LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بلاول بھٹو کا پارلیمان کو فعال بنانے پر زور، اپوزیشن کو کمیٹیوں میں واپسی کی دعوت ایران کا متحدہ عرب امارات کا ٹینکر قبضے میں لینے کا دعویٰ غیر قانونی کال سینٹر چلانے پر 275 غیر ملکی گرفتار، 76 کو واپس بھیجنے کا فیصلہ بلاول بھٹو کی اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات، پارلیمانی امور، ملکی سیاست پر گفتگو عمران خان کو جیل مینوئل کے مطابق علاج کی سہولتیں ملتی رہیں گی:عطا تارڑ بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر ریٹیلر ایپ کا اجراء، چھوٹے دکانداروں کیلئے ٹیکس سکیم آسان بنا دی: وزیر خزانہ محسن نقوی کا پاسپورٹ آفس گارڈن ٹاؤن کا دورہ، شہریوں کی شکایات پر برہم اسحاق ڈار کا ترک وزیر خارجہ سے رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال پاکستان SCO اجلاس کی میزبانی کرے گا، اسحاق ڈار کا تیاریوں پر اظہارِ اطمینان جنگ کے دوران امریکا نے مذاکرات کی درخواست کی: ایرانی وزیر خارجہ بلوچستان سے جلد دہشت گردی کا جڑ سے خاتمہ ہوجائے گا: صدر زرداری نواز شریف اور مریم نواز سے سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کی الوداعی ملاقات پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز ڈونلڈ ٹرمپ کا کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد نئے ٹیرف روکنے کا اعلان

فون سے اسکرین شاٹ محفوظ کرنا یادداشت کمزور کر سکتا ہے: تحقیق

Web Desk

19 August 2026

موبائل فون سے کسی اہم لمحے کی تصویر بنانا یا سکرین شاٹ محفوظ کرنا بظاہر چیزوں کو یاد رکھنے میں مددگار معلوم ہوتا ہے، تاہم ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ایسا کرنے سے انسانی دماغ کی معلومات کو یاد رکھنے کی صلاحیت کمزور ہو سکتی ہے۔

امریکا کی بِنگہیمٹن یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات سے وابستہ محققین کی جانب سے کی جانے والی تحقیق کے مطابق، جو افراد کسی چیز کو یاد رکھنے کے لیے خود اس کی تصویر کھینچتے ہیں، بعد میں اس کی باریک تفصیلات یاد رکھنے کے معاملے میں وہ ان لوگوں کے مقابلے میں پیچھے رہ جاتے ہیں جنہوں نے تصویر نہیں بنائی ہوتی۔ معروف سائنسی جریدے ’میموری اینڈ کاگنیشن‘ میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں ماہرین نے اس عمل کو ’فوٹو-ٹیکنگ امپیئرمنٹ ایفیکٹ‘ (Photo-Taking Impairment Effect) کا نام دیا ہے۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ صوفیہ فیبریزیو کے مطابق لوگ کسی واقعے یا معلومات کی تفصیلی معلومات زیادہ آسانی سے بھول جاتے ہیں اگر وہ بعد میں اپنے فون میں محفوظ کی گئی تصاویر کا دوبارہ جائزہ نہ لیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ جدید دور میں ہر اسمارٹ فون صارف کی گیلری میں ہزاروں تصاویر محفوظ ہوتی ہیں جن میں روزانہ کی بنیاد پر مزید اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اگرچہ بعد میں تصاویر دیکھنا یادداشت کو تازہ کرنے میں مدد دے سکتا ہے، لیکن صرف تصویر کھینچ کر اسے کیمرہ رول میں چھوڑ دینا اور دوبارہ نہ دیکھنا دماغی یادداشت کو بہتر بنانے کی بجائے اسے سست کرنے کا سبب بنتا ہے۔