LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جرمنی میں پولیس نے 21 بموں کے ناکارہ بنادیا جاپان سندھ میں سیلاب سے بچاؤ کیلیے 16.4 ملین ڈالر کی گرانٹ دے گا پاکستان شدید ترین سیاسی، معاشی اور امن و امان کے بحرانوں کی زد میں ہے: علامہ راجا ناصر عباس سینیٹ داخلہ کمیٹی کا اجلاس: بلیو پاسپورٹس کی غیر قانونی تقسیم، نو ابجیکشن سرٹیفکیٹ اور سخت سزاؤں پر اہم سفارشات امریکا کے ساتھ سٹریٹجک اتحاد اچھی بات ہے مگر کافی نہیں: قطر مادرِ وطن کا دفاع مقدس امانت، ثابت قدمی سے نبھاتے رہیں گے: ایئر چیف مارشل ایران کی جنوبی کوریا کو خلیج فارس اور آبنائے ہرمز سے دور رہنے کی تنبیہ ٹرمپ کی ریاست نیو میکسیکو کا نام تبدیل کرکے نیو امریکا رکھنے کی تجویز قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال پاکستانیوں کے اہلخانہ پر پولیس کا دھاوا، 11 افراد گرفتاری کے بعد رہا امریکی ریپر نے نیوجرسی کانسرٹ کو فلسطین کے حق میں مظاہرے میں بدل دیا جنگ کے ابتدائی حملوں میں تباہ ہونے والے ایرانی سکول کو یادگار بنا دیا گیا بھارت کے یکطرفہ اقدامات متنازع جموں و کشمیر کی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتے: پاکستان جنگِ ستمبر و مئی میں پاک فضائیہ کے شاہینوں نے فیصلہ کن کردار ادا کیا: صدر، وزیراعظم پائلٹ آفیسر راشد منہاس شہید کے مزار پر پھولوں کی چادر چڑھانے کی تقریب پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا منفی زون میں آغاز

ڈارک میٹر کی تلاش میں اہم پیش رفت: سائنس دانوں نے غیر معمولی ذراتی تعامل ریکارڈ کر لیا

Web Desk

6 September 2026

کائنات کے سب سے بڑے رازوں میں سے ایک ‘ڈارک میٹر’ کی حقیقی نوعیت جاننے کی تلاش میں سائنس دانوں نے ایک غیر معمولی ذراتی تعامل (انٹریکشن) ریکارڈ کیا ہے، جسے اس پراسرار اور نظر نہ آنے والے مادے کی دریافت کے حوالے سے اب تک کے مضبوط ترین اشاروں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ تاہم، ماہرین اور محققین نے واضح کیا ہے کہ حتمی شواہد کی عدم موجودگی کے باعث اسے ابھی باضابطہ دریافت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ غیر معمولی واقعہ امریکی ریاست جنوبی ڈکوٹا میں زمین کے نیچے تقریباً ایک میل کی گہرائی میں قائم سینفورڈ انڈرگراؤنڈ ریسرچ فیسلٹی میں ‘لَکس-زیپلِن’ (LZ) تجربے کے دوران ریکارڈ کیا گیا۔ اس تجربے میں ڈارک میٹر کے اہم نظریاتی امیدوار ذرات ‘WIMPs’ کی تلاش کے لیے 10 ٹن انتہائی خالص مائع زینون کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

تحقیق کے دوران سامنے آنے والے اس تعامل کی وضاحت مروجہ اور معروف سائنسی پسِ منظر کے عمل سے کرنا فی الحال مشکل ثابت ہو رہا ہے۔ شماریاتی تجزیے میں اس سگنل کی عالمی اہمیت 2.6 سگما (Sigma) برآمد ہوئی ہے، جو کسی بھی سائنسی دریافت کے باضابطہ اعلان کے لیے درکار طے شدہ معیار (5 سگما) سے کم ہے۔ واضح رہے کہ کائنات کے کل مادے کا تقریباً 85 فیصد حصہ ڈارک میٹر پر مشتمل مانا جاتا ہے، جسے براہِ راست دیکھنا ممکن نہیں تاہم کہکشاؤں پر اس کے کششِ ثقل کے اثرات سے اس کی موجودگی ثابت ہوتی ہے۔ ایل زیڈ کی سائنسی ٹیم کا کہنا ہے کہ مزید ڈیٹا جمع کیا جا رہا ہے؛ اگر آنے والے مشاہدات میں یہ سگنل مزید مضبوط ہوتا ہے تو یہ ڈارک میٹر کی دریافت میں تاریخ ساز پیش رفت ہوگی، وگرنہ اسے کسی نامعلوم قدرتی پسِ منظر کا نتیجہ قرار دیا جائے گا۔