LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا کا چین کو اسلحہ فروخت کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں: امریکی حکام چاروں صوبوں میں ترقی ہونی چاہیے، کوئی پاکستان میں مداخلت کرے گا تو بھرپور جواب دیں گے: چیئرمین سینیٹ امریکا کا آبنائے ہرمز پر ایران کے مکمل کنٹرول کا دعویٰ مسترد پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان قرض پروگرام کے چوتھے جائزے پر مذاکرات جاری کابینہ کمیٹی اجلاس: قانون سازی کیلئے وزارتوں کو ترامیم اور سفارشات بھجوانے کی ہدایت ایرانی فوج کا آبنائے ہرمز اور خلیج فارس پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ امریکی افغانستان جنگ کمیشن کے وفد کی فیلڈ مارشل سے ملاقات، علاقائی سکیورٹی پر تبادلہ خیال ثالث ملکوں کے نمائندوں کے امریکا، ایران سے الگ الگ مذاکرات متوقع بانی پی ٹی آئی سے منگل کو وکلا کی ملاقات کا دن، 6 نام جیل حکام کو ارسال ایشین گیمز ہاکی: پاکستان نے عمان کو شکست دیکر سیمی فائنل کیلئے کوالیفائی کر لیا بانی پی ٹی آئی کا حکم ملا تو دوبارہ وزیراعلیٰ بن سکتا ہوں: علی امین گنڈاپور حسن نصراللہ مزاحمتی محاذ کی عظیم علامت ہیں، مجتبیٰ خامنہ ای 4 اکتوبر کو احتجاج کیلئے پی ٹی آئی کی کوئی تیاری نہیں: عطا تارڑ سٹاک ایکسچینج: 100 انڈیکس میں 339 پوائنٹس کی کمی راولپنڈی میں غیر قانونی کال سینٹر پر چھاپے میں 61 ملزمان گرفتار

بشریٰ انصاری نے سات آٹھ بچے پیدا کرنے کو بوجھ قرار دے دیا

Web Desk

30 May 2026

کراچی: پاکستان کی ورسٹائل اور سینئر اداکارہ بشریٰ انصاری نے ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور اس سے جنم لینے والے سنگین معاشی و سماجی مسائل پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے والدین کو خاندانی منصوبہ بندی اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

عیدالاضحیٰ کے موقع پر ایک نجی ٹی وی چینل کے خصوصی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بشریٰ انصاری نے معاشرے کے ایک انتہائی حساس اور اہم مسئلے پر کھل کر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ مذہبی و ایمانی حقیقت اپنی جگہ بالکل اٹل اور موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر انسان کا رزق مقرر کرتا ہے اور وہی رازق ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ دین اور قانون دونوں میں والدین پر یہ بھاری ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی مالی استطاعت، ملکی وسائل اور بچوں کی بنیادی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلے کریں۔

“بچے پیدا کرنا کافی نہیں، تعلیم و تربیت بھی ذمہ داری ہے”

بشریٰ انصاری نے بچوں کے حقوق اور معیارِ زندگی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ محض زیادہ بچوں کی پیدائش ہی کافی نہیں ہوتی بلکہ ان کی مناسب اور معیاری تعلیم، بہترین اخلاقی تربیت، صحت کی سہولیات اور دیگر بنیادی حقوق کی فراہمی بھی والدین کا اولین فرض ہے۔

ان کا کہنا تھا:

“اگر کسی خاندان کے پاس اتنے وسائل، آمدن یا گنجائش موجود نہیں ہے کہ وہ بچوں کو ایک معیاری اور باوقار زندگی فراہم کر سکے، تو پھر ایسے حالات میں 7 یا 8 بچوں کو دنیا میں لے آنا کسی طور بھی دانشمندانہ فیصلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔”

انہوں نے مزید واضح کیا کہ ہر خاندان کو اتنے ہی بچوں کی ذمہ داری اٹھانی چاہیے جنہیں وہ ایک اچھا اور روشن مستقبل، مناسب تعلیم اور زندگی میں آگے بڑھنے کے بہتر مواقع فراہم کر سکے۔ تعداد کے مقابلے میں بچوں کی اچھی پرورش اور ان کا معیارِ زندگی زیادہ اہم ہونا چاہیے۔

آگاہی مہمات کے خاتمے پر افسوس کا اظہار

پروگرام کے دوران اداکارہ نے ماضی کی سرکاری اور سماجی آگاہی مہمات کا حوالہ دیتے ہوئے گہرے افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک دور تھا جب ٹی وی اور دیگر ذرائع ابلاغ پر خاندانی منصوبہ بندی اور آبادی میں توازن برقرار رکھنے کے حوالے سے باقاعدہ اور مؤثر مہمات چلائی جاتی تھیں، جن سے عوام میں شعور بیدار ہوتا تھا، مگر اب بدقسمتی سے ایسی تعمیری سرگرمیاں میڈیا پر بہت کم دکھائی دیتی ہیں۔

بشریٰ انصاری نے پریس کانفرنس اور انٹرویو کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت محدود وسائل، شدید معاشی دباؤ، بیروزگاری اور بڑھتی ہوئی آبادی جیسے ہولناک چیلنجز کی زد میں ہے۔ ایسے ملکی حالات میں آبادی کے اس اہم ترین مسئلے پر سنجیدہ گفتگو اور مؤثر عوامی آگاہی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے تاکہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر، مستحکم اور خوشحال مستقبل کی راہ ہموار کر سکیں۔