LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کے جوابی حملے، اردن میں امریکی اڈے کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ امریکا کا ایران پر پھر حملہ، شادی کی تقریب پر بمباری، 4 افراد شہید، 30 سے زائد زخمی محفوظ ڈیجیٹل ماحول ہر بچے کا بنیادی حق، مؤثر قانون سازی وقت کی ضرورت ہے: سارہ احمد ایران پر حملے اردن میں ہمارے فوجی اڈے پر حملوں کا جواب ہیں: صدر ٹرمپ قومی کرکٹ ٹیم کے اعزاز میں پاکستان ہاؤس لندن میں عشائیہ، محسن نقوی کی بھی شرکت خیبرپختونخوا کے وسائل پر صوبے کا حق، بقایاجات کیلئے عدالت جائینگے: سہیل آفریدی پٹرول ایک روپے 8 پیسے، ڈیزل 51 پیسے فی لٹر مہنگا بانی پی ٹی آئی کو جیل میں تمام سہولیات دی جا رہی ہیں: عقیل ملک امریکا کا ایران میں پاسداران انقلاب کے ٹھکانوں پر حملہ، قشم اور آبنائے ہرمز میں دھماکے پنجاب اسمبلی میں سندھ طاس معاہدہ، ماحولیاتی آلودگی سمیت متعدد قراردادیں منظور چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کراچی پہنچ گئے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول، امریکا جہازوں کو غلط ضمانتیں دے رہا ہے: ایران این ڈی ایم اے کا گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر میں ممکنہ سیلاب کا الرٹ پنجاب اسمبلی میں کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی کی قرارداد منظور 27 ستمبر کو پی ٹی آئی اسلام آباد حقوق کے حصول کیلئے آ رہی ہے: بیرسٹر گوہر

نیپال میں سیلابی ملبے سے کروڑوں روپے کا سونا اور نقدی برآمد

Web Desk

1 September 2026

کاٹھمنڈو: نیپال میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے بعد ملبے تلے دب جانے والی ایک بینک کی عمارت سے کروڑوں روپے مالیت کا سونا، نقد رقم اور اہم سرکاری دستاویزات باحفاظت نکال لی گئی ہیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نیپال پولیس اور ریسکیو اہلکاروں نے کئی گھنٹوں کے آپریشن کے بعد ‘کرشی وکاس بینک’ کی تریشولی ڈھونگے شاخ کے ملبے تلے دبے حفاظتی لاکرز تلاش کیے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بھاری مشینری کی مدد سے نکالے گئے ان لاکرز سے 50 کروڑ نیپالی روپے (تقریباً 500 ملین) مالیت کا سونا، ڈیڑھ کروڑ روپے نقد اور متعدد اہم دستاویزات برآمد ہوئی ہیں، جنہیں فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

پولیس کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں ریسکیو اہلکاروں کو بینک کے بیسمنٹ تک پہنچنے کے لیے کئی فٹ گہرا ملبہ ہٹاتے دیکھا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ نیپال میں حالیہ شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث درجنوں عمارتیں، گاڑیاں اور تجارتی مراکز مٹی اور ملبے تلے دب گئے ہیں، جبکہ کئی مالیاتی اداروں کو بھی شدید بنیادی ڈھانچے کا نقصان پہنچا ہے۔