یادداشت کی کمزوری توقع سے پہلے شروع ہو جاتی ہے: تحقیق
Web Desk
7 September 2026
نیویارک: یادداشت میں کمی اور بھولنے کے عارضے کو عموماً بڑھاپے سے منسوب کیا جاتا ہے، تاہم امریکہ کی بِنگہیمٹن یونیورسٹی (Binghamton University) کی ایک نئی سائنسی تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ یادداشت سے متعلق دماغی تبدیلیاں درمیانی عمر (Middle Age) ہی میں شروع ہو جاتی ہیں۔
بنگہیمٹن یونیورسٹی کے محققین نے 18 سے 74 سال کی عمر کے تقریباً 60 افراد پر ایک مفصل تجربہ کیا، جس کے دوران شرکاء کو مختلف چہروں کے ساتھ اشیاء اور مناظر دکھائے گئے اور ان کی یادداشت کے باقاعدہ ٹیسٹ لیے گئے۔ اس عمل کے دوران ایم آر آئی (MRI) اسکینز کے ذریعے دماغ کے اہم حصے ‘ہِپو کیمپس’ (Hippocampus) کی نیورولوجیکل سرگرمیوں کو ریکارڈ کیا گیا۔ محققین کے مطابق ہِپو کیمپس نئی یادداشتیں بنانے، معلومات کو محفوظ کرنے اور پرانی یادوں سے رابطہ استوار کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
تحقیق کے نتائج سے ظاہر ہوا کہ ہِپو کیمپس کی فعال صلاحیت میں کمی صرف انتہائی بڑھاپے کا مرحلہ نہیں بلکہ درمیانی عمر کے دوران ہی نمایاں ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ تحقیق کے شریک مصنف آئن میک ڈونو (Ian McDonough) کے مطابق درمیانی عمر انسانی یادداشت کے تحفظ اور دماغی صحت کے لحاظ سے ایک انتہائی حساس اور اہم مرحلہ ہے، جسے ماضی میں کی جانے والی اکثر طبی تحقیقات میں نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ ماہرین نے تجویز دیا ہے کہ درمیانی عمر سے ہی دماغی مشقوں اور صحت مند طرزِ زندگی کو اپنا کر یادداشت کی اس تنزلی کو سست کیا جا سکتا ہے۔
متعلقہ عنوانات
کافی پینے والوں میں جسمانی چربی کم ہونے کا امکان، نئی تحقیق میں اہم انکشاف
28 October 2026
وزن کم کرنے والی ادویات کے استعمال سے غذائی اجزا کی کمی کا خدشہ
28 October 2026
سندھ میں منکی پاکس کا ایک اور کیس رپورٹ، تعداد 100 سے متجاوز
28 October 2026
ورزش سے دل پر مرتب ہونیوالے ایک حیرت انگیز اثر کا انکشاف
27 October 2026
خیبر پختونخوا میں ایم پاکس کے 4 نئے تصدیق شدہ کیسز رپورٹ
27 October 2026
کینسر کی واپسی کو 42 فیصد تک کم کرنے والی ویکسین تیار
27 October 2026
پی ایم ڈی سی کی میڈیکل اینڈ ڈینٹل ایڈمیشن پالیسی 2026 جاری، بھاری جرمانوں کا فیصلہ
27 October 2026
ادویات کی قیمتوں میں بلاجواز اضافہ قابلِ قبول نہیں: احد چیمہ
26 October 2026