LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ کا شہزادہ ہیری اور میگھن کی برطانیہ واپسی پر اظہار مسرت ایران پر ایک اور حملے کیلئے تیار، نئی مہم زیادہ دیر تک جاری نہیں رہے گی: صدر ٹرمپ ایران کے جوابی حملے: بحرین، اردن، یو اے ای، کویت میں امریکی اڈوں، ریڈار نظام کو نشانہ بنایا روس کا 24 گھنٹوں میں 1,330 یوکرینی فوجیوں کی ہلاکت، 2 اہم علاقوں پر کنٹرول کا دعویٰ جرمنی کے روس مخالف اقدامات کا سخت جواب دیا جائے گا، روسی وزارت خارجہ پرامن جوہری توانائی میں روس، چین کا کلیدی شراکت دار ہے: صدر پوتن سینٹ کام نے سیرک میں ایرانی شہریوں کو نشانہ بنانے کی سختی سے تردید کر دی ایرانی بارڈر گارڈز نے سمگل شدہ ایندھن لے جانے والا بحری جہاز قبضے میں لے لیا ایرانی کرنسی کی قدر میں تاریخی گراوٹ، ایک امریکی ڈالر 22 لاکھ ایرانی ریال کا ہو گیا ایران نے ابنائے ہرمز سے بغیر قواعد گزرنے والے مزید 11 بحری جہازوں کو بلیک لسٹ کر دیا حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا کنگ چارلس سے پاکستانی کرکٹ ٹیم کی ملاقات، محسن نقوی سے کرکٹ اور امن پر گفتگو ایران کی نئی حکمت عملی امریکی مفادات کی بنیادیں ہلا دے گی: محسن رضائی محسن نقوی اور برطانوی وزیر مملکت اسٹیفن ڈوٹی کے درمیان اہم ملاقات ایران کے راستے غیر قانونی عراق جانیوالے 17 مسافروں کیخلاف مقدمہ درج

جیا علی کا والدہ کے انتقال پر اہم انکشاف، صدمہ قبول کرنے میں 4 دن لگے

Web Desk

1 September 2026

نامور پاکستانی اداکارہ و ماڈل جیا علی نے اپنی والدہ کے انتقال اور اس کے بعد پیش آنے والی شدید ذہنی اور جسمانی مشکلات کے حوالے سے اہم اور جذباتی انکشافات کیے ہیں۔

ایک نجی پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے جیا علی اپنی والدہ کی یاد میں آبدیدہ ہو گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی والدہ کی شادی صرف 16 برس کی عمر میں ہوئی تھی اور انہوں نے پانچ بچوں کی پرورش اور خاندان کی کفالت کے لیے تمام عمر انتھک محنت کی۔ والدہ اپنی زندگی کے آخری ایام میں شدید علیل رہیں اور کومے میں چلی گئی تھیں، جنہیں اس حال میں دیکھنا اداکارہ کے لیے انتہائی دردناک تجربہ تھا۔ جیا علی نے افسوس کا اظہار کیا کہ وہ اپنی والدہ کی زندگی میں ان سے کھل کر محبت کا اظہار نہ کر سکیں۔

اداکارہ نے انکشاف کیا کہ والدہ کے انتقال کی خبر انہیں اسلام آباد میں ملی، تاہم اس شدید صدمے کے باعث وہ شدید ذہنی صدمے (Trauma) میں چلی گئیں اور اس حقیقت کو فوری تسلیم نہ کر سکیں۔ وہ لاہور میں تدفین میں شرکت کے بجائے کراچی چلی گئیں اور ان کا رابطہ بھی منقطع ہو گیا، جس کی وجہ سے والدہ کی تدفین دو دن کی تاخیر سے کی گئی۔ جیا علی کے مطابق انہیں یہ بات قبول کرنے میں چار دن لگے کہ ان کی والدہ اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس صدمے اور صدمے کے بعد کے ادوار میں وہ شدید ڈپریشن اور ایلوپیشیا (بال جھڑنے کی بیماری) کا شکار ہو گئی تھیں۔