LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان، سعودی عرب کا زرعی و غذائی برآمدات 3 ارب ڈالر تک بڑھانے کا عزم دادو کے کچے علاقے میں دو گروہوں میں فائرنگ کا تبادلہ، 8 افراد ہلاک کال سینٹر کے ذریعے غیر اخلاقی مواد کی فروخت: ایف آئی اے نے مزید 20 چینی شہریوں کو پاکستان بدر کر دیا پاکستان، ترکیہ اور سعودیہ مشترکہ سلامتی و اجتماعی دفاع کیلئے متحد ہیں: وزیراعظم وزیراعظم آزاد کشمیر کا انٹرنیٹ اور داخلی و خارجی راستے بحال کرنے کا اعلان امریکا کے وعدے پورے ہونے تک آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی: ایران چین کی معروف کمپنی کا پنجاب کے آئی ٹی سیکٹر میں اظہار دلچسپی نیپال میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 734 ہو گئی، 2,498 افراد لاپتہ شمالی کوریا کی فوجی کمان میں بڑی تبدیلی، وزیرِ دفاع سمیت کئی عہدیدار برطرف پاکستان اور ازبکستان کا اقتصادی روابط مزید مضبوط بنانے پر اتفاق اسلام آباد یادداشت پر عملدرآمد سے مشکلات پر قابو پا سکتے ہیں: ایرانی صدر جماعت اسلامی کے دھرنوں کے 2 ہفتے مکمل، آج راولپنڈی میں تاریخی جلسے کا اعلان بانی پی ٹی آئی کی بہن بتا چکی عمران خان بالکل فٹ ہیں، وزیر دفاع پمز سانحہ: بچوں کو بچانے کی کوششیں ثابت، 9 صفحات پر مشتمل رپورٹ جاری امریکا میڈیا کے ذریعے توانائی مارکیٹ میں ہیرا پھیری کر رہا ہے، عباس عراقچی

جیکب آباد میں سکیورٹی کلیئرنس نہ ملنے پر جعفر ایکسپریس پھر روک دی گئی

Web Desk

30 August 2026

اسلام آباد: پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (PIMS) ہسپتال میں بچوں کی المناک اموات کے افسوسناک واقعے پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کا اہم اجلاس کل پمز ہسپتال میں طلب کر لیا گیا ہے۔

سینیٹ سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ نوٹس کے مطابق بچوں کی اموات کا معاملہ اجلاس کے ایجنڈے کا واحد نکتہ ہوگا۔ اجلاس کی صدارت قائمہ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر عامر ولی الدین چشتی کریں گے، جو کل دوپہر 12 بجے پمز ہسپتال کے کانفرنس روم میں منعقد ہوگا۔ اجلاس کے دوران پمز حکام کمیٹی ارکان کو سانحے کی تازہ صورتحال، وجوہات اور اب تک سامنے آنے والی تمام تر تفصیلی معلومات پر بریفنگ دیں گے۔

قائمہ کمیٹی کے ارکان ہسپتال کے اندر کلینیکل پروٹوکول، مریضوں کے تحفظ کے تدابیر اور ممکنہ انتظامی خامیوں کا باریک بینی سے جائزہ لیں گے۔ اجلاس کے اختتام پر کمیٹی کے ارکان متاثرہ شعبہ جات اور جائے سانحہ کا دورہ بھی کریں گے، جبکہ مستقبل میں ایسے المناک واقعات کی روک تھام، غفلت کے ذمہ داروں کے تعین اور احتساب کو یقینی بنانے کے لیے حتمی سفارشات مرتب کی جائیں گی۔