LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سہیل آفریدی سمیت دیگر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری کا حکم نامہ جاری برآمدات میں اضافے کیلئے جی ایس پی پلس فریم ورک سے بھرپور استفادہ کیا جائے: اسحاق ڈار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے 6 رفقاء کی فہرست جیل حکام کو جمع روہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے میں 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی مصنوعی ذہانت سے سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ، ہزاروں نوکریاں ختم ہوں گی حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا ماسکو میں تیسرے روس افریقہ سربراہی اجلاس کا آغاز، پوتن کا کثیر قطبی عالمی نظام پر زور سیاسی جماعتیں عوامی ریلیف اور عملی اقدامات پر توجہ دیں: شرجیل میمن پولٹری سیکٹر میں اینٹی بائیوٹکس کے استعمال میں کمی کیلئے پاکستان اور ڈنمارک کے ادارے میں معاہدہ چار ملکی اجلاس خطے میں امن و سلامتی کے لیے اہم موقع ہے، عباس عراقچی وزیراعظم آزاد کشمیر کا وادی سیماری میں ایکو ٹورازم منصوبے کا دورہ، حکومتی سرپرستی کا اعلان

مصنوعی ذہانت سے سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ، ہزاروں نوکریاں ختم ہوں گی

Web Desk

28 October 2026

نیدرلینڈز کی حکومت نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے مؤثر استعمال اور حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی لانے کے لیے سال 2035 تک سرکاری سطح پر 25 ہزار ملازمتیں ختم کرنے کا ایک بڑا منصوبہ تیار کیا ہے، جس سے قومی خزانے کو ساڑھے 3 ارب یورو کی بچت متوقع ہے۔

ڈچ حکومت کے اس اصلاحاتی منصوبے کے تحت ملک کی کل سرکاری افرادی قوت میں مجموعی طور پر 16 فیصد کمی کی جائے گی۔ ڈچ اسٹیٹ سیکریٹری برائے امورِ مملکت اور مؤثر حکمرانی ایرک وان ڈیر برگ کے مطابق ملازمتوں میں اس کٹوتی کے نتیجے میں اکیلے سال 2027 تک ہی 90 کروڑ یورو کی بچت حاصل ہو جائے گی، جبکہ جدید اے آئی ٹیکنالوجی کے بروئے کار لانے سے سرکاری اداروں کی مجموعی پیداواری صلاحیت میں بھی شاندار اضافہ ہوگا۔ ایرک وان ڈیر برگ کا کہنا ہے کہ حکومت نے مرکزی سرکاری نظام کے لیے ایسے عملی اقدامات کا انتخاب کیا ہے جو نہ صرف انتہائی مؤثر ثابت ہوں بلکہ سرکاری عملے کے حجم کو محدود کرنے میں بھی مددگار ہوں۔

ڈچ حکام کو قوی توقع ہے کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال سے سرکاری دفاتر کی کارکردگی اور پیداواری صلاحیت میں 20 فیصد تک بہتری لائی جا سکے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت قوانین اور ضوابط کو آسان بنا کر سرکاری اداروں اور اداروں کے اہلکاروں پر کام کے اضافی بوجھ کو بھی کم کرے گی، اور اس مقصد کے لیے ایک سال کے عرصے میں کم از کم 500 فرسوده قوانین یا تو ختم کر دیے جائیں گے یا انہیں زیادہ آسان بنایا جائے گا۔ اخراجات میں کمی کے لیے دیگر اقدامات میں دو ملازمین کے لیے ایک ڈیسک (میز) کا استعمال، اضافی سرکاری عمارات کی فروخت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے پورے نظام کو ایک ہی معیاری سانچے میں ڈھالنا بھی شامل ہے۔ واضح رہے کہ دنیا بھر میں اے آئی کے بڑھتے ہوئے رجحان کے باعث جہاں نجی اداروں میں تبدیلیاں آ رہی ہیں، وہیں نیدرلینڈز کا یہ اقدام سرکاری شعبے میں بھی مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے عملی کردار کی واضح عکاسی کرتا ہے۔