

6 January 2026

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ٹی وی چینلز کو اشتہارات کی مد میں سالانہ آمدنی کا پانچ فیصد بطور محصول جمع کرانے کے پیمرا نوٹسز کے خلاف دائر درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ یہ سماعت جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے) سمیت آٹھ ٹی وی چینلز کی درخواستوں پر کی۔

سماعت کے دوران پی بی اے اور ٹی وی چینلز کی جانب سے فیصل صدیقی ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ وکیل پی بی اے نے مؤقف اختیار کیا کہ پیمرا نے 13 سال کے عرصے کی تقریباً دو ارب روپے کے قریب رقم جمع کرانے کے نوٹس جاری کیے ہیں، حالانکہ ٹی وی چینلز کو برسوں قبل لائسنس دیے گئے تھے اور اس سے پہلے کبھی اشتہاراتی آمدن سے پانچ فیصد ادائیگی کا تقاضا نہیں کیا گیا۔

عدالت کو بتایا گیا کہ پیمرا اشتہارات کی آمدنی پر پانچ فیصد سالانہ محصول کا مطالبہ پیمرا رولز 2009 کے شیڈول بی کی بنیاد پر کر رہا ہے، جبکہ پیمرا کے پاس ٹیکس عائد کرنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں۔ وکیل کے مطابق پیمرا پہلے ہی ٹی وی چینلز سے سالانہ لائسنس فیس وصول کرتا ہے۔

دوسری جانب پیمرا کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ٹی وی چینلز نے آج تک اشتہارات کی سالانہ آمدن کا پانچ فیصد پیمرا کو ادا نہیں کیا، اور ڈیمانڈ نوٹس کے مطابق اربوں روپے کی رقم بنتی ہے۔

اس موقع پر فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ کوئی بھی چینل اتنی بڑی رقم ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا، اور اگر ایسا کیا گیا تو چینلز کا چلنا ممکن نہیں رہے گا۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد پی بی اے اور ٹی وی چینلز کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔ واضح رہے کہ پی بی اے اور ٹی وی چینلز نے پیمرا کے ان نوٹسز کے خلاف 2022 میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، جس پر عدالت پہلے ہی اشتہارات کی سالانہ آمدن پر پانچ فیصد محصول کی ادائیگی کے نوٹسز پر حکمِ امتناع جاری کر چکی ہے۔