LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
انڈس ہسپتال کے بانی ڈاکٹر عبدالباری کے لیے امریکی امپیکٹ ایوارڈ سیرت النبیؐ تمام انسانیت کے لیے رہنمائی اور رحمت کا سرچشمہ ہے، عطا تارڑ عظمیٰ بخاری فیک ویڈیو کیس: عدالت کا فریقین کو عدالتی تقدس برقرار رکھنے کا حکم روس کبھی یورپ کے پیچھے پابندیاں اٹھوانے کیلئے نہیں بھاگے گا: سرگئی لاوروف روس کا دورِ مشرق ایشیا پیسیفک کے ساتھ تعاون کا اہم مرکز بنے گا: صدر پوتن شرجیل میمن کراچی میں جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے واقعات کی مذمت حتمی مالکان کی تفصیلات جمع نہ کروانے پر 28 ہزار 761 کمپنیوں کو شوکاز نوٹس پاک چین تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری تعاون کے فروغ میں اہم پیشرفت آزاد کشمیر کی ترقی کے ایجنڈے کو آگے بڑھایا جائے گا: وزیراعظم شہباز شریف ایران کا آبنائے ہرمز میں مزید بحری بارودی سرنگیں بچھانے کا دعویٰ سکیورٹی کی آڑ میں مقبوضہ کشمیرکی آئینی حیثیت پر ڈاکہ ڈالنے کی سازش سرکاری سکولوں میں سبزیوں کی کاشت یقینی بنانے کی ہدایت ایران سے کشیدگی، امریکا نے مشرق وسطیٰ میں فوجی تعیناتی بڑھا دی اقوام متحدہ کا ایران میں شادی کی تقریب پر حملے پر تشویش کا اظہار ایکسائز بلوچستان کی بڑی کارروائی، 74 ارب کی منشیات سمگلنگ کی کوشش ناکام بنا دی

بشریٰ انصاری نے سات آٹھ بچے پیدا کرنے کو بوجھ قرار دے دیا

Web Desk

30 May 2026

کراچی: پاکستان کی ورسٹائل اور سینئر اداکارہ بشریٰ انصاری نے ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور اس سے جنم لینے والے سنگین معاشی و سماجی مسائل پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے والدین کو خاندانی منصوبہ بندی اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

عیدالاضحیٰ کے موقع پر ایک نجی ٹی وی چینل کے خصوصی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بشریٰ انصاری نے معاشرے کے ایک انتہائی حساس اور اہم مسئلے پر کھل کر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ مذہبی و ایمانی حقیقت اپنی جگہ بالکل اٹل اور موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر انسان کا رزق مقرر کرتا ہے اور وہی رازق ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ دین اور قانون دونوں میں والدین پر یہ بھاری ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی مالی استطاعت، ملکی وسائل اور بچوں کی بنیادی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلے کریں۔

“بچے پیدا کرنا کافی نہیں، تعلیم و تربیت بھی ذمہ داری ہے”

بشریٰ انصاری نے بچوں کے حقوق اور معیارِ زندگی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ محض زیادہ بچوں کی پیدائش ہی کافی نہیں ہوتی بلکہ ان کی مناسب اور معیاری تعلیم، بہترین اخلاقی تربیت، صحت کی سہولیات اور دیگر بنیادی حقوق کی فراہمی بھی والدین کا اولین فرض ہے۔

ان کا کہنا تھا:

“اگر کسی خاندان کے پاس اتنے وسائل، آمدن یا گنجائش موجود نہیں ہے کہ وہ بچوں کو ایک معیاری اور باوقار زندگی فراہم کر سکے، تو پھر ایسے حالات میں 7 یا 8 بچوں کو دنیا میں لے آنا کسی طور بھی دانشمندانہ فیصلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔”

انہوں نے مزید واضح کیا کہ ہر خاندان کو اتنے ہی بچوں کی ذمہ داری اٹھانی چاہیے جنہیں وہ ایک اچھا اور روشن مستقبل، مناسب تعلیم اور زندگی میں آگے بڑھنے کے بہتر مواقع فراہم کر سکے۔ تعداد کے مقابلے میں بچوں کی اچھی پرورش اور ان کا معیارِ زندگی زیادہ اہم ہونا چاہیے۔

آگاہی مہمات کے خاتمے پر افسوس کا اظہار

پروگرام کے دوران اداکارہ نے ماضی کی سرکاری اور سماجی آگاہی مہمات کا حوالہ دیتے ہوئے گہرے افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک دور تھا جب ٹی وی اور دیگر ذرائع ابلاغ پر خاندانی منصوبہ بندی اور آبادی میں توازن برقرار رکھنے کے حوالے سے باقاعدہ اور مؤثر مہمات چلائی جاتی تھیں، جن سے عوام میں شعور بیدار ہوتا تھا، مگر اب بدقسمتی سے ایسی تعمیری سرگرمیاں میڈیا پر بہت کم دکھائی دیتی ہیں۔

بشریٰ انصاری نے پریس کانفرنس اور انٹرویو کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت محدود وسائل، شدید معاشی دباؤ، بیروزگاری اور بڑھتی ہوئی آبادی جیسے ہولناک چیلنجز کی زد میں ہے۔ ایسے ملکی حالات میں آبادی کے اس اہم ترین مسئلے پر سنجیدہ گفتگو اور مؤثر عوامی آگاہی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے تاکہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر، مستحکم اور خوشحال مستقبل کی راہ ہموار کر سکیں۔