بشریٰ انصاری نے سات آٹھ بچے پیدا کرنے کو بوجھ قرار دے دیا
Web Desk
30 May 2026
کراچی: پاکستان کی ورسٹائل اور سینئر اداکارہ بشریٰ انصاری نے ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور اس سے جنم لینے والے سنگین معاشی و سماجی مسائل پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے والدین کو خاندانی منصوبہ بندی اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
عیدالاضحیٰ کے موقع پر ایک نجی ٹی وی چینل کے خصوصی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بشریٰ انصاری نے معاشرے کے ایک انتہائی حساس اور اہم مسئلے پر کھل کر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ مذہبی و ایمانی حقیقت اپنی جگہ بالکل اٹل اور موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر انسان کا رزق مقرر کرتا ہے اور وہی رازق ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ دین اور قانون دونوں میں والدین پر یہ بھاری ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی مالی استطاعت، ملکی وسائل اور بچوں کی بنیادی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلے کریں۔
“بچے پیدا کرنا کافی نہیں، تعلیم و تربیت بھی ذمہ داری ہے”
بشریٰ انصاری نے بچوں کے حقوق اور معیارِ زندگی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ محض زیادہ بچوں کی پیدائش ہی کافی نہیں ہوتی بلکہ ان کی مناسب اور معیاری تعلیم، بہترین اخلاقی تربیت، صحت کی سہولیات اور دیگر بنیادی حقوق کی فراہمی بھی والدین کا اولین فرض ہے۔
ان کا کہنا تھا:
“اگر کسی خاندان کے پاس اتنے وسائل، آمدن یا گنجائش موجود نہیں ہے کہ وہ بچوں کو ایک معیاری اور باوقار زندگی فراہم کر سکے، تو پھر ایسے حالات میں 7 یا 8 بچوں کو دنیا میں لے آنا کسی طور بھی دانشمندانہ فیصلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔”
انہوں نے مزید واضح کیا کہ ہر خاندان کو اتنے ہی بچوں کی ذمہ داری اٹھانی چاہیے جنہیں وہ ایک اچھا اور روشن مستقبل، مناسب تعلیم اور زندگی میں آگے بڑھنے کے بہتر مواقع فراہم کر سکے۔ تعداد کے مقابلے میں بچوں کی اچھی پرورش اور ان کا معیارِ زندگی زیادہ اہم ہونا چاہیے۔
آگاہی مہمات کے خاتمے پر افسوس کا اظہار
پروگرام کے دوران اداکارہ نے ماضی کی سرکاری اور سماجی آگاہی مہمات کا حوالہ دیتے ہوئے گہرے افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک دور تھا جب ٹی وی اور دیگر ذرائع ابلاغ پر خاندانی منصوبہ بندی اور آبادی میں توازن برقرار رکھنے کے حوالے سے باقاعدہ اور مؤثر مہمات چلائی جاتی تھیں، جن سے عوام میں شعور بیدار ہوتا تھا، مگر اب بدقسمتی سے ایسی تعمیری سرگرمیاں میڈیا پر بہت کم دکھائی دیتی ہیں۔
بشریٰ انصاری نے پریس کانفرنس اور انٹرویو کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت محدود وسائل، شدید معاشی دباؤ، بیروزگاری اور بڑھتی ہوئی آبادی جیسے ہولناک چیلنجز کی زد میں ہے۔ ایسے ملکی حالات میں آبادی کے اس اہم ترین مسئلے پر سنجیدہ گفتگو اور مؤثر عوامی آگاہی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے تاکہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر، مستحکم اور خوشحال مستقبل کی راہ ہموار کر سکیں۔
متعلقہ عنوانات
مامیا شاہ جعفر نے خطرناک بیماری میں مبتلا ہونے کا انکشاف کردیا
30 May 2026
راحت فتح علی خان کو وراثتی جائیداد تنازع کیس میں ریلیف مل گیا
29 May 2026
ٹیلر سوئفٹ کے کنسرٹ پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے شخص کو سزا
29 May 2026
ٹک ٹاکر جنت مرزا کی عید پر گوشت پیکنگ کی ویڈیو نے نئی بحث چھیڑ دی
29 May 2026
معروف شاعر بشیر بدر 91برس کی عمر میں بھوپال میں انتقال کر گئے
28 May 2026
ایبولا وبا کے باعث یوگینڈا نے کانگو کے ساتھ اپنی سرحد بند کردی
28 May 2026
وہ معروف اداکارائیں جو ڈاکٹر ہیں
28 May 2026
عید پر شوبز ستاروں کا خوبصورت انداز، جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر
28 May 2026