LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مستقبل کی جنگیں نئی حکمت عملیوں کی متقاضی ہیں: نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف پاکستان خطے کے امن کیلئے تعمیری کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے: ترجمان دفتر خارجہ میاں بیوی ساتھ نہ رہنے کے باوجود بھی خاتون حق مہر کی حقدار، لاہور ہائیکورٹ ہنر مند نوجوان ملک و قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں: مریم نواز نادرا کی اپیل منظور،ماتحت عدالتوں کے شناختی کارڈ بحال کرنے کے فیصلے کالعدم قرار امریکی صدر قرارداد کی منظوری پر برہم، سینیٹ نے مجھے روک کر دشمن کی مدد کی: ٹرمپ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ٹریڈنگ کا مثبت زون میں آغاز محسن نقوی کی ایرانی ہم منصب سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق ٹرمپ کے قریبی اتحادیوں کی اسرائیل کو اعتماد میں لینے کی کوشش امریکی عوام کی اکثریت کو جنگ بندی زیادہ عرصہ برقرار نہ رہنے کا خدشہ امریکی سینیٹ میں جنگی اختیارات سے متعلق حالیہ ووٹنگ اہم پیشرفت قرار ایران عام ریاست بننے کا فیصلہ کرے تو ترقی کے بڑے مواقع مل سکتے ہیں: مارکو روبیو آئی اے ای اے کے انسپکٹرز ایران کی جوہری تنصیبات کا دورہ کریں گے، ٹرمپ امریکا سے آئندہ مذاکرات اعلیٰ سطح کی کمیٹی کی نگرانی میں ہوں گے: کاظم غریب آبادی اسلام آباد اتوار بازار میں آگ بھڑک اٹھی

منگلا کمیشن سے فیلڈ مارشل تک: سید عاصم منیر کی شاندار عسکری قیادت اور تاریخی فتوحات

Web Desk

4 December 2025

فیلڈ مارشل اور چیف آف ڈیفنس فورسز حافظ سید عاصم منیر کا شمار پاکستان کی اُن معتبر عسکری شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے میدانِ جنگ سے لے کر خفیہ امور، قومی سلامتی، سرحدی نگرانی اور بین الاقوامی سفارت کاری تک ہر محاذ پر غیر معمولی قیادت کا مظاہرہ کیا۔

1968 میں راولپنڈی میں پیدا ہونے والے سید عاصم منیر نے کم عمری میں قرآنِ پاک حفظ کیا۔ ابتدائی تعلیم وہیں سے حاصل کی جبکہ ان کے والد ایک استاد اور امام مسجد تھے۔ انہوں نے 1986 میں منگلا کے آفیسرز ٹریننگ اسکول سے کمیشن حاصل کیا اور بہترین کارکردگی پر اعزازی تلوار حاصل کی۔ بعد ازاں جاپان کی Fuji School، ملائشیا کے Armed Forces College اور پاکستان کی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے اعلیٰ عسکری تربیت لی۔

اپنے کیریئر میں انہوں نے نادرن ایریاز کے فورس کمانڈر، کور کمانڈر گوجرانوالہ اور جی ایچ کیو میں کوارٹر ماسٹر جنرل کی ذمہ داریاں نبھائیں۔ وہ پاکستان کی تاریخ کے واحد افسر ہیں جنہوں نے بیک وقت ملٹری انٹیلیجنس اور آئی ایس آئی دونوں کی سربراہی کی۔

29 نومبر 2022 کو وہ پاکستان آرمی کے 17ویں چیف آف آرمی اسٹاف مقرر ہوئے جبکہ مئی 2025 میں انہیں اعزازی فیلڈ مارشل کا رُتبہ دیا گیا۔
ان کی قیادت میں پاکستان نے “معرکۂ حق” میں 9 اور 10 مئی کی رات بھارت کو فیصلہ کن شکست سے دوچار کیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت سے جنگ بندی ممکن ہوئی، جس کے بعد حکومت نے ان کی جنگی حکمت عملی اور فیصلہ سازی کے اعتراف میں انہیں فیلڈ مارشل کا عہدہ عطا کیا۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے شمالی و جنوبی سرحدوں پر سیکیورٹی مضبوط کی، دہشت گرد حملوں میں نمایاں کمی آئی اور عوامی اعتماد بحال ہوا۔ انہوں نے عالمی سطح پر پاکستان کا دفاعی مؤقف مضبوطی سے پیش کیا، جبکہ ایران–امریکہ تنازع میں ثالثی کا کردار بھی ادا کیا۔

وزیراعظم کے ساتھ اہم اجلاسوں میں قومی سلامتی، دفاعی اصلاحات اور جدید ٹیکنالوجی کے نفاذ پر پیش رفت ہوئی، جو ملک کی دفاعی پالیسی کے لیے سنگِ میل ثابت ہوا۔
ان کی قیادت میں ڈرون پروگرام، میزائل ڈیفنس سسٹمز، فضائی صلاحیتوں اور ہائی ٹیک وارفیئر میں نمایاں پیش رفت ہوئی۔ بارڈر مینجمنٹ اور ڈیجیٹل نگرانی کا نظام بھی مضبوط ہوا۔

عالمی سطح پر چین، خلیجی ممالک اور دیگر دوست ملکوں کے ساتھ مشترکہ مشقوں اور دفاعی تعاون نے پاکستان کی شراکت داری مزید مستحکم کی۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں معرکۂ حق سمیت متعدد کامیاب اقدامات نے پاکستان کو ایک جدید، مضبوط اور موثر دفاعی قوت کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا۔