LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
لطف آباد میں گھر کی دوسری منزل پر پراسرار آتشزدگی، بیوہ ماں اور دو کمسن بیٹیاں جاں بحق، قتل کا شبہ اسرائیلی انتخابات: ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو اتحاد کی برتری، اکثریت سے دور شہباز شریف نے مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا حکومت اور پیپلز پارٹی مذاکرات کا دوسرا دور ختم، بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق سعودی سفیر کی خواجہ آصف سے ملاقات، دفاعی تعاون مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ سہیل آفریدی سمیت دیگر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری کا حکم نامہ جاری برآمدات میں اضافے کیلئے جی ایس پی پلس فریم ورک سے بھرپور استفادہ کیا جائے: اسحاق ڈار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے 6 رفقاء کی فہرست جیل حکام کو جمع روہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے میں 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی مصنوعی ذہانت سے سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ، ہزاروں نوکریاں ختم ہوں گی حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا

مائیکرو پلاسٹکس اور پھیپھڑوں کے کینسر کے ممکنہ تعلق کا انکشاف

Web Desk

7 September 2026

ڈبلن/بارسلونا: ایک نئی بین الاقوامی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا افراد کے پھیپھڑوں میں مائیکرو پلاسٹکس کے باریک ذرات پائے جانے اور ان کی مقدار بالعموم زیادہ ہونے کے امکانات ہوتے ہیں۔

یونیورسٹی کالج ڈبلن اسکول آف میڈیسن (آئرلینڈ) اور یونیورسٹی آف تھیسالی (یونان) سے وابستہ ماہرِ امراضِ تنفس ڈاکٹر ایلیاس ڈیمیاس کی قیادت میں کی گئی یہ تحقیق بارسلونا میں منعقدہ ’یورپین ریسپائریٹری سوسائٹی‘ (ERS) کانگریس میں پیش کی گئی۔ محققین کے مطابق نتائج اس امر کے واضح شواہد فراہم کرتے ہیں کہ مائیکرو پلاسٹکس سانس کے ذریعے انسانی جسم اور پھیپھڑوں کی گہرائی تک داخل ہو سکتے ہیں۔ تاہم ماہرین نے واضح کیا ہے کہ اس تحقیق سے یہ حتمی طور پر ثابت نہیں ہوتا کہ مائیکرو پلاسٹکس براہِ راست کینسر کا سبب بنتے ہیں۔

ڈاکٹر ایلیاس ڈیمیاس کے مطابق مائیکرو پلاسٹکس عالمی ماحولیاتی آلودگی کا حصہ بن چکے ہیں لیکن انسانی جسم میں داخل ہونے کے بعد ان کے طویل مدتی اثرات اور بیماریوں سے ممکنہ تعلق کے بارے میں ابھی تک انتہائی محدود معلومات دستیاب ہیں۔ طبی ماہرین نے زور دیا ہے کہ روزمرہ زندگی میں ان ذرات کے جسم میں داخلے کے پیشِ نظر مزید اور وسیع پیمانے پر تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ پھیپھڑوں میں ان کی معمول کی سطح کیا ہے اور ان سے صحت کو کیا خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔