LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پمز سانحہ: معصوم بچوں کی شہادت پر پوری کابینہ کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔علامہ راجہ ناصر عباس پمز ہسپتال آتشزدگی سانحہ: این آئی سی یو میں نیبولائزر پھٹنے سے آگ لگی، ابتدائی رپورٹ اسلام آباد میں نومولود بچوں کی ہلاکت انسانی تاریخ کا بدترین سانحہ ہے: بلاول بھٹو اسحاق ڈار کی لندن میں کامن ویلتھ سیکریٹری جنرل سے ملاقات ایرانی فوج مکمل طور پر چوکس، فضائی دفاعی صلاحیتیں مزید بہتر بنا رہے ہیں: علی رضا الہامی ایران جنگ: دبئی ایئرپورٹ پر مسافروں کی آمد میں ایک تہائی کمی نئی نسل کی کردار سازی سیرت النبی ﷺ کی تعلیمات کے مطابق کرنا ہوگی: وزیراعظم پمز واقعہ کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہو گی، خود کو احتساب کیلئے پیش کرتا ہوں: مصطفیٰ کمال پمز واقعے کے سی سی ٹی وی سمیت تمام شواہد محفوظ کر لیے گئے ہیں: طلال چوہدری ہسپتال واقعہ: حافظ نعیم نے حکومتی گڈ گورننس کے دعووں پر سوالات اٹھا دیے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر نئے امیگریشن کاؤنٹرز فعال اسحاق ڈار کی لندن میں پاکستان نژاد برطانوی ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات پمز واقعہ: لاپرواہی ثابت ہوئی تو کسی کو نہیں چھوڑا جائے گا، وفاقی وزیر صحت پمز ہسپتال میں زیادہ بچوں کی اموات دم گھٹنے سے ہوئیں: طارق فضل چودھری سعودی کابینہ کا آبی گزرگاہوں کو کھلا اور محفوظ رکھنے کی ضرورت پر زور

نیتن یاہو نے ایران کے ساتھ سفارتی معاہدے کے امکانات مسترد کردیے

Web Desk

26 August 2026

یروشلم: اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران کے ساتھ سفارتی معاہدے کے امکانات کو صریحاً مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ ایرانی قیادت کے ساتھ کسی قابلِ اعتماد یا نتیجہ خیز معاہدے تک پہنچنا ممکن نہیں ہے۔

ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم نے ایرانی حکمرانوں کے خلاف سخت موقف اپنایا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ حالیہ ملاقات میں ایران کے ساتھ سفارت کاری کے راستوں پر تبادلہ خیال کیا، تاہم ان کا ماننا ہے کہ موجودہ صورتحال میں سفارتی کوششوں کی کامیابیاں انتہائی محدود ہیں۔

نیتن یاہو نے ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کی گئی نئی مالی و معاشی پابندیوں کی مہم کی تعریف کی اور اسے وقت کی ضرورت قرار دیا۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف اقتصادی، فوجی اور سفارتی دباؤ کا توازن برقرار رکھنا واشنگٹن اور تل ابیب کے لیے ایک بڑا چیلنج رہے گا۔