LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جاپان میں 20ویں ایشین گیمز کا آغاز، پاکستانی دستے کی پروقار انٹری اسحاق ڈار اور عباس عراقچی میں رابطہ، بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت پر زور اسلام آباد معاہدے پر واپس آنے کی کوششیں جاری ہیں: ایرانی وزارتِ داخلہ نئے انتظامی یونٹس بننے سے کوئی قتل و غارت نہیں ہوگی، مصطفیٰ کمال پنجاب میں سی ٹی ڈی کے 158 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 23 دہشت گرد گرفتار سول سروس میں اصلاحات کیلئے سمارٹ ریفارمز پیکیج تیار، اہم ترامیم کی تجویز مشترکہ جائیداد کی نیلامی کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کرنا لازمی قرار عدالتی فائل گمشدگی کیس، سزا پانے والا اہلکار 15 سال بعد بری امریکی صدر ٹرمپ نے روس اور ایران پر پابندیوں کے بل پر دستخط کر دیے سکیورٹی فورسز کی پنجگور اور چاغی میں کارروائیاں، 11 دہشتگرد ہلاک کیوبا میں ایک سال میں ساتواں بلیک آؤٹ، پورا ملک تاریکی میں ڈوب گیا ایران کی کوہاٹ میں دہشت گرد حملے کی شدید مذمت، حکومت اورعوام سے تعزیت کا اظہار حوثی ملیشیا بحیرۂ احمر میں اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے: پاکستان آبنائے ہرمز میں ایک اور آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا: برطانیہ میری ٹائم کی تصدیق دشمن ملک سے خطرات: ایران نے 3 لاکھ 13 ہزار جانثار متحرک کر دیئے

فیضان نے لاہور سے اسکردو تک 1100 کلومیٹر رننگ 22 روز میں مکمل کرلی

Web Desk

19 September 2026

جی سی یونیورسٹی (GCU) لاہور کے ہونہار طالب علم اور فیلکن ٹرائیتھلون کلب کے رکن فیضان احمد نے لاہور سے اسکردو تک کا 1,100 کلومیٹر پر محیط تاریخ ساز اور انتہائی دشوار گزار رننگ سفر محض 22 روز میں کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔ فیضان نے آج اسکردو پہنچ کر اپنا یہ طویل چیلنج مکمل کیا، جس کے دوران انہوں نے پنجاب کے میدانی علاقوں سے لے کر خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان کے سخت ترین پہاڑی راستوں پر دوڑتے ہوئے سفر طے کیا۔

اس 22 روزہ مشکل ترین سفر کے دوران فیضان نے ناران، بابوسر ٹاپ، چلاس اور رائے کوٹ جیسے شدید چڑھائیوں، سنگلاخ راستوں اور سخت موسمی حالات والے مقامات کو فتح کیا۔ فیضان احمد نے اپنے اس کارنامے کو پاکستان کی مسلح افواج اور پولیس کے عظیم شہدا کے نام معنون کرتے ہوئے وطن کے لیے جانیں قربان کرنے والے تمام سورماؤں کو شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ فیضان کے اس رننگ چیلنج کا ایک اور اہم مقصد منشیات کے زہر کے خلاف عالمی سطح پر آگاہی پھیلانا اور خصوصاً نوجوان نسل کو اس کے بھیانک اثرات سے محفوظ رکھنا تھا۔ انہوں نے اپنے راستے میں آنے والی مختلف مقامی آبادیوں اور برادریوں سے گفتگو کرتے ہوئے منشیات کے خلاف مؤثر پیغام بھی پہنچایا۔