LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان اور کویت کے درمیان ‘پروٹوکول معاہدہ 2026’ پر دستخط بلوچستان کی صورتحال بارے دفاعی جائزہ اجلاس، سیف سٹی پروجیکٹ فعال کرنے کا فیصلہ وزیر خزانہ سے اسیاڈ گروپ کے وفد کی ملاقات، پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کا عزم فیلڈ مارشل عاصم منیر سے کویت کے اعلیٰ سطح وفد کی ملاقات، دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال یوکرین میں غیر ملکی فوجی دستے روس کے جائز فوجی اہداف بنیں گے، ماریہ زخارووا شاہ غلام قادر، راجہ فاروق حیدر نے بیرسٹر افتخار گیلانی کو وزیراعظم نامزد کرنے کا فیصلہ مسترد کر دیا وزیر داخلہ کا نادرا میگا سینٹر میں پاسپورٹ آفس کی سہولت مہیا کرنے کا اعلان پاکستانی طالبات کیلئے بڑی خوشخبری، ٹیوشن فیس اور ہاسٹل سمیت اسکالرشپ کا اعلان پمز ہسپتال کے واقعے نے قوم کو غم میں مبتلا کر دیا: حافظ نعیم الرحمٰن بانی پی ٹی آئی کی شفا انٹرنیشنل منتقلی کا معاملہ: عظمیٰ خان کی توہینِ عدالت کی فوری سماعت کے لیے نئی درخواست دائر پمز حادثہ انتہائی دل خراش، کیٹی بندر پر ڈیپ سی پورٹ بنانا شہید بینظیر بھٹو کا خواب تھا: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے وفاقی وزیر صحت سے استعفے کا مطالبہ کردیا سانحہ پمز کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی درخواست دائر دو سال سے زائد عرصے میں ٹرائل شروع نہ ہوسکا، قتل کیس کے ملزم کو ضمانت مل گئی امریکا، ایران کشیدگی کم کرنے کیلئے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں: دفتر خارجہ

متحدہ عرب امارات میں جنسی جرائم اور جسم فروشی سے متعلق قوانین میں بڑی تبدیلی

Web Desk

14 December 2025

متحدہ عرب امارات نے بچوں کے تحفظ اور عوامی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے جنسی جرائم اور جسم فروشی سے متعلق قوانین میں اہم اصلاحات نافذ کر دی ہیں۔

نئے قانون کے مطابق 18 سال سے کم عمر بچے کے ساتھ جنسی تعلق پر کم از کم 10 سال قید اور ایک لاکھ درہم جرمانہ ہوگا، چاہے متاثرہ فرد نے رضامندی ظاہر کی ہو۔ تاہم اگر متاثرہ شخص کی عمر 16 سال یا اس سے زائد ہو تو رضامندی کو محدود حد تک مدنظر رکھا جائے گا۔جسم فروشی یا بدکاری کی ترغیب دینے والے افراد کو کم از کم 2 سال قید اور جرمانے کی سزا دی جائے گی، جبکہ اگر متاثرہ شخص 18 سال سے کم عمر ہوا تو سزا مزید سخت ہوگی۔قانون کے تحت حکام کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ سزا مکمل ہونے کے بعد مجرم پر اضافی حفاظتی پابندیاں عائد کی جا سکیں تاکہ دوبارہ جرم کے امکانات کم کیے جا سکیں۔حکام کے مطابق ان اصلاحات کا مقصد بچوں اور نوجوانوں کو جنسی استحصال سے بچانا اور معاشرے میں اخلاقی و عوامی تحفظ کو مضبوط بنانا ہے۔