LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان نے سلامتی کونسل میں ویٹو پاور کی توسیع کی مخالفت کر دی قصور: 2 نابالغ بچیوں کے زبردستی نکاح کی کوشش ناکام بنا دی گئی آئی سی سی ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی کیلئے پاکستانی سکواڈ کا اعلان سردیوں میں صارفین کو روزانہ صرف 8 گھنٹے گیس ملنے کا امکان پاکستان سٹاک مارکیٹ میں آج کاروبار کے دوران مثبت رجحان پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی و سفارتی حمایت جاری رکھے گا: مریم نواز ایف ڈبلیو او کی کارکردگی انتہائی ناقص، ایوان مطمئن نہیں: وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی بلاول بھٹو زرداری کا کشمیریوں کو حقِ خودارادیت دینے کا مطالبہ اسرائیل نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں جنگی جرائم اور نسل کشی کا ارتکاب کیا: اقوام متحدہ کا انکوائری کمیشن یمنی افواج کے 24 گھنٹے میں حوثی ملیشیا پر 1276 حملے، 382 کمانڈر و اہلکار نشانہ بنے وزیراعظم سے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کی آج ملاقات طے ایران نے یورپ اور امریکا کو نشانہ بنانے والے میزائل تیار کر لیے: ٹرمپ کوٹ ادو: 3 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا سبزی فروش گرفتار بھارت کشمیریوں کے جزبہ حریت کو ختم نہیں کر سکتا: صدر، وزیراعظم آزاد کشمیر ایران پر حملے کی مخالفت: اسرائیلی وزیراعظم کا آرمی چیف کو برطرف کرنے کا امکان

کینسر کی واپسی کو 42 فیصد تک کم کرنے والی ویکسین تیار

Web Desk

27 October 2026

ایک بین الاقوامی طبی تجربے کے تیسرے مرحلے کے حیرت انگیز نتائج سے انکشاف ہوا ہے کہ جلد کے کینسر (میلانلوما) کے خلاف ایم آر این اے (mRNA) ٹیکنالوجی سے تیار کردہ پہلی مخصوص ویکسین نے جب معیاری امیونو تھراپی کے ساتھ شمولیت اختیار کی، تو اس نے کینسر کی واپسی یا موت کے خطرے کو 42 فیصد تک کم کر دیا। یہ ایک ایسا شاندار نتیجہ ہے جو محققین کی توقعات سے بھی کہیں زیادہ بہتر ثابت ہوا ہے۔

ویب سائٹ ’سائنس الرٹ‘ کے مطابق ان نتائج کو طبی تجربے کی اہم محقق اور میلانلوما انسٹی ٹیوٹ آسٹریلیا کی آنکولوجسٹ ڈاکٹر جارجینا لونگ نے یورپین سوسائٹی فار میڈیکل آنکولوجی (ESMO) کی 2026 کی کانفرنس کے دوران پیش کیا۔ ڈاکٹر لونگ کی رائے میں یہ نتائج قوتِ مدافعت کے نظام کو زیادہ مخصوص انداز میں استعمال کرتے ہوئے کینسر کے خلاف جنگ میں ایک بنیادی اور انقلابی تبدیلی کی نمائندگی کرتے ہیں، اور اس نوعیت کی کامیابی کینسر کی ادویات کی تیاری کی تاریخ میں اس سے پہلے کبھی حاصل نہیں کی گئی تھی۔ دوسری جانب، امریکن ایسوسی ایشن فار کینسر ریسرچ کے نو منتخب صدر اور آنکولوجسٹ روبرٹ ونڈرہیڈ، جو اس تجربے کا حصہ نہیں تھے، نے ’نیویارک ٹائمز‘ کو دیے گئے بیانات میں ان نتائج کو اس طبی شعبے کی سب سے بڑی کامیابیوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ موڈرنا اور مرک کمپنیوں نے سرجری کے بعد میلانلوما کے مریضوں میں کینسر کی واپسی کو روکنے کے لیے یہ جدید ویکسین تیار کی ہے، جس کے تحت محققین ہر مریض کے ٹیومر کے جینیاتی تسلسل کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں۔